تازہ ترین

وزیر اعلیٰ کا دورہ دیامر ۔کھودا پہاڑ نکلا چوہا عوام نے دورے کا وقت کا ضیاع قرار دے دیا۔

وزیر اعلیٰ کا دورہ دیامر ۔کھودا پہاڑ نکلا چوہا عوام نے دورے کا وقت کا ضیاع قرار دے دیا۔
چلاس سے خصوصی سروے رپورٹ۔
ْترتیب وپیشکش: تحریر نیوز بیورو سروے۔

وزیر اعلیٰ کا دورہ دیامر کے حوالے سے اہلیان دیامر نے بڑی امیدیں لگائے بیٹھے تھے لیکن اُنکے دورے میں سوائے سیاسی مخالفین پر الفاظ کے تیر چلانے اور سادہ لوح عوام کو باتوں کے ذریعے تسلی دینے کے کچھ نہیں ملا۔ ہم نے اس سلسلے میں دیامر کے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے خصوصی طور پر سروے کا جس کا احوال قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے دورہ دیامر میں بار بار مسلکی ایشوز کو چھیڑ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہاں کے عوام کچھ نہ ملکربھی خاموش رہیں کیونکہ وہ اُنکے عقیدے کا ہے اس سلسلے میں عوام کا کہنا ہے کہ یہ مسلکی کھیل اب ختم ہوجانا چاہئے دنیا کہاں سے کہاں پونچ گئی ہے لیکن دیامر کے عوام کے اس قسم کے غیر ضروری ایشوز میں الجھا کریہ لوگ ہمیشہ مفادات حاصل کرتے رہے ہیں۔
دیامر پریس کلب کے ایک سنئیر صحافی نے اس حوالے سے بتایا کہ جناب وزیر اعلیٰ صاحب نظام یوں نہیں چلے گا۔ترقیاتی منصوبے آبادی اور مسائل کے بنیاد پہ تقسیم ہونے چاہے۔ دیامر کے عوام کو اُن سے بڑی اُمیدں وابسطہ تھی لیکن اُنہوں دورہ چلاس میں عوام کو مایوس کیا۔ ایک اور صحافی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو صرف اس بات کا خوف کہ سنی وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے سنی اکثریتی علاقے کو انکا حق دیا تو دیگر اضلاع کے لوگ کیا کہیں گے آج کے اس دور میں ایک گمراہ کن دلیل ہے جس کا مقصد عوام کو مسلک کی آڑ میں بیوقوف بنائے رکھنا ہے۔
چلاس کے ایک شہری سے جب ہم نے اس حوالے سے سوال کیا تو اُنکا کہنا تھا کہ مسلک کے نام پر ووٹ لینے والے وزیر اعلیٰ منصب ملنے پر مسلکی سوچ کے تحت دیامر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو دیامر کے عوام کیا سوچیں گے کبھی وزیر اعلیٰ کو تنہائی میں بیٹھ کر سوچنا ہوگا۔چلاس بازار سے گزرتے ایک طالب علم سے ہم نے اُن کے دورے کے حوالے سے سوال کیا تو مسکرا کر کہنے لگے کہ وزیر اعلیٰ کے مطابق گلگت بلتستان میں تعمیر اور ترقی کا دور دورہ ہے لیکن اس بہتی گنگا میں دیامر کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دیامر میں سیاسی قیادت کا فقدان ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ نئے ضلع بن گئے وزیر اعظم نے گلگت بلتستان کیلئے حکومتی خزانے کھول دئیے لیکن دیامر میں وہی فرسودہ نظام وہی مذہبی پتہ وہی لوگ فقط جیب بھرنے کے علاوہ کیا کرتے ہیں ہم سب کے سامنے ہے۔ دیامر بازار میں ایک دوکاندار سے جب ہم نے اُن کے دورے کے حوالے سے سوال کیا تو پھٹ پڑے اور کہنے لگے میں نظریاتی طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کا کارکن ہوں لیکن پچھلے دور حکومت نے ہمیں مایوس کیا اس وجہ سے اس بار کچھ مذہبی رہنماوں کے مشورے پر نہ صرف حفیظ الرحمن کو ووٹ دیا بلکہ الیکشن میں خرچہ بھی کیا لیکن آج اُنکی حکومت کے بھی آخری دن چل رہے ہیں دیامر میں کچھ نہیں بدلا سوائے چند افراد کے نوکریوں کے۔ ساتھ کھڑے ایک اور شخص نے بڑے جوشیلے انداز میں کہا کہ میگا منصووں کا بار بار ذکر کیا لیکن دیامر میں کتنے منصوبے لگائے اسکا کوئی خبر نہیں یہ سب چور ہیں مذہب کے نام سے سیاست میں چوری کرنے آئے ہیں۔ ایک مقامی ہوٹل پر بیٹھے کچھ افراد سے پوچھا تو وہاں پر موجود ایک شخص جو سیاسی لگ رہا تھا کہنے لگے درستان کے دو صوبے دریل تانگیر کو ملا کر ہر دور میں صرف نعرے لگے لیکن حفیظ الرحمن نے اُس نعرے کو بھی ختم کرکے داریل تانگیر ضلع کی فائل کو دفن کردیا ہے۔ ہوٹل کے منیجر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ہم روز اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ گلگت میں سیوریج سسٹم بنایا،ویسٹ مینجمنٹ کا قیامعمل میں لایا اسی طرح گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹیسے لیکر گیس کی فراہمی کے منصوبوں پر اربوں خرچہ کیا جارہا ہے لیکن چلاس کیعوام دریا کنارے آباد ہو کر بھی پانی کی ایک ایک بوندکیلئیکو ترس رہے ہیں، بجلی بھی نہیں ہے ۔ وہیں موجود ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ الیکشن میں قاضی صاحب کی طرف سے پیغام آیا مسجد میں اعلان ہوا کہ سُنی وزیر اعلیٰ کو ووٹ دو تاکہ مسائل حل ہوسکے لیکن آج دیامر میں لوگ صحت جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ دیگرشہر وں میں ہسپتالوں کی تعمیر اور جدید مشینری کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کی جارہی ہے ۔
ایک صاحب جو مسلم لیگ نون کے کارکن تھے اُنہوں نے وزیر اعلیٰ کی کچھ تعریفوں کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہر دور میں مسلم لیگ نون کا ساتھ دیا اور دیتے رہیں گے لیکن وزیر اعلیٰ صاحب سے شکوہ یہی ہے کہ بلتستان یونیورسٹی بن سکتا ہے جگلوٹ سکردو روڈ بن سکتا ہے تو دیامر میں ایک یونیورسٹی کیوں نہیں۔ بلتستان والے آج بھی وزیر اعلیٰ کو طالبان کہتے ہیں اُنہوں نے وزیر اعظم کا استقبال تک نہیں کیا لیکن وہ لوگ اپنا حق چھین کر لیتے ہیں مگر دیامر میں ایسا نہ ہونا افسوس کی بات ہے۔ چلاس بازار میں میں کراکری کے ایک بڑے اسٹور کے مالک سے ہم نے پوچھا تو وہ بھی آپے سے باہر ہوگئے اور کچھ نازبیا الفاظ کے ساتھ اُنکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے دوران مسجد مسجد قاضی صاحب کا پیغام لیکر مذہب کی بنیاد پر عوام کو بیووقوف بنانے والا شخص آج اوقات بھول گیا ہے اور چلاس میں آکر یہاں کے عوامی مسائل کی حل کیلئے ہر فورم پر احتجاج کرنے والوں پر غداری جیسے الزامات لگا کر اپنا جرم چھپانے کی کوشش کرتے رہے جو کہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک دوکان کے دروزے پر نواز شریف کی فوٹو لگی تھی ہم نے اُن سے پوچھا تو اُنہوں اُنکے آنے کو ہی دیامر کیلئے عزت قرار دیا۔ اور مسائل کی حل کیلئے مسلم لوگ ہی کو چلاس کا اصل درمند جماعت قرار دیکر ہمیں چاہئے کی دعوت دی۔

  •  
  • 110
  •  
  •  
  •  
  •  
    110
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*