تازہ ترین

سابق صدر بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور چیرمین گلگت بلتستان یونائٹد مومنٹ انجئنیر منظور حسین پروانہ کا تحریر نیوز نیٹ ورک کو خصوصی انٹرویو۔

سوال نمبر ۱۔انتخابات کے بعد قوم پرست جماعتیں منظر سے غائب کیوں ہو گئی ہیں؟
جواب: انتخابات کی قوم پرست جماعتوں کی نظر میں کوئی قانونی حیثیت نہیں اور نہ ہی انتخابات گلگت بلتستان کے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے ، انتخابات گلگت بلتستان میں عوامی نمائندوں کی چناؤ کے لئے نہیں ہوتی بلکہ حکمران جماعت کی حکومت قائم کرنے اور گلگت بلتستان کے وسائل کی لوٹ مار کے لئے ہوتی ہیں ، قوم پرستوں کو نہ انتخابات میں آزادی سے حصہ لینے دیا جاتا ہے اور نہ ہی عوام کو ہمیں ووٹ دینے کی آزادی حاصل ہے ، گلگت بلتستان میں قوم پرستوں کے حامیوں کو ہر قدم پر ہراساں کیا جاتا ہے ، قوم پرست انتخابات کے بعد خاموش نہیں ہیں بلکہ عوام کی ذہن سازی میں لگے ہوئے ہیں ، جب قوم پرست بولتے تھے تو وہ غدار کہلاتے تھے اب وفاقی حکومت اور وفاقی سیاسی جماعتیں قوم پرستوں کی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کا ہر باشعور فرد قوم پرستوں کا حامی نظر آرہا ہے ۔ جب دنیا قوم پرستوں کی موقف سے متفق ہور ہی ہو ان حالات میں قوم پرستوں کا خاموش رہنا ہی دانشمندی ہے ۔
سوال نمبر ۲۔قوم پرست جماعتوں کو پاکستان چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں؟
جواب: پاکستان چین اقتصادی راہداری گلگت بلتستان سے ہی ہو کر گزرتی ہے ، گلگت بلتستان کو نظر انداز کر کے اس اقتصادی راہداری کو اس خطے سے گزاری جا رہی ہے۔ اس اقتصادی راہداری سے گلگت بلتستان کے عوام کو ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں ، گلگت بلتستان کے عوام کو دھواں اور گرد کے علاوہ اس منصوبے سے کوئی حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے قوم پرست گلگت بلتستان کے عوام کی مفاد کا سوچتے ہیں یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے عوام کی مفادات کی عکاسی نہیں کرتا اس لئے قوم پرستوں کی تحفظات جائز ہے ، قوم پرست پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مخالف نہیں ہیں بلکہ اس طریقہ کار کے خلاف ہے جس میں گلگت بلتستان کو یکسر نظرا نداز کیا جا رہا ہے۔ ہمارا موقف پاکستان چین اقتصادی راہداری پر واضح ہے کہ اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کو تیسر ے فریق کے طور پر شامل کیا جانا چائیے کیونکہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے ، متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس خطے کی اپنی تاریخی و جغرافیائی اہمیت ہے ، پاکستان اور چین کا اس خطے کو مائنس کر کے اقتصادی راہداری کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر ہمیں انتہائی تشویش ہے اور یہ تشویش گلگت بلتستان کے ہر فرد کو ہے۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو اقتصادی راہداری میں ایک فریق کے طور پر تسلیم کیا جائے اورچیلاس ، سکردو اور گلگت میں اقتصادی زون بنا ئے جائیں۔
سوال نمبر۳۔ آئینی طور پر گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بننے میں کیا قباحت ہے ؟ جس کی قوم پرست جماعتیں مخالفت کرتی نظر آ رہی ہیں؟
جواب: قوم پرستوں کا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ نہیں بن سکتا ۔ قوم پرستوں کو گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بننے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں۔ پاکستان بنانا چاہے تو قوم پرستوں سے پوچھ کر نہیں بنائے گی اور نہ ہی قوم پرست اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حکومت پاکستان آئینی صوبے کے معاملے پر قوم پرستوں کے موقف کی تائید کرتی ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کا اٹوٹ انگ ہے اس لئے یہ پاکستان کا صوبہ نہیں بن سکتا ۔ اس کے باوجود وفاق پرست سیاسی و مذہبی جماعتیں صوبے کا رٹ لگاتی نظر آتی ہیں، جو کہ گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور پاکستان کی کشمیر پالیسی کوزک پہنچایا ہے۔صوبہ عوامی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی اگر صوبہ بننے سے عوام خوشحال ہوتی تو بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے وہاں بڑی ترقی و خوشحالی ہوتی جبکہ وہاں کے عوام احساس محرومی کا شکار ہیں ۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی نہیں جبکہ اس خطے کی قومی و ملی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں کے وسائل کو یہاں کے عوام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس خطے کو تنازعہ کشمیر کے حل تک اندورنی خودمختاری دینے کی ضرورت ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی لکھا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو اندرونی خود مختاری دی جائے۔گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا کسی بھی صورت یہاں کے عوام کی مفاد میں نہیں ، گلگت بلتستان کے عوامی مفادات کے خلاف ہونے والی ہرسازش کی مخالفت ہونی چائیے ۔
سوال نمبر۴ قوم پرست جماعتیں کس بنیاد پر گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ سمجھتی ہیں؟
جواب: قوم پرست جماعتیں ہمیشہ تاریخی حقائق اوردلائل کے ساتھ بات کرتی ہیں ، ہم گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں ، نہ انڈیا کا حصہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی سری نگر کا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان موجودہ عالمی منظرنامے میں مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست جموں و کشمیر کا متنازعہ حصہ ہے چونکہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اس لئے گلگت بلتستان بھی اس تنازعے کا حصہ ہے جسے پاکستان ، بھارت سمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے ۔گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں ، آزاد کشمیر ریاست کے زیر انتظام نہیں ، نئی دہلی کی راجدانی میں شامل نہیں ۔ گلگت بلتستان کاکسی بھی ملک میں شامل نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ گلگت بلتستان علحیدہ قومی تشخص کا حامل ریاست ہے ۔ اس کی علحیدہ قومی تشخص پر کسی کو حیران نہیں ہونا چائیے۔ گلگت بلتستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس دن یہاں کے باسی گلگت بلتستان کی قومی سوال اور اس کا جواب سمجھ پائیں گے اس دن ہر فرد قوم پرستوں کی صف میں ہونگے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مظفر آباد، سری نگر، گلگت اور لداخ ایک ہی مقدمے کے فریق ہیں ، ان چاروں کو مسئلہ کشمیرنامی مقدمہ مل کر لڑنا ہے۔جب اس مقدمے کا فیصلہ آئیگاتو ہم چاہے تو اکھٹے رہ سکتے ہیں اور نہ چاہے تو الگ الگ رہ سکتے ہیں، ہم چاہے تو کسی ریاست میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن مقدمہ سب کو مل کر ہی لڑنا ہوگا۔ تنازعہ کشمیر کو حل ہونے کے بعد فریقین کو تقسیم کیا جا سکتا ہے لیکن خطے کو تقسیم کرکے مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
سوال نمبر۵:گلگت بلتستان میں امریکہ سرمایہ کاری کر رہا ہے ،دوسری طرف چائنہ آپ کس ملک کو جی بی کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں؟
جواب: امریکہ اور چین دونوں حکومت پاکستان کی اجازت اور مرضی سے گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہے ۔ حکومت پاکستان کی منظوری کے بغیر کوئی امریکن یا چینی گلگت بلتستان نہیں آ سکتا ایسی صورت حال میں اگر ہم کسی ملک کو خطرہ سمجھے تو یہ اینٹی پاکستان کے زمرے میں آئے گا ۔بھلا میری کیا مجال ہے کہ میں امریکہ اور چین کو گلگت بلتستان کے کئے خطرہ سمجھوں جوکہ حکومت پاکستان کی اتحادی اور معاشی پارٹنر ہیں ۔ مجھے اپنی جان کی امان چائیے۔
سوال نمبر۶ آپ گلگت بلتستان کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب: گلگت بلتستان مستقبل کا ایک آزاد ریاست ہے۔ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے گزشتہ 70 سالوں میں پاکستان چاہتے ہوئے بھی گلگت بلتستان کو اپنے اندر جذب نہیں کر سکا ہے اس سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس خطے کی عالمی سطح پر کتنی اہمیت ہے ۔ یہ خطہ عالمی گریٹ گیم کا محور ہے ، یہ ایک بفر اسٹیٹ بن سکتا ہے کیونکہ چار ایٹمی طاقتوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھنے ، سینٹرل ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کو محتاط فاصلے سے ملانے کے لئے گلگت بلتستان ایک بفر ریاست کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ عالمی طاقتیں گریٹ گیم کے کھلاڑی ہونگے ۔ گلگت بلتستان کے عوام اچھا کھیلیں گے تو مستقبل تابناک ہوگا ۔ تماشائی بنے رہیں گے تو انجام انتہائی درد ناک ہو گا۔ ہمیں کم از کم 1947ء والی غلطی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ریاستوں کو چلانے کے لئے ایک طاقتور آرمی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ائرلینڈ دنیا کا پر امن ملک سے جس کی کوئی آرمی نہیں اور نہ ہی اس ملک کو بیرونی جارحیت کا خطرہ ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*