تازہ ترین

ضلعی ہیڈکوارٹر کھرمنگ کی کھچڑی۔تحریر : شیرعلی انجم

کہتے ہیں قوموں کی قیادت کیلئے حادثاتی لیڈر، حقیقی لیڈر،فطری لیڈر میں فرق ہوتا ہے،حادثاتی لیڈر بحران اور سیاسی افراتفری کے ماحول سے ابھر کر ہر چیز کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اُنکی نیت،عزم،اور ارادہ قومی پروگرام،عوامی جزبات،احساسات،کو اسباب اور تدبیر بناکر اپنا ذاتی ٹارگٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔یہ معصومیت،ایمانداری،قومی فکر کے چمپین ہونے کا نقاب لگا کر اپنا عزائم حاصل کرتے ہیں،اُنکے نقاب کے پیچھے چھپی اصلیت اس وقت ظاہر ہوتی ہے کہ جب انھیں کوئی معمولی سا موقع اور اختیارات ملے، جیسے کہ ہم آجکل کر ضلع کھرمنگ میں دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح فطری لیڈروہ ہوتا ہے جسے دنیا کی مال دولت شہرت سے کوئی سروکار نہیں ہوتے اُنکی خواہش ہوتی ہے کہ معاشرے میں رہنے والے لوگ اس طرح سے جیئیں جیسے اُنہیں سیاسی سماجی اور معاشرتی طور پر جینے کا حق ہے۔ فطری لیڈر بھی ایک طرح سے حقیقی لیڈربھی کہلاتے ہیں کیونکہ اُن کے اندر قومی خدمت کیلئے غیر مشروط جذبہ ہوتے ہیں لہذا اُنکی بھی کوشش ہوتی ہے کہ قوم کی ترقی عہد جدید اسلوب کے مطابق ہو۔ لیکن ہم جب گلگت بلتستان خاص طور ضلع کھرمنگ کی بات کریں تو یہاں ایک عجیب صورت حال ہے بدقسمتی سے اس معاشرے میں غریبوں کی حقوق سلب کرنے والے، یتیموں کا مال ہڑپ کرنے والے اور دین کے نام پر کاروبار کرنے والے خود کو علاقے کا سرکردہ، ضلع کا نمائندہ اور پھر دین کا بھی ٹھیکہ دار سمجھتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم شخصیات کے کردار پر نہیں بلکہ اُنکے القابات اور خاندانی نام کی پرستش کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جو دین اور سیاست کے نام پر بھلے ہی جھوٹ بولے،دھوکہ دے،فراڈ کرے، چونکہ وہ ماضی میں علاقے کی سیاہ سفید کے مالک رہے ہیں لہذا آج بھی فیصلے اُنکی منشاء کے مطابق ہونے چاہئیں ورنہ سازششوں کے ایک نا ختم ہونے والے سلسلے سے عوام کو دوچار ہونا پڑتا ہے۔ محترم قارئین تمہید لمبا ہوگیا جس کیلئے معذرت لیکن بلعموم یہ ہمارے معاشرے کا عکس ہے جسے ہم محسوس تو کرتے ہیں لیکن ہمارے اندر اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اس قسم کے سازشی اور مفاد پر ست عناصر کو بے نقاب کریں۔ ضلع کھرمنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آگے بڑھیں تو دو وزیر اعلیٰ کو ٹوپی پہنانے کے بعد جب ضلع کھرمنگ کیلئے نوٹفیکش جاری ہوا تو ہم یہی سوچ رہے تھے چلیں دیر آید درست آئد عوام کا ایک درینہ مطالبہ پورا ہوگیا اور اب اس نوزائدہ ضلع کی تعمیر ترقی کیلئے پہلی فرصت میں ضلعی ہیڈکوارٹر کو عوامی اُمنگوں اور دور دراز کے گاوں دیہات کے سہولیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ضلعی ہیڈکوارٹر کے انتخاب کے مرحلے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنا ہے۔ راقم سمیت دیگر اہل قلم نے اس حوالے سے اپنے قلمی کاوشوں کے ذریعے ضلع کی جعرافیائی حیثیت اور عوامی ضروریات اور سہولیا ت کو سامنے رکھتے ہوئے ضلع کھرمنگ کے بلکل وسط میں موجود میدان جو عرف عام میں گوہری تھنک کے نام سے جانے جاتے ہیں ،کے انتخاب کا مشورہ دیا۔ اس سلسلے میں اہلیان گوہری بھی اُس وقت اپنے خدشات کے ساتھ اس حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار تھے،یوں خدا خدا کرکے نوٹفیکشن جاری ہوا تو ایسا لگا جیسے کوئی طوفان آیا ہے سازشی عناصر ہر طرف متحرک ہوگئے اور گوہری سے ملحق میدان کی قانونی تعریف کرکے متاثرین کو معاوضہ دلانے کیلئے کوشش کرنے کے بجائے ہیڈکوارٹر کے نقصانات پر اندورون خانہ درس کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ تاثر دیا کہ اہلیان گوہری چونکہ اس میدان پر قابض ہیں اور اُنہوں نے اس میدان پر قبضہ جاری رکھنے کیلئے قربانیاں دی ہے لہذا جب تمام قربانیوں کے بعد اس وقت میدان مکمل طور پر اُن کے ہاتھ میں ہے جسے حکومت کو دیا تو عوامی مفادات اور مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک طرف یہ فارمولا فٹ کیا تو دوسری طرف سے کہا گیا کہ یہ میدان چونکہ خالصہ سرکار (جیسے عرف عام میں سرکاری زمین کہتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ایسا بلکل نہیں)، ہے اور اسکا معاوضہ نہیں مل سکتے لہذا اہلیان گوہری کو یہ میدان مفت میں خالی کرنا پڑے گا یقیناً دنیا کا کوئی بھی معاشرہ اسطرح اپنے زیر استعمال اراضی سے ستبردارنہیں ہوسکتا، یوں اہلیان گوہری کا موقف بلکل ٹھیک ہے لیکن فرض کریں حکومتی اصطلاح کے مطابق یہ جگہ سرکاری ہے تو پھر گوہری اور مادھوپور کے درمیان جب اس زمین کیلئے جنگ ہورہے تھے ،شرعی اور عدالتی محاذ کھولے ہوئے تھے تو اُس وقت سرکار کو یاد آجانا چاہئے تھا اور فریقین سے صاف لفظوں میں کہہ دینا چاہئے تھا کہ یہ میدان سرکاری ہے لہذا فریقین دستبردار ہوجائیں مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ فریقین کے حق میں عدالتی اور شرعی فیصلے محفوظ ہیں ۔دوسری بات یہ اہلیان گوہری نے جب اس میدان میں تعمیراتی کا م شروع کیا تواُ س وقت بھی سرکار کو متحرک ہونا چاہئے تھا تاکہ سرکاری زمین پر قبضے کو روکیں لیکن ایسا بھی نہیں ہوا ۔ یعنی گلگت بلتستان میں قانون کی تعریف بھی سرکاری ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے جوکہ لمحہ فکریہ ہے ۔ افسوس کی بات ہے جب متاثرین کو معاوضہ دینے کی باری آئی تو کہا گیا کہ یہ سرکاری زمین ہے لہذا معاوضہ ملنا مشکل ہے اس نکتے کو سیاسی طور پر ناکام عناصر نے خوب اُچھالا اور اہلیان گوہری کے ہمدرد بن گئے یوں جو لوگ کل تک حقوق کے ساتھ زمین دینے کیلئے تیار تھے اُنہیں باقاعدہ طور پر ہیڈکوارٹر مخالف بنا دیا جوکہ انتہائی قابل افسوس ہے اور اس یوٹرن نے کھرمنگ کے عوام جو کل تک اہلیان گوہری کے حقوق کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اُٹھاتے نظر آرہا تھا آج بلکل خاموش نظر آتا ہے۔ اس گنگا میں اہلیان مہدی آباد نے بھی موقع غنیمت سمجھ کر غوطہ زن ہونے کی کوشش کی کیونکہ مہدی آباد ایک طرح سے سیاسی اثر رسوخ والے بھی ہیں وہاں کے سیاسی اور سرکاری لوگوں نے کئی دہائیوں تک کھرمنگ کو ویران کرکے اپنے علاقے کو آباد کیا ہے لہذا آج اُنکے سیاسی اثررسوخ سے بھی کسی کو کوئی انکار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ علاقائی حقوق مسلسل سلب کرکے گھر کی تعمیر کریں تو اُس گھر کی حیثیت اور عزت ہی الگ ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اُنکا گیم بھی الٹا ہوگیا اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ دوسری طرف بالائی کھرمنگ میں اس وقت لسانی سیاست عروج پر ہے ہر کام لسانی بنیاد پر ہورہا ہے کسی سے اقبال حسن ہضم نہیں ہورہا اور کسی سے عوام، یوں نفسا نفسی کے اس عالم میں آغا محمدعلی شاہ المعروف آغا فوکر فیکٹر اس وقت کھرمنگ کی سیاست میں نظرانداز ہوتا دکھائی دے رہا تھا کیونکہ اقبال حسن اُنہیں گھاس ڈالنے کیلئے تیار نہیں لہذا اُنہوں نے بھی موقع غنیمت سمجھ کر ہیڈکوارٹر کے مسلے کو کیش کرنا شروع کیا تاکہ اُنکی اگلی نسل نے چونکہ اگلی بار سیاست میں قدم رکھنا ہے اُن کیلئے گراونڈ بناسکے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ہیڈکوارٹر کے مسلے پر جو کمیٹی بنایا تھا اُس میں اپنے بیٹے کو بھی کسی بھی طرح گھسا دیا تاکہ اقبال حسن کو پیغام مل سکے اوراُس کمیٹی نے بھی ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے گوہری تھنک کی سفارش کی تھی لیکن اچانک خود بھی وارد ہوگئے اور ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے ایک نیا فارمولا پیش کیا یقیناًاس فارمولے کے تخلیق کاروں میں بہت سے ایسے عناصر کی سوچ بھی شامل ہونگی جو اجتماعی سوچ کے بجائے ہمیشہ سے کھرمنگ میں مخصوص لوگ اور مخصوص گاوں کے مفادات کی تحفظ چاہتے ہیں اور اُنکا یہ فارمولا کھرمنگ میں مزید انتشار کا سبب بن رہا ہے لیکن کہا یہ جارہا ہے کہ اس انتشار سے اُن کے سیاسی مستقبل کیلئے فائدہ ضرور ہوگا کیونکہ مصوف اس وقت اقبال حسن سے ناراض ہے اور اپنی ناراضگی کا بدلہ کھرمنگ ہیڈکوارٹر سے لینا چاہتا ہے۔لیکن ناشاد نے اُن کے تمام دعوں اور مطالبا ت کو مسترد کرتے ہوئے گوہری تھنک کیلئے فائنل اعلان کیا ہے۔ اُن کے اُس بیان کے کچھ ہی دن بعد چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے ضلع کھرمنگ کا تفصیلی دورہ کیا اور کچھ عناصر کی جانب سے اُس دورے میں اُنہیں بھی اجتماعی مفادات سے ہٹ کر مخصوص علاقوں کے حوالے سے بریفینگ دی اور مفت میں زمینوں کا آٖفر کیا جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مفادات کے آگے اجتماعیت کی کوئی حیثیت نہیں،اہلیان گوہری نے بھی اس موقع پر احتجاج کیا اور چیف سیکرٹیری نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اُن کے ساتھ میٹینگ کی اور اُنکے خدشات کر دور کرنے وعدہ کرکے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ضلع ہیڈکوارٹر کھرمنگ کیلئے گوہری سے ملحق میدان کے علاوہ کوئی اور موزوں جگہ نہیں ہے۔ اس دورے کے بعد تمام افواہوں نے دم توڑ دیا لیکن وہ تمام قوتیں جو ضلعی ہیڈکوارٹر کے مسلے پر ذاتی فائدے کیلئے سیاست کر رہے ہیں اُنہیں کم از کم اب سمجھ میں آجانا چاہئے اور اُنکے منفی سیاست اور پروپگنڈوں کی وجہ سے کھرمنگ ڈسٹرک کے ساتھ اعلان ہونے والے دیگراضلاع اس وقت علاقائی مسائل کی حل کی طرف رواں ہے لیکن ضلع کھرمنگ قیادت کے فقدان کی وجہ سے مسائلستان بنا ہوا ہے۔لہذا حکومت کو بھی چاہئے کہ اس معاملے میں رہزن کو رہبر سمجھ کر اُن سے مشاورت کر نے کے بجائے چیف سیکرٹری کے وعدے پر قانون کے ذریعے عمل درآمد کرایں اور کھرمنگ کے عوام کی ضرورت اور مستقبل کیلئے سہولیات کو سامنے رکھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زیر نگرانی اس مسلے کو مسلہ کشمیر ہونے سے بچائیں اور کھرمنگ کی تعمیر ترقی کیلئے آگے بڑھیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*