تازہ ترین

گلگت بلتستان میں اخبارات کی منڈی، مالکان کے دن بدل گئے مگر فیلڈ رپورٹرز اور عوامی مسائل کا کوئی پرسان حال نہیں۔

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان سے اس وقت کم وبیش 25کے قریب روزنامہ اور ہفت روزہ اخبارات کی اشاعت ہوتی ہے اور ذیادہ تر اخبارات کے دفاتر راولپنڈی میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ تمام اخبارات حکومت گلگت بلتستان کے خزانے سے اپنا حق سمجھ کر لاکھوں روپیہ اشتہارات کے نام پر بٹورتے ہیں لیکن صحافتی اقدار سے کوسوں دور نظرآتا ہے۔ ادارتی پالیسی صحافتی اصول کے بجائے مالکان کی مفادات کے گرد گھومتی ہے یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں اکثر اوقات اہم قومی ایشوز پر مبنی خبریں بھی شائع ہونے سے رہ جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کے اخبارات میں جہاں اظہار رائے کی آذادی پر یقین رکھتے ہوئے خبروں اور مضامین کی اشاعت ایک پیچیدہ مسلہ ہے وہیں فیلڈ میں کام کرنے والے رپورٹرز کو بھی ایک مزدور کے برابر بھی تنخواہ نہیں ملتی۔ سکردو سے تعلق رکھنے والے ایک رپورٹرکا کہنا تھا کہ خبروں کی کھوج کیلئے جس قدر محنت کرتے ہیں اسکا صلہ نہیں ملتا دور بات بلکہ اکثر اوقات خبریں بھی مسترد کی جاتی ہے پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی مسائل کی نشاندہی ہورہی ہے بس یہی خوشی ہے۔ ایک اور رپورٹر کے مطابق ہماری خبروں کا معاوضہ ملنا تو دور کی بات بعض اوقات خبر کی اشاعت کیلئے بھی خصوصی طور پر ریکوسٹ کرنا پڑتا ہے ۔ گلگت شہر میں کام کرنے والے ایک سنئیر رپورٹر کے مطابق ،المیہ یہ ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان کے تمام صحافتی تنظیموں کا مسلہ بھی عوام اور کارکن کے بجائے حکومت اور مالکان کی خوشنودی نظرآتا ہے، فیلڈ رپورٹرز کے حقوق کیلئے صحافتی تنظیموں میں بھی کوئی بولنے والا نہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں ذیادہ تر رپورٹر اخبارات کے ساتھ ساتھ آن لائن نیوز سائٹس کو بھی خبریں ارسال کرتے ہیں کیونکہ اخبار مالکان کی جانب سے اُنکے خبر کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ایک اور سنئیر صحافی کا کہنا تھا کہ جہاں تک میری معلومات ہے کہ کچھ اخبارات صرف شہروں کی حد تک رپورٹرز کو معاوضہ دیتے ہیں لیکن اُنکا کام صرف سرکاری تقریبات کی کوریج شہر میں وقوع پذیر ہونے والے حال احوال کی خبروں تک محدود ہیں حالانکہ گلگت بلتستان میں عوامی مسائل شہروں کی نسبت بالائی علاقہ جات میں کئی گنا ذیادہ ہیں۔ سول سوسائٹی کے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے اخبارات پڑھ افسوس بھی ہوتا ہے اور مایوس بھی کیونکہ ہم ایک ایسے خطے کے باسی ہیں جو آج بھی ہم بنیادی حقوق کیلئے خاموشی سے جنگ لڑ رہے ہیں لیکن اخبارات میں گلگت بلتستان سے ذیادہ پاکستان کی وہ خبریں چھپتی ہے جو ایک دن پہلے پاکستان کے بڑے اخبارات میں باقاعدہ طور چھپ چُکی ہوتی ہے اسی طرح ذیادہ تر اخبارات اخباری صفحوں کو پورا کرنے کیلئے باسی اخبارات کے مضامین چھاپتے ہیں جوکہ صحافتی اقدار کے منافی ہیں۔ ایک قوم پرست رہنما کا کہنا تھا اس وقت جو حال گلگت بلتستان میں پرنٹ میڈیا کا ہے اس پر ماتم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اُنکے دعوے بڑے ہوتے ہیں لیکن خبریں پسند ناپسند کی بنیاد پر شائع کرتے ہیں۔ ایک مقامی وکیل سے جب ہم نے اس حوالے سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ دراصل یہ سارا معاملہ سرکار اور مالکان کے مفادات کا ہے مالکان جب سرکار سے منہ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو فورا اشتہار روک لئے جاتے ہیں جیسے ہم نے ایک سال پہلے دیکھا کہ مالکان نے حکومت کے خلاف صحافتی جنگ کرنے کے بجائے سرکولیشن کی بند کرکے دنیا کی تاریخ کا انوکھا احتجاج ریکارڈ کرایا اور صحافتی تنظیوں نے بھی مالکان کی ہاں میں ہاں ملا کر اس اقدام کی حمایت کی، ان سارے وجوہات کی وجہ دراصل تجربے کا نہ ہونا ہے کیونکہ ایسے بھی اخبار مالکان اس وقت کروڑوں کے مالک ہیں جو ماضی میں معمولی قسم کے کاروبار کرتے رہے ہیں۔ گلگت پریس کلب کے ایک ممبر کے مطابق المیہ یہ ہے کہ اب تو لوگ یہ کہہ کر ہفت روزہ نکالتے ہیں کچھ نہیں تو مہینے میں ایک اشتہار بھی ملا توگھر کا خرچہ چل سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں کئی ہفت روزوں اور پندوہ روزہ اخبارات نے جنم لی ہے جسکا مقصد صرف سرکاری خزانے کو صحافت کے نام پر چونا لگانا ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان میں صحافت کے نام پر ذریعہ آمدنی کیلئے چلانے والے اخبارات کے خلاف کریک ڈاون کریں اور مالکان کو پابند کریں کہ سرکاری اشتہارات میں سے کچھ فیصد اُن تمام رپورٹر کو ملنا چاہئے جو اخبارات کیلئے خبر فراہم کرتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*