تازہ ترین

اقوام متحدہ کے آفس کے سامنے متنا زعہ علاقے میں ٹیکس وصول کرنے کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیاجائے

سکردو(اوپن فورم تحریر نیوز)عوامی بیداری تحریک کے مرکزی چیرمین محمد شریف خان نے تحریر اوپن فورم سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ گلگت بلتستان کا فیصلہ کرنے کا حق گلگت بلتستان کے عوام کو حاصل ہے۔جب مسئلہ کشمیر کا فیصلہ ہوگا۔اس وقت اقوام متحدہ کے ماتحت رائے شماری ہوگا اس وقت گلگت بلتستان کے عوام اپنا فیصلہ خود کرے گے نہ کہ وفاقی سیاسی جماعتوں یاوفاقی کسی پارلیمانی کمیٹی کویہ اختیارنہیں کہ وہ گلگت بلتستان کے فیصلہ کرے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے UNCIPکے قراداوں کے مطابق گلگت بلتستان بھی تنازعہ کشمیر کا تیسرا فریق ہے۔ جس کو تسلیم کرتے ہوے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی متنازعہ علاقہ قرار دیااورستر سالوں سے متنازعہ علاقے کے عوام کو ملنے والے حقوق سے اب تک محروم ہے۔جویہاں کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی اور ذیادتی ہے۔اور اقوام متحدہ کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔یہاں کے عوام کو چاہیے اقوام متحدہ کے پاس اپنا ااحتجاج ریکاڈ کرنا چاہیے۔حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان کے نام نہاد اور کٹھ پتلی اسمبلی سے ہم احتجاج کر رہے ہے۔جو ہماری سب سے بے وقوفی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اور اس نام نہاد کٹھ پتلی اسمبلی کو ختم کر کے آزادکشمیر طرز یا ہانک کانگ طرز کا سیٹ اپ دیا جائے جب مسئلہ کشمیر کا فیصلہ ہونے تک ۔انہوں نے کہا 2009/2010میں ایک سیکشن آفیسر کے زریعے جو گلگت بلتستان کو پیکج دیا گیا وہ انتہائی نقصان دہ تھا۔اس پیکج کے آرڑ میں یہاں کے وسائل کو لوٹنے کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک انوکھا طریقہ ایجاد کر کے اپنے جیالوں کو نوازا گیا ۔انہوں نے کہا سی پیک میں گلگت بلتستان کو تیسرا فریق تسلیم کیا جا ئے ۔سی پیک کے گیٹ وے گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کے صورت میں اس کے برے نتایج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔انہوں نے کہا آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر بھی متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود بارڈر کھول کر تجارت اور بچھڑے خاندانوں کو آپس میں ملنے کا موقع حاصل ہے۔جبکہ کرگل سکردو روڈاور لداخ خپلوں روڈ نہیں کھولا جا رہا ہے۔یہاں کے عوام کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ کرگل لداخ تجارت کرنے کا اورپاک بھارت حکومتوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر بچھٹرے ہوئے خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لئے فوری طور پر بارڈر کھولا جائے۔انہوں نے کہا گلگت بلتستان میں جو غیر قانونی ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔ورنہ ہمیں اقوام متحدہ کے آفس کے سامنے متنازعہ علاقے میں ٹیکس وصول کرنے کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیاجائے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*