تازہ ترین

چار صوبوں کے درمیان ایک اسپیشل صوبہ گلگت بلتستان کے حوالے سے بڑی خبر، کوئی خوش ،کوئی حیران۔

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ) مسلہ کشمیر سے منسلک متنازعہ گلگت بلتستان کی قسمت فیصلہ ہونے کی خبر پر سوشل میڈیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے ہر کوئی اس خبر پر اپنی سوچ کے مطابق تجزیہ کررہا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان اسپیشل صوبہ کا نام اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور مسلہ کشمیر کی روشنی میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنا ممکن نہیں لیکن وفاق پاکستان گلگت بلتستان کو اس خطے کی متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق دینے کیلئے ہر بار بہانے تلاش کرتے ہیں اور کوئی نہ کوئی نئے نام کی تخلیق کرکے گلگت بلتستان کے عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن گلگت بلتستان کی نئی نسل خاص طورپر تعلیم یافتہ طبقہ اس قسم کے وعدوں کو مسترد کرتے ہیں ہیں اور وفاق پاکستان کا بھی ہمیشہ سے یہی موقف ہے کہ گلگت بلتستان کو مکمل طور پر پاکستان کا حصہ بنایا تو بھارت کے زیر انتظام کشمیر جو کہ56ہزار مربع میل بنتا ہے اُس پر بھارت مکمل طور پر قبضہ کرسکتا ہے۔ اس وقت بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو آرٹیکل370کے تحت بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت حاصل ہے جس میں جموں کشمیر کی خودمختاری کو واضح کیا ہوا ہے لیکن گلگت بلتستان چونکہ تنازعہ کشمیر کا حصہ ہے اس خطے کی اپنی الگ سے بین الاقوامی طور پر شناخت نہیں یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کو مسلہ کشمیر سے الگ کرکے ایک سٹیٹس دینا حکومت پاکستان کے بس کی بات نہیں کیونکہ گلگت بلتستان بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ زیر انتظام علاقہ ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گلگت بلتستان کے یوتھ کا شکوہ ہے کہ یہ لالی پاپ دراصل غیرقانونی طور پر نفاذ ٹیکسزکو قانونی شکل دینے اور عوام کا منہ بند کرنے کیلئے ایک بہانے سے بڑھ کر کچھ بھی قانونی اور آئینی حیثیت رکھتے۔ گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کرنے کیحوالے پہلے ہی آئینی صوبے مخالفت کر چُکے ہیں، اسی طرح کچھ افراد کا خیال ہے کہ کچھ نہ ملنے کچھ ملنا بہتر ہے۔لیکن گلگت بلتستان امور کے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے پیکج کا مقصد صرف عوامی احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کیلئے حربے ہیں جس میں گلگت بلتستان کے عوامی مسائل کا حل موجود نہیں کیونکہ گلگت بلتستان پہلے ہی اسپیشل اسٹیٹس کے تحت پاکستان کے زیر انتظام ہیں لہذا نام بدلنے سے بہتر ہے کہ گلگت بلتستان کی نئی نسل میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنے کیلئے اس خطے کو بھی ریاست جموں کشمیر کے دیگر خطوں کی طرح مکمل طور پر داخلی خودمختاری دیں اس سے مسلہ کشمیر پر بھی منفی اثرات مرتب نہیں ہونگے اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت بھی برقرار رہے گا اور دشمن ملک بھارت کو اس معاملے میں پروپگنڈہ کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*