تازہ ترین

ملنے کے نہیں نایاب ہے ہم. تحریر: دیا زہرا

اکثر وہ چیزیں ہم سےکھو جاتی ہیں جس کی ہمیں اشد ضرورت ہوتی ہیں – جس کے کھو جانے سے ہمارا ہر کام ادھورا رہ جاتا ہےاورپھر اگر اس چیز کے بدلے میں کوئی بھی دوسری چیز چاہیے کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو نعمل البدل نہی ہو سکتا- ایسے لمحات میں ہمارا ہر کام بگڑ جاتا ہےاور بہت سارے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتاہے- جب ایک چیز کی اہمیت انسان کی زندگی میں اتنی زیادہ ہو سکتی ہے تو زراسوچیے کہ ایک نایاب انسان کی اہمیت کتنی زیادہ ہوسکتی ہے اور اس کے اِس دنیا سے چلے جانے سے کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں -کیا صورت حال پیدا ہوگا اس کا اندازہ لگانااور جواب تلاش کرنا ناممکن ہو جاتا ہےاوروہ بھی ایک ایسا انسان جس کے کھوجانے سے صرف گھر، معاشرہ، علاقے کے لیے ہی نہی بلکہ ملک وقوم تک کو ناقابل تلافی نقصان اٰٹھانا پڑے جن کا راج لوگوں کے دلوں پر ہو۔اور ایساانسان معاشرے میں شاذونادر ہی پیدا ہوتا ہو اٰن کا خلا پُر کرنا ممکن نہی ہوتا ہےالبتہ ایسے نایاب لوگوں کی قربانیوں کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے- تاریخ کے اوراق پراُن کے کارنامے ہمیشہ لکھی جاتی ہےقیامت تک لوگوں کے دلوں میں ایسے لوگ زندہ رہتے ہیں-قلم کے ذریعے سے اپنے جزبات تحریرکرنے والے اپنے قلم کے ذریعے قوم کے ان عظیم سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ورنہ کسی انسان کے بس کی بات نہی کہ اسے الفاظ میں بیان کرسکیں- اس طرح کی اچانک دل دہلادینے والی خبر سن کر کسی بھی پتھر دل انسان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوے بغیر نہی رہ سکتا میرا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوا جمعہ المبارک کا بابرکت دن تھا اور ماہ مبارک ربیع الأول کی 5تاریخ ۔۔صبح دفتر میں پہنچ کر اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو گئی کام کرتے کرتے اچانک کان میں ایک آواز گونجی اشرف صاحب شہید ہوئے ہیں میں نے پوچھا کون ؟میری کولیک نے بتایا بہت اچھا اور قابل انسان تھا بہت افسوس ہوا- میں نے پھر پوچھا ہاں بہت افسوس کی بات ہے مگر کون تھا اشرف صاحب ؟ اس نے بڑی لمبی اور گہری سانس لیتے ہوئے کہاکہ آئی جی خیبر پختونخواہ اشرف نور صاحب جس کا تعلق سرمک سے تھا صبح 9بجے پشاور حیات آباد سے صفاک دہشتگردوں نے گن مین سمیت شہید کر دیے اتنے میں موبائل پر بھی مسج موصول ہوا کہ ( اناللہ واناالیہ راجعون) پشاوردھماکے میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈکواٹر محمد اشرف نور شہید ہوگئے -اس خبر کو سنتے ہی مجھ جیسے پتھر دل انسان کی بھی آنکھوں سے آنسو نکل پڑی اور اٰس وقت کے دکھ کو میں اپنے الفاظ میں بیان نہی کر سکتی ۔ٹی وی کی سکرین پراسی دل دھلادینے والی خبر کے سوا کچھ نہی تھی۔۔سننے اور دیکھنے والے سبھی اشک بار تھے ۔
شہید کی ذاتی حوالے سے اگر لکھوں تو شہید کا تعلق علاقہ سرمک کے ایک معروف گھرانے سے تھا انہوں نے ایگری کلچر میں ماسٹر کیااور 18نومبر 1989میں پولیس میں بھرتی ہوئےمحکمہ پولیس میں مختلف عہدوں پرفائز رہے پشاور، چارسدہ، ایبٹ آباد، چترال وغیرہ میں فرایض سر انجام دیتے رہے-25اپریل 2017کوایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ تعینات ہوئے تھےاور 24نومبر کو صبح گھر سے دفتر جاتے ہوئے دہشتگردوں نے شہید کر دیا -اُن کی شہادت جہاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہےوہاں ایک قومی نقصان بھی ہے اُن کی نماز جنازےمیں ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف گلگت بلتستان سے بلکہ پورے پاکستان سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کیں اور ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سکردو میں سپرد خاک کردیا گیا – یہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ محکمہ پولیس،علاقہ سرمک، کے لیے ایک بہت بڑے سانحے سے کم نہیں- قوم ایک قابل، رہم دل، دیانتدار، بہادر و نڈر انسان سے محروم ہو گئے- اس سے پہلے بھی ایسے ہی ہزاروں گلگت بلتستان کے سپوتوں نے اس علاقے کا نام روشن کیا دکھ اور افسوس کی اس گھڑی میں ہم فخر بھی محسوس کرتے ہیں کہ اس قوم نے ایسےسپوتوں کو جنم دیا،اور آج قوم کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔مگر آخر کب تک ؟کب تک قوم اپنے جوانوں کا لہو بہاتے رہیں گے؟ کب تک مایئں اپنے لخت جگر کو اس طرح بے دردی سے مرتے ہوے دیکھتی رہیں گی -کب تک دشمن ہمیں للکارتے رہیں گے- اس طرح کے واقعات کے ذریعےدہشت گرد ہمارا حوصلہ کسی بھی صورت پست نہی کر سکتے کیونکہ ہماری تاریخ ایسی ہی قربانیوں سے بھری پڑی ہیں اور یہ قربانیاں رائگاں نہی جاے گی۔ اور اپنی وطن کی خاطر سر کٹا تو سکتے ہیں اگر دشمن ایسے بزدلانہ ہرکت کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کمزور ہو جایئں گے تو یہ اُن کی بھول ہو گی- قوم پر اپنا تن من دھن قربان کرنے والے ان تمام شہیدوں کو اہل بلتستان سمیت وطن کی ہوایں تک سلام پیش کرتےہیں
بقول شاعر ۔۔۔
اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوایئں سلام کہتی ہیں-
اور دعا کرتے ہیں کہ خدا ہم سب کو خصوصاً شہیدوں کے لواحیقین کو صبروجمیل اور مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمایں ۔آمین۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*