تازہ ترین

پلاٹ برائے فروخت

حاجی اکبر علی بلتستان کے رہائشی ہیں ـ زندگی بھر کی جمع پونجی سے سکردو شہر میں 90 گز کا ایک پلاٹ لے رکھا تھا ـ سوچا یہ تھا کہ بیٹی کی شادی اور بوسیدہ مکان کی تعمیر نو کا وقت آنے پہ یہ پلاٹ کسی کو فروغ کردیں گے ـمگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ـتعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے بیٹے کو شہر پڑھنے کے لئے بھیجا اور وہ اپنی پہلی چھٹی پہ دو سال بعد واپس آرہا تھا ـ ادھر حاجی صاحب فخر سے سب کو بتا تے جارہے تھے کہ میرا بیٹا دو سال بعد لوٹ رہا ہے ادھر حاجی کی بیوی بیتابی سے نوجوان بیٹے کا انتظار کرہی تھی اور دعا کررہی تھی کہ بیٹا صحیح سلامت گلگت اسکردو روڈ سے گزر کر گھر پہنچ جائے ـبلا آخر اگلے دوپہر بیٹے نے والدہ کو فون کرکے بتایا کہ وہ عالم برج سے بلتستان کی جانب گامزن ہے ـابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ حاجی صاحب نے کسی کی کال ریسیو کی اور ان کا رنگ پیلا پڑ گیا ـ بیوی سے بیٹے کے لئے دعا کرنے کا کہ کر پڑوسی سے کچھ رقم ادھار لی اور ڈمبوداس ہسپتال کی جانب روانہ ہوگئے ـ سکردو روڈ کی خستہ حالی کی وجہ سے مسافر گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی تھی ـہسپتال پہنچے تو دیکھا ہر طرف لوگ زخمی پڑے ہیں ـ ایک دو کو اسٹریچر پر جبکہ دیگر افراد کو زمین پر لیٹایا گیا ہے ـ نہ ہسپتال میں ڈاکٹر ہے نہ ہی نرس کیوں کہ وہ تو صبح حاضری لگا کر اپنے اپنے گھروں کو تشریف لے جا چکے ہیں ـ
حاجی صاحب نے بیٹے کو بغیر کسی تاخیر کے اسکردو ڈی ایچ کیو شفٹ کیا ـ ڈی ایچ کیو بھی ایسا کہ الحفیظ و الامان بلا آخر ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کیا اور وقت ضائع کئے بغیر بچے کو راولپنڈی کے کسی ہسپتال میں علاج کا مشورہ دیا ـ حاجی صاحب نے عزیز و اقارب سے کچھ رقم اکھٹی کی اور راولپنڈی روانہ ہوگئے ـپردیس میں دربدر ہوئے کبھی ٹیکسی والے نے چونا لگایا تو کبھی ہوٹل والوں نے بل کی ادائگی میں تاخیر پہ چور مچایا ـ کچھ مہینوں میں علاج مکمل ہوا اور گھر کو لوٹ گئے بیٹا صحتیاب ہوگیا مگر ابھی پریشانی کم نہیں ہوئی ـلئے گئے قرضے کو ادا کرنے کے لئے پلاٹ پہ ” برائے فروخت ” کا تختہ لٹکادیاـ مقامی کچھ خریدار آئے مگر بات نہ بنی ـ اگلے ہی دن کچھ غیر مقامی افراد آئے اور انہوں نے منہ مانگی رقم ادا کی ـ حاجی صاحب نے پلاٹ ان کے حوالے کردی ـ اس واقعے کو ابھی دو ہی سال ہوئے ہوں گے کہ وہ پورا علاقہ غیر مقامی افراد کی کالونی بن گئی اور وہ علاقہ اب مقامیوں کے لئے تقریباً نو گو ایریا بن چکا ہے ـ

( فرضی کہانی جس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں موجود ہیں )

تحریر: سید ساجد حسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*