تازہ ترین

بیت المقدس کی آبادکاری، ریاست مدینہ کی ویرانی 1400سال قبل کی گئی پیشنگوئی جوآج سچ ثابت ہورہی ہیں

بیت المقدس کی آبادی، مدینہ کی ویرانی کے حوالے سے 1400سال پہلے کی گئی پیشنگوئی موجود حالات آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔پوری دنیا خصوصاً پاکستان کا لبرل، سیکولراورمغرب زدہ بددیانت دانش ورطبقہ جب آج کے دورکے مسلمانوں‌ کوذلیل ورسواکرنا چاہتا ہے، انہیں احساسِ کمتری کے اندھے کنویں میں دھکیلنا چاہتا ہے۔توان کے سامنے یہودی اورخصوصاً اسرائیلی سائنس دانوں، موجدوں، محققوں، ادیبوں اورعالمی سطح کے دانشوروں کی ایک فہرست پیش کرتا ہے، جن میں لاتعداد ایسے ہوتے ہیں جنہیں نوبل پرائزجیسے عالمی انعامات ملے ہوتے ہیں اورپھرپوری مسلم امت کوشرم دلاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم اس قوم سے لڑنے جا رہے ہو، تم میں ہمت ہے ان کا مقابلہ کرنے کی، تم ایک محتاج اورمحکوم امت ہو، اس لیے تم خاموشی سے اپنی شکست تسلیم کرلو. یہ بددیانت، دانشورطبقہ اس مسلمان امت کویہ نہیں بتاتا کہ اس یہودی قوم کویہ عروج اس دن سے حاصل ہونا شروع ہوا، جب سے انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ہم ایک خدا، ایک تورات، ایک شریعت کی بنیاد پرایک قوم ہیں. ہم میں سے کوئی جرمنی رہتا ہویا امریکہ میں، نائجیریا میں ہویا فلپائن میں، وہ ایک قوم ہے اوراس کا اس ملک سے محبت کا کوئی رشتہ نہیں ہے، بلکہ اسے اس بات پرکامل ایمان اورمکمل یقین رکھنا چاہیےکہ اس نے ایک دن اس ارض مقدس یروشلم میں لوٹنا ہے. جہاں ان کا مسیحا آئے گا اوروہ ان کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام اورحضرت سلیمان علیہ السلام جیسی علامی حکومت قائم کرے گا. اس یقین اورایمان کے ساتھ وہ اس بات کے لیے بھی مسلسل تیاری کررہے ہیں کہ انہوں نے اس عالمی حکومت کے قیام کے لیے مسلمانوں سے ایک بہت بڑی عالمی جنگ لڑنی ہے. یہ تصورجس دن سے ان کے دماغوں میں راسخ ہوا اورانہوں نے بحیثیت قوم اس پریقین کرتے ہوئے عملدرآمد شروع کیا، اس کے بعد ان کی ترقی کی منزلیں طے کرنے کی رفتارناقابلِ یقین حد تک تیز ہوگئی.

اس کے بعد سے آج تک انہوں نے اس عالمی حکومت کے قیام کے عقیدے کے راستے میں آنے والے ہرسیکولر، لبرل اورآزاد خیال، روشن خیال نام نہاد مذہبی سکالرکواپنے ہاں پنپنے نہیں دیا. ان کے ہاں کوئی مرزا غلام احمد کی طرح جھوٹا مسیحا بن کرنہیں ابھرا اورنہ ہی ان میں غلام احمد پرویزاورجاوید غامدی جیسے سکالروں نے عزت حاصل کی، جودلیلوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ مسیحائی آمد کا تصورایک جھوٹ ہے اوریہ یہودیوں کوبے عمل بنانے کی ایک سازش ہے. انہوں نے ثابت کیا کہ انہیں باعمل بنایا ہی اس تصورنے ہے کہ ایک دن ان کا مسیحا آئے گا اورعالمی حکومت قائم کرے گا. تقریباً دوہزارسال کی غلامی اوربدترین ذلت اورمحکومی کی زندگی گزارتے ہوئے یہ قوم ایک معاشرتی لعنت بن چکی تھی. ہرکوئی ان سے نفرت کرتا، انہیں اپنے شہروں سے دربدرکرتا، علیحدہ لباس پہننے اورگلے میں شناخت کے لیے تختی لٹکانے کوکہا جاتا۔ملکوں ملکوں بکھری یہ ذلیل ورسوا قوم 1896ء میں ایک جگہ اکٹھا ہوئی اورانہوں نے اس تصورکے مطابق آگے بڑھنے کا ارادہ کیا جوان کی مذہبی کتابوں میں درج تھا کہ تمہارا مسیحا آئے گا اورپھرتم پوری دنیا پریروشلم سے حکومت کروگے. آئندہ آنے والے سالوں کے لیے انہوں نے ایک ہدایت نامہ ترتیب دیا جسے “Protocols of the Elders of Zion” صہونیت کے برزگوں کا مسودہ کہتے ہیں.اس کے ٹھیک گیارہ سال بعد انہوں نے بالفورڈکلیریشن کے ذریعے پوری دنیا کی قوموں سے یہ بات منوا لی کہ دنیا بھر میں بسنے والے تمام یہودی ایک قوم ہیں، خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں یا کسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں اوران کوارض فلسطین میں آباد ہونے کا حق ہے. 9 نومبر 1914ء کوبرطانوی کابینہ میں پہلی دفعہ صیہونیت اورپروٹوکول زیربحث آئے اورچاردن بعد انہوں نے خلافتِ عثمانیہ سے جنگ کا اعلان کردیا. 21 جنوری 1915ء کوبرطانوی کابینہ میں ہربرٹ سیموئل کا میمورنڈم “فلسطین کا مستقبل” پیش ہوا. اس کے بعد جدید بینکاری اورسرمایہ دارانہ نظام کے اہم ترین یہودی ستون لارڈ روتھ شیلڈ (Rothschild) نے 21 جنوری 1917ء کوپہلا ڈرافٹ تحریرکیا. اگست میں بالفورنے چند لفظوں کی تبدیلی کی، وہ بھی گرائمرکی حد تک اورپھریہ الفاظ تاریخ میں گونجے کہ “برطانیہ کی حکومت فلسطین میں ایک یہودی ماردوطن کے قیام میں تمام کوششیں صرف کرے گی اوردنیا بھرمیں بسنے والے یہودیوں‌ کوایک قوم تصورکرتے ہوئے وہاں بسنے کا حق ہوگا”. اس کے بعد 1919ء میں پہلا یہودی قافلہ لندن، پیرس، برلن اورنیویارک جیسے ماڈرن شہروں میں‌اپنی اربوں ڈالرکی جائدادیں اورکاروبارچھوڑکربحرِطبریہ عبورکرکے حیفہ اورتل ابیب کے ریگستان میں جاکرآباد ہونے کے لیے پہنچا اورآج تک یہ سلسلہ جاری ہے. وہ وہاں‌ کسی پرتعیش زندگی گزارنے، سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی اورعلم کی پیاس بجھانے نہیں آئے بلکہ ایک سوسال سے ایک بڑی عالمی جنگ لڑنے کے لیے آ رہے ہیں جوانہوں نے مسلمانوں سے لڑنی ہے اورپھرایک ایسی سلطنت قائم کرنا ہے، جوفرات کے ساحلوں تک ہوگی. جس میں اردن، شام، قطر، بحرین، کویت، یواے ای، یمن اورمدینہ تک آئیں گے. ہریہودی یہ خواب دیکھتا ہے اوراس کے لیے گھربارچھوڑکراسرائیلی آجاتا ہے یا پھرجہاں کہیں بھی ہے اپنی دولت سے خطیرحصہ اس اسرائیل کی ترقی کے لیے بھیجتا ہے. اس کے اسلحہ کی خریداری کے لیے اوراس کی معاشی بہتری کے لیے، 31 سال بعد مغرب نے انہیں حیفہ اورتل ابیب کے ریگستانی علاقے پرمشتمل ملک 1948ء میں بنا کردے دیا۔اوراپنے قیام کے پہلے 19 سال انہوں نے ہمسایہ عربوں سے مسلسل جنگ جاری رکھی اور1967ء میں‌ یروشلم (بیت المقدس) پرقبضہ کرلیا. اس کے بعد سے لے کرآج تک مشرقِ وسطیٰ‌ میں امن نہ آسکا. بالفورڈیکلیریشن کے ٹھیک سو سال بعد آج ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم (بیت المقدس) کواسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرلیا. اس کے بعد وہی ہوگا جوبالفورڈیکلریشن کے بعد ہوا کہ پہلے فرانس اورپھرتمام عالمی طاقتوں نے اسرائیل کے تصورکی حمایت کرنے کا اعلان کردیا تھا. آج کا دن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبردارکرنے والی اس حدیث میں بتائی گئی پیش گوئی کے آغاز کا دن ہے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “بیت المقدس کی آبادی مدینہ (یثرب) کی ویرانی اوریثرت کی ویرانی بڑی جنگ کا ظہور ہے” (ابوداؤد، مسند احمد، طبرانی، مستدرک، مصنف ابن ابی شیبہ) تقریباً ہرحدیث کی کتاب میں یہ درج ہے اوراسے حسن حدیث مانا جاتا ہے۔یہ بہت اہم حدیث ہے جوآخرالزمان کے واقعات کی ترتیب بتاتی ہے جودجال کے خروج تک جا پہنچتی ہے. اس وقت میں حرمِ کعبہ میں موجود ہوں جہاں ہزاروں لوگ کعبہ کا طواف کررہے ہیں لیکن ان میں شاید ہی کوئی یہ احساس کررہا ہوکہ بربادی ان کے سروں پرآن پہنچی ہے. وہ تصورکہ آخرالزمان میں ایک یہودی عالمی حکومت بنے گی، اس نے یہودیوں کواس مقام پرپہنچا دیا کہ وہ آج مرکزِ قوت واقتدار ہیں اورمیرے ملک کا دانشوراس قوم کوآج بھی یہ درس دے رہا ہے کہ کسی مسیحا کاانتظار ایک افیون ہے جو قوم کوناکارہ اوربے کاربنا دیتی ہے۔ بشکریہ اوصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*