تازہ ترین

ضلع کھرمنگ میں ڈوگرہ راج۔۔ تحریر: انجینئر شبیرحسین

کشمیر میں ڈوگرہ راج قائم ہونے کے بعد تمام حدود پھلانگ کر مسلمانوں کی عزتیں اور جائیدادیں برباد کی جانے لگی تھیں، اذان دینے اور گائے کے ذبح پر پابندیاں ہیں، خلاف ورزی کی صورت میں موت کی سزا دی جاتی تھی۔ڈوگرہ افسران کشمیر کو اپنی جاگیر اور مسلمانوں کو اپنے زر خرید غلام سمجھتے تھے۔ شکایت کو بغاوت سمجھا جاتا تھا اور شکایت کنندہ کو ریاست بدر کردیا جاتا تھا۔ مسلمانوں کو زندہ جلانا کھیل بن چکا تھا، معاہدہ امرتسر کی رقم پوری کرنے کے لیے ریاستی اہلکار ناجائز ٹیکس وصول کرتے اور لوٹ مار کر تے تھے۔ریاستی حکومت کے اس ظلم کے خلاف 1865 میں مزدوروں کی ہڑتال میں 28 مزدور پانی میں ڈبو کر شہید کر دئیے گئے تھے، جس کیبعد کچھ عرصہ احتجاج تھم گیا تھا۔13جولائی 1931 کو عبدالقدیر نامی شخص جن پر حکومت کے خلاف لوگوں کو ورغلانے کا الزام تھا کا مقدمہ جیل میں منتقل کرنے کے تنازعہ میں مسلمانوں نے احتجاج کیا احتجاج کے دوران اذان کا وقت ہوا اور ایک نوجوان نے اذان دی ڈوگرہ فوج سے یہ اذان برداشت نہ ہوئی اور اس نوجوان کو گولی مار دی ۔ اس جگہ دورے نوجوان نے اٹھ کر اذان دی جس جگہ پہلے نوجون کو شہید کیا گیا تو اسے بھی قتل کر دیا گیا۔ مگر اذان نہ رکی اور آزان ختم ہونے تک21 افراد شہید ہو چکے تھے ۔ لگتا ہے ہمارے مقامی ڈوگرے بھی کچھ ایسا ہی کرنے جا رہے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ اس وقت اے سی کھرمنگ بھی ڈوگرہ گیری پر اتر آۓ ہیں اور فیس بک پوسٹس کمنٹس اور لائیکس کی بنیاد پر لوگوں کوتھانے بلاکر گالیاں دے رہے ہیں۔ اور ڈرا دھمکا کر ایشوز پر آواز اٹھانے سے روک رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے موصوف کو کھرمنگ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے حوالے سے آواز اٹھانا بھی بہت ناگوار گزرتا ہے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے پوسٹ کرنے والوں کو بھی بھیانک نتائج کی دھمکی دیتا ہے۔ اے سی کھرمنگ کا عوامی راۓ کا احترام کرتے ہوۓ کسی بھی طرح مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنے کی بجاۓ ایسی حرکتیں کھرمنگ کے ساتھ کھلی دشمنی ہو گی۔ ذرائع کہتے ہیں کہ حالیہ قصائی لائسنس کے معاملے پر آواز اٹھانےوالے کچھ سوشل ایکٹوسٹس کو تھانے بلا کرگالیاں دی گئی ہیں اگرچہ ہم قصابوں کو لائسنس دینے اور ان کو باقاعدہ گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کی شرط کی حمایت کرتے ہیں مگر اس حوالے سے تحفظات رکھنے والوں کی آزادی اظہار کی راۓ کو چھیننے کی کوشش کی بھی شدید مذمت کرتےہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اسی اے سی موصوف کی طرف سے کئی ماہ تک کھرمنگ کے تمام دکانداروں سے باقاعدہ ٹیکس کی مد میں پانچ سو روپے لیتے رہے ہیں ۔ پچھلے سات آٹھ سالوں سے تمام تر بلدیاتی فنڈز حکومت اور حکومتی چیلوں کی جیبوں میں جا رہے ہیں ایسے میں عوام سے مزید بلدیاتی اداروں کے نام پر ٹیکس لینا سراسر زیادتی ہے۔ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اے سی کھرمنگ سے اس حوالے سے باقاعدہ آڈٹ کیا جاۓ۔ اے سی کھرمنگ خود بھی اپنا قبلہ درست کرے ورنہ کھرمنگ کے نوجوان ان کے خلاف ایک منظم تحریک چلا سکتے ہیں۔

About admin

2 comments

  1. Akhtar Shahid Balti

    کیا اس سائڈ پر کوئی کالم لکھ سکتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*