تازہ ترین

خواتین کی ترقی میں ڈبلیو ڈی بی کا کردار۔ تحریر: ایس ایس ناصری

یہ مقولہ مشہور ہے کہ ہر کامیاب فرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے ۔غرضیکہ اس نصف آبادی کی کامیابی کا سبب بھی یہی ہستی ہے اور اس پاکیزہ ہستی کا مثبت و مضبوط معاشعرتی کردار انفرادی، اجتماعی و عالمی استحکام کی ضمانت ہے۔کسی بھی معاشرے اور ریاست کی ترقی کا دارومداد اس معاشرے میں بسنے والے ان افراد پر منحصر ہوتا ہے جو معاشرے کی ترقی اور استحکام کے حوالے سے سوچنے کے ساتھ معاشرے کی ہر فرد کی کامیابی اور کامرانی کیلے اپنی زہانت اور قابلیت کو استعمال میں لاتے ہوئےمعاشرے میں کی جانے والی منفی باتوں اور پروپیکنڈوں کو ایک کاں سے سن کر دوسرے کاں سے نکال کر صرف اور صرف الله کی قربت حاصل کرنے کیلے فی سبی لاللٰہ کام کرتے ہیں اور معاشرے میں متوسط اور غریب طبقے کو ایک بہتریں زندگی گزارنے کے حوالے سے دن رات سوچ بچار کر کے انہیں تمام تر سہولیات پہنچاتے ہیں اور اس طرح کےکاموں میں نہ انہیں کسی قسم کی کوئی لالچ ہوتی ہیں اور نہ ہی کوئی اور مقصد وہ صرف اور صرف جزبہ خدمت کے تحت غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور انہیں معاشعرے کا اہم فرد بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں چاہے وہ مردوں کے حوالے سے ہو یا عورتوں کے حوالےسے۔ویسے اگر دیکھا جائے تو آج کے اس پر آشوب اور وانفسی کے دور میں کسی کیلے وقت نکالنا اور کسی کیلے کام کرنا عقل نہ ماننےوالی بات ہے لیکن ایسی بات بھی نہیں کہ معاشعرے میں ہر کوئی برابر ہو جب خداوند متعال نے انسانوں کیلے دو ہاتھ دی ہیں اور ان ہاتھوں کیلے پانچ پانچ انگلیاں اور ان انگلیوں میں بھی برابری اور متوازن نہیں ہے تو جس معاشرےمیں ہزاروں لوگ بستے ہوں اور وہ بھی مختلف علاقوں ،مختلف، زبان بولنےوالے تو ان میں یکسانیت کیسے ممکن ہے جہاں برے انسان ہوتے ہیں وہاں الله کے اطاعت گزار اور نیک بندے بھی ہوتے ہیں اور انہی نیک بندے ہی معاشرے کی ترقی اور استحکام کا سوچ کر اس سوسائٹی کے ہر فرد کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور معاشرے سے مفلسی وغربت کی بادل کو ہمیشہ کیلے ختم کرنے کیلے کسی نہ کسی طریقے سے کام کر رہے ہوتے ہیں اور نہار ولیل سوسائٹی کے بارے میں سوچتے ہیں۔انہی نیک اور ترقی پسند بندوں میں مرد بھی ہے اور عورتیں بھی جو ہمیشہ عدل وانصاف، خواتیں کی ترقی، مرد اور عورت کے مابین پائے جانے والی فرق کے خاتمے، عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دلانےاور خواتیں کو اسلامی حدودو قیود میں بیٹھ کر اپنے گھروں سے نکالسے نکال کر مختلف کام اور ہنر سے انہیں انکے جائز مقام دلانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ان کے ترقی کیلے اداروں کی قیام سے لیکر اداروں کی مضبوطی اور ان اداروں میں بلا معاوضہ عورتوں کیلے مختلف ہنر سکھا کر انہیں معاشرے میں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا تا ہے۔بلتستان میں اسطرح کے بہت سارے لوگ موجود ہے جو مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں اور بلتستان کی ترقی وتعمیر میں اپنے حصہ کا دیا جلا رہے ہیں۔بلتستان کی اس ادب شناس معاشرے میں جہاں مرد حضرات صبح سے لیکر شام تک مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں وہاں خواتیں بھی مردوں سے پیچھے نہیں آج کے دور انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے دور کہلاتا ہے لیکن آج سے بیس سال سے زائد عرصہ قبل بھی یہاں کے بعض خواتیں گھروں سے نکل کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتے تھے اور اس وقت انہیں ہر قسم کی باتیں سنے کو ملتی تھی لیکن انہوں نے کسی قسم کی بات پر کاں نہ دھرے اور بات بنانے والوں کو بتانے لگیں کہ آپ لوگ جس قسم کی باتیں کرنی ہیں تو کریں مگر ہم اپنی قابلیت کو دفن ہونے نہیں دین گے انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی قابلیت کے ساتھ زہانتباور ایمانداری سے جس شعبے کا انتخاب کیا تھا لوہا منوالیئے اور آج الحمدالله ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سینکڑوں بلکہ ہزاروں خواتیں خطے کی تعمیرو ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ماضی میں اپنے گھروں سے نکل کر ملک وقوم کی ترقی کیلے کام کرنے والی خواتیں پر انگلی اٹھانے والے آج مکمل طریقے سے سمجھ چکے ہیں اور ہر کوئی خواتیں کی حقوق اور ان کے ترقی کے حوالے سے نعرے لگا رہے ہیں یہ تبدیلی ان خواتیں کی مرہوں منت ہے جنہوں نے لوگوں کی باتوں پر عمل کیئے بغیر اپنی محنت جاری رکھی اور آج انہیں کامیابی ملی۔ آج دنیاء کی ترقی کو کچھ لمحے پیچھے رکھ کر صرف اور صرف گلگت بلتستان کی ترقی کا ہم مطالعہ کریں تو ہمیں واضح طور پر ان خواتیں کی کردار نظر آتے ہیں جو ہمیشہ خطے کی تعمیرو ترقی کا سوچ رکھنے کے ساتھ اپنی ہم جنس یعنی عورتوں کی امپاورمنٹ ان کے مشن ہے اور اس مشن کو کامیاب بنانے کیلے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرہی ہے۔بلتستان کے خواتیں کو بااختیار اور مضبوط بنانےکیلے بہت سارے ادارے کام کر رہے ہیں اور خواتیں کی ترقی کیلے مختلف منصوبے ترتیب دیے جارہے ہیں لیکن اکثر اداروں کا انحصار نیشنل اور انٹر نیشنل اداروں پر ہوتا ہے اور زیادہ تر قومی اور بین الاقوامی اداروں سے ملنے والے فنڈ پر منحصر ہوتا ہے اگر کوئی ڈونر فنڈ نگ نہ کرے تو وہ ادارے اس انداز سے کام نہیں کر پاتے جس انداز سے وہ کرنا چاہتے ہیں لیکن بعض ادارے ایسے بھی ہے جنہیں کہیں سے فنڈ ملے یا نہ ملے اپنی جیب پر بوجھ ڈال کر صرف اور صرف بلتستان کی خواتیں کی فلاح وبہبود اور ترقی کے پیش ونظر کام کررہے ہوتے ہیں انہی اداروں میں سے ایک قابل زکر ادارہ جو ہمیشہ بلتستان کی ترقی اور بلتستان کے علاوہ گلگت بلتستان کی خواتیں کی ترقی اور انہیں ہر موڑ پر اپنی حقوق کی دفاع کرنے کے قابل بنانے کے ساتھ ملک کے دیگر شہروں کے خواتیں کے برابر لانے کیے ایک عزم صمیم لیکر خداوند متعال کا نام لیکر بنیاد ڈالی اور اس دن سے لیکر آج تک ویمن ڈیویلپمنٹ بلتستان کے نام سے نہ صرف بلتستان کے خواتیں کی فلاح بہبود کیلے کا کررہی ہے بلکہ پورے گلگت بلتستان کی خواتیں کو ترقی کے پٹری پر لانے میں مصروف عمل ہے۔ڈبلیو ڈی بی کی بنیاد آج سےچھبیس سال قبل یعنی 1991کو بلتستان کی کچھ ترقی پسند خواتیں نے رکھی جبکہ باقاعدہ طور پر سوشل ویلفئیر ایکٹ 1960 کے تحت رجسٹرڈ 2000ء میں ہوئی۔ بلتستان کی ان ترقی پسند خواتیں میں زرینہ تبسم کے نام سرفہرست ہے جو اس ادارے کے بانی ہے۔انہوں نے ہمیشہ خواتیں کو با اختیار بنانے اور خواتیں کو مردوں کے برابر لانے کیلے دن رات محنت کی آج بلتستان کے اکثربیشتر خواتیں انہیں اپنا آئیڈئیل بنا کر کام کر ہی ہیں زرینہ تبسم نے بلتستان کے مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں بسنے والی خواتیں کو ان کے جائز حقوق دلانے اور انہیں اپنے پاؤں پر مستحکم کرانے کیلے مختلف ہنر سکھا نے کا سلسلہ شروع کی اور انہوں نے کسی بھی قومی ودیگر اداروں پر انحصار نہیں کی اور اپنی مدد آپ کے تحت اپنے ہم خیال خواتیں کو ساتھ لیے ان خواتیں کی مدد کیلے ہمہ وقت تیار رہے اور آج ان کی محنت رنگ لے آئی ہے بلتستان میں اس وقت سینکڑوں ادارے ایسے ہیں جوخواتیں کی ترقی اور انہیں ہنر سکھانے کا کام کر رہے ہیں ان میں زیادہ تر زرینہ تبسم کی خوابوں کی تعبیر ہے۔زرینہ تبسم اور دیگر خواتیں کی محنت اور خلوص کی بدولت آج ویمن ڈیویپنٹ بلتستان ایک نھنا پودے سے تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اس درخت کے پھل سے ہزاروں خواتیں مستفید ہو رہی ہیں اس وقت سمال گرانٹ ایمبیسڈر فنڈ پروگرام یو ایس ایڈ (سگاف) کے مالی تعاؤں اور ڈبلیو دی بی کے اشتراک سے 120خواتیں کیلےگارمنٹس میکنک اور یونیفارم میکنگ کی تربیت دےرہی ہے اور انہیں ہنر مند بنانے کیلے بھر پور انداز میں کام کر رہی ہے۔ان کا مشن ہے کہ خواتیں ہنر سیکھیں تاکہ اس ہنر کے زریعے اپنے کنبےاور معاشرے کی معیشیت کیلے سہارا بں سکے۔اس ٹرینگ میں شامل خواتیں کا تعلق بلتستان کے مختلف علاقوں سےہیں زیادہ تر خواتیں کا تعلق بیک ورڈ ایریاء سے ہیں جو کرگل وار کے دوراں ہجرت کر کے سکردو میں آباد ہوئی ہیں ان خواتیں کے مسائل اور مشکلات کے باعث اس ادارے نے ہمیشہ ان کے ساتھ تعاؤں کی ہے اور انہیں زندگیبکی تمام ترسہولیات فرام کرنے میں لیت ولعل سے کام نہیں لےرہی ہے۔اس ادارے کے تحت برولمو کالونی جو سوفیصد مہاجرین کرگل وار کی ہے یہان ایک ایم سی ایچ سینٹر بھی عرصہ دراز سےکام کرہی ہے اور اس وقت بھی یونیفارم میکنگ سینٹر بھی اسی کالونی میں موجود ہےجبکہ فیشن ڈیزائن سنیٹر میونسپل کمیونٹی ایریاء میں قائم کیا گیا ہے اس سینٹر میں بھی زیادہ تر خواتیں بلتستان کے دور دراز علاقوں اور وادیوں سے ہے۔ویمن ڈویلپمنٹ بلتستان کا یہ مشن ہے کہ ان خواتیں کو فیشن ڈیزائنگ اور یونیفارم میکنگ میں ایکسپرٹ بنانے کے بعد بلتستان کی مارکیٹ میں یہاں سے ہی پروڈکٹ مہیا کریں اس مشن کو لیکر زرینہ تبسم کی سرپرستی میں ڈبلیو ڈی بی دن رات کام کر رہی ہے ان کا یہ اقدام قابل ستائش ہے ان کی اس مشن کی کامیابی سے نہ صرف بلتستان بلکہ گلگت بلتستان کی گارمنٹس اور یونیفارم مارکیٹ میں انقلاب آئیگا اس ادارے نے ایک منضم پالیسی کے تحت تربیت حاصل کرنے والے خواتیں کو ہمیشہ کامیاب بنانے کیلے گلگت بلتستان کے مارکیٹ میں انکی مصنوعات کی پروموٹ اور سیل کیلے باقاعدہ مارکیٹنگ نظام متعارف کیا ہے جس کیلے ماہر قابل اور تجربہ کار ایم بی اے ڈگری ہولڈر نوجواں آغا رضا کی خدمات لےرہے ہیں اور وہ اس مصنوعات کی تشہیر اور مارکیٹنگ کیلے بہتریں طریقے سے کام کر رہے ہیں اس ادارے کے مارکیٹنگ منیجر آغا رضا کا کہنا ہے کہ بلتستان میں پہلی بار یونیفارم میکنگ اور فیشن ڈیزائن پر کام ہورہا ہے اور اس سے یہاں کی دکانداروں اور سکولوں کے طلباءوطالبات کیلے سہولیات ملیں گیں یہان بنے والی وردیان نہ صرف کوالٹی کے لحاظ سے بہتریں ہے بلکہ موسمی حالات کو بھی مد ونظر رکھ کر ڈیزائن کی گی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہان کی ثقافت کو پروموٹ کرنےکیلے بھی پرانے زمانے کے لباس کی تیاری اور اس لباس کو جدیدیت کے ساتھ متعارف کیا گیا ہے اس ادارے میں تیار ہونے والی ملبوسات کو ملک عزیز پاکستان میں شہرت حاصل ہوئی ہے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک نمائش میں اس ادارے کے زیر اہتمام تیار ہونے والی ملبوسات نمائش کیلے رکھی گئی جہاں بہت پزیرائی ملی اس کے ساتھ ان کپڑوں اور ڈیزائنوں کو بلتستان میں بھی متعارف کرنے کیلے بھی ایک نمائش لگائی گئی تھی جو بہت مقبولیت کی سطح تک پہنچی اس ادارے میں تیار ہونے والی اشیاء کی مقبولیت اور کامیابی میں ادارے کے ہر فرد اور پوری ٹیم کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ڈبلیو ڈی بی کی اس کاوشوں کی کامیابی کے بعد بلتستان میں گارمنٹنس اور فیشن ڈیزائن کی مارکیٹ سے وابسطہ لوگوں کو ملک کے دیگر شہروں کی طرف جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور انہیں بلتستان میں ہی اپنی ضروریت کے تمام تر گارمنٹنس ملیں گیں اس سے نہ صرف دکانداروں کو سہولیات ملے گا بلکہ ان مصنوعات پر کام کرنے والی خواتیں کو بھی فائدہ ملیں گے۔اسطرح ویمن ڈویلپمنٹ بلتستان کی خدمات قابل فخر اور قابل تحسین ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*