تازہ ترین

آبشارسحرانگیز برف کالی

تھوئی یسین کی خوبصورت وادی ہےجو برانداس پل سےجانب غرب واقع ہے۔ دریاۓتھوئی (تھوئیوغ)  گرمیوں  میں طلاطم خیزمٹیالا اور سردیوں میں پرسکون نیلگوں، یہ دریا تین وادیوں  دسپر،خائیمت اورمشیبر کےپانیوں اورچھوٹےبڑے چشموں، جھرنوں کا مجموعہ ھے، مشیبر میں ضلع غذر کی دونوں بلندترین  چوٹیاں تھوئی- ون 6660 میٹر اورتھوئی- ٹو 6523 میٹرواقع ہیں ۔  یہاں سے چترال کی مسافت دو دن ہے۔ سیاح مشیبر وادی کےپندرہ ہزار فٹ بلند ٹاپ کراس کر کے وادی   چترال کے گزن نامی گاؤں پہنچتےہیں۔ تھوئی کی بیشتر بستیاں ڈھلوان نما ہیں۔ مستقل آبادیوں کے اختتام پر مشیبر نالہ کے جنگلی بید اور خال خال جونیپر کےجھنڈ نظرآتےہیں۔ یہاں گرمائی چراگاہیں بھی ہیں اورجھونپڑیاں بھی۔  گندم  اور جو کے لہلہاتے کھیت اور ایکا دکا کسان، جو کھیتوں کو سیراب کرتےہوۓ نظر آتےہیں۔ آگےندی ہے، ندی سےپار صرف قدرتی چراگاہیں موجود ہیں لوگ نہیں بستےالبتہ ریوڑسےبچھڑے بھیڑبکریوں کےمتلاشی یا کسی ڈھورڈنگرہانکنےوالےسےمٹھ بھیڑ ہوجاتی ہے۔ بائیں جانب ندی نما دریا، یا دریا نما  یخ بستہ مشیبر ندی زور وشور سے بہتی ہے۔ اس پانی کا کوئی سرچشمہ  نہیں، کیونکہ یہ چشموں کا مجموعہ نہیں خالصتا” گلیشیئرز کا پگلا پانی ہے۔ یہ گلیشئیرزساڑھےچھ ہزارمیٹر سےزائد بلند چوٹی تھوئی- ون  کےپہلوؤں میں واقع ہیں۔  دائیں طرف فلک بوس برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ ہے، ان پہاڑوں میں خوبصورت جنگلی چیتےعام ہیں، سفید اوربھورے  برفانی ریچ  ان برف سے ڈھکی شمالی وادیوں میں بکثرت پاۓجاتے تھےجو مقامی شکاریوں کی مہربانیوں سے اب  ناپید ہوچکے ہیں، یا پھرشاذونادرایک ادھ کہیں بچا ہو،  وادی مشیبر شمالا جنوبا پھیلا ہوا ہے۔ یہاں سےڈیڑہ گھنٹےکی مصافت کےبعد فکرمعاش سے منسلک سرگرمیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ  مقامی لوگ بلا کسی کام کاج کے آگے کا رخ نہیں کرتے۔   شکاری، یورپی سیاح، اور روزگارکےمتلاشی چترالی مسافرآتےجاتےہیں یا  تھوئیچ (تھوئی کا باشندہ ) جس کی بہن، بیٹی، پھوپھی وغیرہ ماضی میں کسی دور دراز چترالی گاؤں بیاہی گئ ہو اس سےملاقات کےلۓ سال ہا سال بعد ایک دفعہ مشیبرگلیشئیرکی طویل چڑھائیاں چڑتا دکھائی دیتاہے۔
دریاۓ مشیبر یا مشیبر کا پانی سردیوں میں پایاب ہوجاتا ہے لوگ آرپار ہونےکےلۓآسانی سےاس میں اتر تو جاتےہیں لیکن ہڈی پسلی میں اترتے  سرد پانی کی شدت سے  بلبلاتے ہوۓ جیسےتیسےپار نکلتےہیں جبکہ گرمیوں میں برف پگلنےسے مقدار میں کئ گنا اضافہ ہوکر ناقابل عبوربن جاتا ہے۔ دریا کےاس حصے کا نصف پانی مشہور تھوئی بارڈر کےگلیشئیرسے برآمد ہوتا ہے جبکہ اس کا بقیہ نصف ! ہاں آدھا پانی ایک ایسےآبشار سےگرتاہے جواگردنیاجہان کا نہں توجنوبی ایشیا کا عجوبہ ضرور ہے، راقم نےایسا آبشارجو اس آبشار کا ہم پلہ یا اس کےمساوی ہو نہ انگلش موویز میں دیکھا ہے نہ انڑنیٹ  پرموجود پکچرز میں  کہی نظرپڑی ہے کیونکہ  یہ آبشار  اکثر بادلوں کی اوڑھ  میں رہنےوالی غذرکی بلند ترین چوٹی تھوئی- ون  کے فلک بوس گلیشئیرکےنیچے سے نمودارہوکر بلا کسی درمیانی چٹان سےٹکراۓ نشیبی وادی میں جاگرتا ہے۔آبشار کی ہائیٹ چارپانچ ہزارمیٹر سےکسی طرح کم نہیں۔ اس کی پھوار کا ڈائیمنشن ہزاروں مربع میٹر ہے، آوازاتنی زوردار کہ دریاپارسےگزرنے والوں پرلرزہ طاری کردیتا ہے۔ چونکہ اس کا پانی گلیشئیر سےچھٹتےہی سکنڑوں میں زمین کو چھولیتاہےاس لیۓاسکےپھوار میں بھی انتہا درجے کی ولاسٹی، فورس اور ٹھنڈک ہوتی ہے جو گزرنےوالوں پر سردی کی شدت سےکپکپی طاری کردیتی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ  ہئیبت ناک مگرسحرانگیزآبشار ندی کےپار واقع ہےجوعام گزرگاہ نہیں ورنہ کتنےحادثات رونما ہوتے۔ ہزاروں میٹرعمودی پہاڑ سےبڑی مقدارمیں ڈائیریکٹ زمین سےٹکرانےوالا پانی زمین کو لرزا دیتا ہے، انسان ناچیز کیا ہے پھتروں کوچورا چورا بنا دیتا ہے۔ اکثروبیشترگلیشیرسےٹوٹنےوالےبرف کےچھوٹےبڑےٹکڑے، کنکریا  اورپتھر بہاؤ میں شامل ہوکرپانی کےساتھ مسلسل گرتےرہتےہیں۔ ولاسٹی اور پریشر کی رجہ سے طوفانی ہوائیں پیدا ہوکرقرب و جوار میں زیرگردش رہتی ہیں۔
دائیں جانب ہموار سرسبزوشاداب پہاڑ ہے۔ برف سےڈھکی دودھ کی طرح سفید چوٹیاں نیلےآسمانوں میں پیوست ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ نظریں گھوم پھرکر باربارآبشار پہ  ہی مرکوزہوجاتی ہیں۔ اسے کھلی آنکھوں دیکھتےہوۓ بھی حقیقت پرخواب کا گمان ہونےلگتا ہے۔ بڑے شہروں کی سیر کےشوقین برج خلیفہ، اہرام مصریا ایفل ٹاور کی بلندی  اورشان و شوکت دیکھ کرمبہوت ہوتےہونگےلیکن  برج خلیفہ کی انچائی ہو یااہرام کی قدامت اس آبشار کےسامنےہچ ہے۔  نیچرکےشیدائی  انسانی ہاتھوں بنی عمارتوں پرقدرت کی صناعی کو ہمیشہ سےترجیع دیتےرہےہیں۔ شوشوبلچرینگ (مقامی زبان میں آبشارمزکورکا نام) کو الودا کہ کر بھوجل قدموں سےآگےبڑھےتوکچھ فاصلےپردھوپ میں چمکتا گلیشئیردیکھنےسے طبعیت پھرسے ہشاش بشاش ہوجاتی ہے۔ ہاں،  کچھ ہی فاصلےپر تھوئی گلیشئیرواقع ہے  جو وادی کی نشیبی حصے کےبائیں جانب سےشروع ہوکرتاحدنگاہ بلندی کی طرف پھیلا ہوا ہے۔ مہم جوؤں اورکوہ پیماوؤں کےعلاوہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ گلیشئیر بلین ٹریلین ٹن برف کا  تودھ ہے جو گہرائی میں کالاسیاہ  ہے، یعنی اندرسےسیاہ اوپر سےسفید،  ہےنا دلچسپ بات! کالی رنگت والی برف، اک دم سے کالی رنگت شاید  بیشترقارئین نےپہلےنہ دیکھی ہو!  کالی برف کھائی نہیں جاتی، کہتےہیں کہ یہ مضرصحت ہوتی ہے۔ خیر و شرلازم و ملزوم ہیں،  جہاں  برف کالی ہے وہاں ذرا فاصلے پردودھ کی طرح سفید، چاندی جیسی چمکدار، آسمان جیسا نیلگوں، زمرد کی مانند سبزی مائل، لوہے کی طرح سخت اور روئی کےگالوں جیسے نرم وگداز برف  سے لطف اندوز ہوجائیں۔ یہ گلیشئیر کی ورائٹی ہے، اسے پگال کرپی لیجیےیا چباچبا کےکھائیے، ہرطرح سےمزا دےگا، ہاں، اگرہونٹ پھٹ گئےتو راقم کو برا بھلا کہنےمیں کنجوسی نہ دکھانا۔
گلیشئیر پر سفر کے کچھ لوازمات ہیں، مضبوط جوتے، سن گلاسز، حفاظتی رسی اورچارفٹ لمبی اسٹک، ان کےعلاوہ بھی بہت کچھ، جن کےبغیرمشکل سےدرچارہوسکتےہیں۔  مزکورہ  گلیشئیر  پرچارپانچ گھنٹےکی پیدل مسافت ہے۔ گلیشئیرمیں پڑنےوالی جابجا دراڑے، لڑھکتا اچھلتا نیلگوں پانی اور چھوٹی بڑی نیلی رنگت والی جھیلوں کو انجواۓ کریں، جبکہ مسلسل آنےوالی ڈراونی نامعلوم آوازیں اوران آوازوں کی بازگشت سے گھبراۓنہیں لطف اندوزہوتےجائیں۔  گلیشئیرکی چڑھائی کےاختتام پرمسافربالاخر برف سے نیم ڈھکی15 ہزارفٹ بلند بارڈرکے آخری سرےپر قدم پڑتےہی ایک بڑےچیلنج سےکامیابی کےساتھ نبرد آزما ہونے کی خوشی میں قدرے مطمئن ہوکر سستانےبیٹھ جاتا ہے۔ سانسیں معمول پر آنے پر پوٹلی کھول کر بچا کچا  توشہ سفر نوش جان کریں تو طبعیت میں تازگی لوٹ آتی ہے۔  کھانے کےبعد گنگنانےاور ساتھ ساتھ نظاروں سےلطف اندوز ہونے کو دل کرتا ہے۔ پیچھےمڑکر دیکھوتو مشیبر کی دلفریب وادی، عین نیچےتاحد نگاہ سفید گلیشئیر، سامنےپہاڑ کی بلندیوں پر ہری بھری چراگاہیں جو بیھڑبکریوں کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں جہاں صرف جنگلی مارخورچرتےہیں یا پریاں اٹکھیلیاں کرتی ہیں۔  سامنےچترال کی وادی  گزن ہےجہاں ہندوکش سلسلے کی پہاڑیاں نسبتا” کم بلند ہیں، ایسےموقعے پر  ماضی، زندگی کےحسین لمحات اور پیاروں کی  یادئیں اور باتیں یاد آنے ستانےلگتی ہیں۔ یہاں کائنات کی لامحدودیت کا مشاہدہ ہونےکےساتھ ساتھ انسان کی بےچارگی و بےبسی کا  احساس بھی ہوتا ہے جو معمول کی  شہری زندگی میں تقریبا” ناممکن ہے۔  کچھ دیرخیالات میں مستغرق رہنےکے بعد مسافرآگے کی باقی ماندہ مسافت اوردن ڈھلنےکےاندیشے  سے ہٹ بڑا کر دامن جھاٹتےہوۓکھڑا ہوجاتا ہے، توشہ کی پوٹلی پیٹھ پرپھرسے لاد تےہی پیچھےمڑکر وادی مشیبر یسین پر  حسرت بھری آخری نگاہ  ڈالتا ہوا، خشک پتھریلی گزن ویلی، مستوج چترال کی جانب اترائیاں اترنےلگتا ہے۔
ایڈوینچر2017کا سیزن اختتام پزیرہونے میں ابھی ایک ڈیڈھ ماہ باقی ہے، مہم جو دوستوں کا  گروپ جانا چاہےتو ‘شوشوبلچرینگ’  آبشار کا نظارہ اورتھوئی ویلی گلگت بلتستان کی سیردو  تین دنوں میں پایہ تکمیل کو پہنچ سکتی ہے۔ اگرچترال کی سیاحت کو  پیکیج میں شامل کیاجاۓتو ہفتہ بھر کا شیڈول بنےگا۔

تحریر: شکورخان ایڑووکیٹ

About admin

One comment

  1. Good explanation advocate sahib good place to visit.Please req to write something about darkot valley’s beauti and glaciers&seasonal passes becoz mostly ppl wanna to know about real face of gb .thanks for exploring new things ADVOCATEwell job

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*