تازہ ترین

عظیم جذبوں اور لازوال قربانیوں کی نصف صدی۔تحریر: طالب حسین

30 نومبر 1967 پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک نہایت تابناک دن جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی واحد جمہوری جماعت کی عوام میں داغ بیل ڈالی۔پاکستان میں جمہوری نظام کی ناکامی کے نام پر بساط الٹنے کی روایت پڑ چکی تھی اس تناظر میں ایک ایسی سیاسی جماعت کا ظہور جس میں پسے ہوئے لوگوں اور پسماندہ طبقات کی آرزوئیں،کسانوں،مزدوروں،محنت کشوں،ہاریوں اور طلبہ کی امنگیں جبکہ بنانے والے کی عوام سے محبت، خلوص، ہمدردی، وطن عزیز کی بقا و استحکام اور تعمیر و ترقی کا جو جذبہ بے کراں شامل تھا وہ تیرگیِ شب میں روشنی کی کرن ثابت ہوا۔ذوالفقار علی بھٹو شہید کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مایوسی اور ناامیدی میں مبتلا پاکستانی قوم کو نہ صرف سیاسی و معاشرتی شعور دیا بلکہ انکی کمزور و نحیف آوازوں کو اقتدار کے ایوانوں تک رسائی دی اور سیاست کو عالیشان محلات سے نکال کر گلیوں اور محلوں کی سطح پر لے آیا یہی وہ نقطۂ تبدیلی تھا جس نے پاکستانی قوم میں نیا جوش و خروش اور ولولہ پیدا کیا بھٹو شہید کی زیرک اور دور اندیش شخصیت نے نہ صرف ارضِ پاک کو آئین سے سرفراز کیا اور اذلی دشمن کے مقابلے میں ناقابلِ شکست جوہری طاقت عطا کر کے وطنِ عزیز کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ کو جھکنے پر مجبور کیا بلکہ سقوطِ ڈھاکہ کے نتیجے میں لگنے والے گہرے گھاو پر مرہم رکھ کر مندمل کر دیا اور قوم میں جذبہِ تعمیر و ترقی بیدار کر کے دنیا کی باوقار قوموں کی صف میں شامل کردیا۔انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا بلکہ بکھری ہوئی ملت کو ایک ہی لڑی میں پرو کر ایک مالا کی شکل میں زینت بخشا۔بھٹو شہید کے یہ کارنامے سرمایہ دارانہ نظام کے علمبرداروں کے اعصاب پر مثلِ برقِ ناگہاں گرے اور انہوں نے اس عظیم رہنما کو اپنے مسلط کردہ ایک کٹھ پتلی آلہِ کار کی مدد سے ایک بے سر و پا مقدمے میں پھنسا کر عدل و انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہید کردیا۔اس کے بعد انہوں نے سوچا کہ پیپلز پارٹی بھٹو شہید کے ساتھ ہی دفن ہوگئی مگر یہ محض انکی خام خیالی ثابت ہوئی کیونکہ بقول شاعر
چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو۔۔
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا۔۔
اور پھر وقت نے انگڑائی لی بھٹو شہید کی ہونہار اور نہتی بیٹی بے نظیر بھٹو نے ایک خاتون ہونے کے باوجود اپنے دکھ درد کی پروا نہ کرتے ہوئے قوم کو سنبھالنے کی ٹھانی اور پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھال کر مٹی کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر میدانِ سیاست کے کارزار میں قدم رکھا تو کروڑوں عوام نے انکی صدا پر لبیک کہا اور بلا آخر حالات کی تلخیوں کو جھیلنے کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔جب محترمہ نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت بھی ملک کے حالات بہت دگرگوں تھے۔ایک ڈکٹیٹر نے افغانستان میں لڑی جانے والی دو طاقتوں کی عالمی بالادستی کی جنگ میں پاکستان کو دھکیلا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں دہشتگردی کا عفریت بے قابو تھا بلکہ معیشت کا پہیہ بھی الٹا گھومتے ہوئے تنزلی کی طرف جا رہا تھا۔ان حالات میں اقتدار کوئی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر تھا۔محترمہ کی ترجیحات میں ملک سے دہشتگردی کی لعنت کو اکھاڑ پھینکنا اور معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا سرفہرست تھے۔اسکے علاوہ انہوں نے بھٹو شہید کی دی ہوئی جوہری طاقت کو عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ملک کے دفاعی نظام کو میزائل ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا۔اگر محترمہ کے دور میں شروع ہونے والے بجلی کے منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھا جاتا تو آج نہ صرف ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا بلکہ اسکے نتیجے میں صنعتوں کے چلنے سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوتا اور ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہوچکا ہوتا۔مگر بدقسمتی سے محترمہ کی حکومت کو نہ صرف دونوں ادوار میں برطرف کیا گیا بلکہ بلا آخر انہیں بھی شہید کر دیا گیا۔آپ کی شہادت کے ردعمل میں ملک کے حالات بہت ابتر ہوچکے تھے مگر مرد حر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر یہ بات عملی طور پر ثابت کی کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی بقا و استحکام کی ضامن ہے۔اس بار بھی پیپلز پارٹی کے خاتمے کا خواب دیکھا گیا مگر تاریخ کے اوراق نے اس خواب کو بھی حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا اور عوام نے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا۔پیپلز پارٹی نے گزشتہ پانچ سالہ دور اقتدار میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور سی پیک جیسے عالمی کایا پلٹ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی عملی بنیاد رکھی جو کہ عالمی سرمایہ داروں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو شکست سے دوچار کر دیا گیا۔جس کے نتیجے میں ایک بار پھر اس پارٹی کے خاتمے اور سندھ تک محدود ہونے کا راگ الاپا جارہا ہے۔مگر حقیقت اسکے بلکل برعکس ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جتنے نشیب و فراز اور اتار و چڑھاؤ پیپلز پارٹی نے دیکھے اسکی مثال شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔کیونکہ جس جماعت کی اعلی قیادت اور ہزاروں کارکنوں کو قتل کیا گیا،جس کے جیالوں پر ڈنڈے اور کوڑے برسائے گئے ہوں،جن سے جیلیں بھری گئیں ہوں،جن کو احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہو اس تمام تر ظلم و ستم اور درندگی کے باوجود اس جماعت کا اپنا وجود برقرار رکھنا کسی معجزے سے کم نہیں اور اس معجزے کا باعث پیپلز پارٹی کے وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن میں حب الوطنی،خلوص،ہمدری،ایثار، قربانی،محبت اور چاہت کے جذبات شامل ہیں جو بھٹو خاندان،پیپلز پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کو اس وطن کے غریب عوام اور مٹی سے ہیں۔انہی لازوال جذبوں اور عظیم قربانیوں نے گھڑی خدا بخش کو پاکستان کا سیاسی قبلہ اور پیپلز پارٹی کو پاکستان کی جمہوریت کے ماتھے کا جھومر بنا دیا اور پیپلز پارٹی کو مٹانے کی کوشش کرنے والوں کو وقت کی ہواؤں نے خس و خاشاک کی طرح اڑا کر نشانِ عبرت بنا دیا اور یہ سلسلہ جاری ہے اور جب تک یہ جذبہ برقرار ہے پاکستان اور پیپلز پارٹی لازم و ملزوم ہیں۔اب کے بار بےنظیر بھٹو شہید کے بیٹے بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کا پرچم تھام کر پارٹی کی کمان سنبھالی ہے اور نئے جوش و ولولے اور وسیع سیاسی بصیرت کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے خاتمے کے خواب اور خواہشیں تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گی

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*