تازہ ترین

فاٹا کنونشن اور گلگت بلتستان کی محرومیاں ۔ تحریر: شریف ولی کھرمنگی۔

اس تحریر سے تھوڑی دیر قبل تک، فاٹا کنونشن اسلام آباد میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین جناب عمران خان صاحب فاٹا والوں کی مظلومیت پر خوب روشنی ڈال رہے تھے۔ خان صاحب کے بقول فاٹا والوں کیلئے آواز بلند کرنے والا نہیں تھا، ان کے لوگوں کو مارا جاتا رہا۔ ان کو حقوق نہیں دیئے گئے۔ وہاں آپریشن کئے گئے۔ ان کی خواتین اور بچوں کو ماردیا جاتا اور انکو کسی نے نہیں سنا گیا۔ ان کے اوپر ڈرون گرایا گیا، بم دھماکوں میں اڑائے گئے۔ عوام کو مار کے جھوٹ بولا گیا کہ جی صرف دہشت گرد مارے گئے۔ بم دھماکوں میں فاٹا کے لوگوں کے ٹکڑے رہ جاتے تھے، کسی کو پتہ نہیں چلتا مرے کون تھے، مگر بتایا جاتا کہ یہ دہشت گرد تھے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ 74 سے قبل جب فاٹا میں مکمل قبائلی نظام تھا، تب وہاں انصاف قائم تھا ۔ اس وقت فاٹا میں قتل کا تناسب بہت کم تھا، جبکہ 78 میں قتل کا تناسب بہت زیادہ بڑھ گیا، یعنی پاکستانی نظام میں شامل ہونے کے بعد وہاں کا قبائلی عدالتی نظام خراب ہوگیا۔ اس وقت 73 فیصد فاٹا کے عوام غربت کی لکیر سے نیچےزندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس کی ذمہ داری پاکستانی حکمرانوں کی تھی، فاٹا والے پاکستان کو اپنا سمجھتے رہے لیکن پاکستانی حکمرانوں نے ان کو اپنا نہیں سمجھا۔ تقریر میں خان صاحب کہتے ہیں کہ 2018 میں اگر فاٹا کو قومی دھارے میں نہیں لایا جاتا تو 2023 تک چلا جائیگا، تب تک وہاں کا نظام کیسے چلے گا؟ فضل الرحمٰن اور اچکزئی کی وجہ سے تمام تر معاملات طے ہونے کے باوجود حکومت اسکو موخر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہم ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ 2018 کی الیکشن میں فاٹا کو پختونخواہ میں ضم کریں۔ اگر گورئمنٹ نے کوئی ایکشن نہیں لیا، تو پیر کے روز متوقع حکومتی فیصلے کے بعد تحریک انصاف فاٹا عوام کو لیکر ان کے حق میں سڑکوں پر آئیں گے۔سوئیٹزرلینڈ کی مثال کیساتھ خان صاحب کا کہنا تھا کہ جن کو بھی انصاف نہیں ملتی ہم ان کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ یہ ہمارا دینی فرض ہے۔میں انکے ہر جملے اور ہر مثال پر سوچتا رہا کہ خان صاحب اتنا کچھ فاٹا کے بارے میں جانتے، سمجھتے اور ان کیلئے سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہیں، کیا وہ کئی بار گلگت بلتستان میں آنے، الیکشن مہم چلانے، پوری ایک سیٹ جیت جانے اور ایک سیٹ پر ایک دو ووٹ سے ہار جانے کے باجود بھی اس علاقے کیلئے نہ ہی کوئی ذاتی طور پر پالیسی بیان سامنے لاتا ہے، نہ پارٹی کی کوئی سرگرمی نظر آتی ہے، نہ اخباری بیانات سے نکل کر کچھ کرنے والی مقامی قیادت کو سامنے لاتا ہے، نہ زبردستی ٹیکس کے خلاف کئی کئی دنوں کی ہڑتال تک میں ان کی پارٹی کو فعال بناتا ہے نہ خود کوئی اس بارے میں پاکستانی میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ تک پیغام پہنچایا جاتا ہے۔یقینا خان صاحب کی آواز طاقت ترین آوازوں میں سے ہیں، جو کسی بھی معاملے میں ملک بھر کے عوام کو اس بے آئین علاقے کے مسائل کی جانب متوجہ کرتی۔ قبائلی علاقوں کے حقوق میں ہم ان کی کوششوں کو شاباشی بھی دیتے ہیں۔ پاکستان کو لوٹ لوٹ کر قرض کے دندل میں پھنسانے والوں کو رسوا کرنے پر ہم خان صاحب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے خاندانی آمریتوں کو پاکستان میں جس طرح سے بے نقاب کیا اس کی مثال پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ فاٹا کے عوام کو انصاف نہ ملنے پران کے حق میں کھڑے ہونے کو وہ دینی فریضہ سمجھتا ہے وہ یقینا گلگت بلتستان کے عوام کے بارے میں بھی سوچتا ہوگا، کیونکہ یہاں پر ان کی جس طرح سے مہمان نوازی کی گئی، جسطرح ہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا گیا ، ان سب کا ذکر وہ اپنی تقریروں میں بھی بارہا کرچکے ہیں۔مگر شاید یہاں کے عوام کو انصاف دلانے کا فریضہ وہ شاید اگلے الیکشن میں ہی ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ الیکشن کو ڈھائی سال ہوچکے، اس بے آئین خطے میں خان صاحب کی پارٹی کا وجود اخباروں کے سوا کہیں نظر آتا ہے، نہ ہی خان صاحب کی پارٹی پالیسی میں کہیں۔

About admin

One comment

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*