تازہ ترین

گلگت بلتستان میں ٹیکس مخالف تحریک،حکومتی الزامات اور حقائق۔ تحریر : شیرعلی انجم

ٹیکس نہ دینے والے قومی مجرم ہیں، ٹیکس سے معاشرے کا نظام نظام چلتا ہے، ٹیکس دینا مہذب قوم کی علامت ہوتی ہے، ٹیکس دینے سے ملک میں ترقی ہوگی۔ یہ تو ہوگئی ٹیکس کی افادیت لیکن جب ہم مملکت پاکستان کی سیاست اور سماج پر نظر دوڑائیں تو ٹیکس چور ملک کا وزیر اعظم،ٹیکس چور ملک کا وزیر خزانہ اور ٹیکس چور قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبر تو ٹیکس چور بڑے صنعت کا ر اور یہی ٹیکس چور سیاسی جلسوں میں سب سے ذیادہ ٹیکس کی افادیت پر بھاشن دیتے نظر آتا ہے۔ کئی قسم کے لیکس اور سپریم کورٹ سے نااہل ہونے باوجود لوگ ٹیکس چور بلکہ پاکستان چور عناصرکے مفادات کی تحفظ کیلئے قومی اسمبلی میں بل پاس کراتے نظر آتے ہیں وجہ یہی ہے کہ ٹیکس چوری اور لوٹ مار کا یہ دھندہ کہیں بند نہ ہوجائے اور مملکت پاکستان قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر کے مطابق عالمی ایٹمی قوت کے بعد معاشی طاقت نہ بن کر نہ اُبھرے۔ محترم قارئین یہ تو ہوگئی قائد کے پاکستان کا ماتم جو ہم صبح شام کرتے ہیں اور ان چوروں کی بربادی کیلئے دعا مانگتے ہیں لیکن پاکستان کے زیر انتظام مسلہ کشمیر سے منسلک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ خطہ گلگت بلتستان کے باسی جو ہے تو 25لاکھ لیکن مردم شماری والے بابو کے مطابق 15لاکھ بتایا جاتا ہے، کے عوام بھی ٹیکس دینا نہیں چاہتے۔ ایک عام پاکستانی کیلئے یہ حیران کُن بات ہے کہ ایک خطہ جہاں پاکستان کا سکہ چلتا ہو وہاں کے شہری اس ملک کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رکھتا ہو اور وہاں کے شہریوں کیلئے ملک کے کسی بھی کونے کاراستہ بھی بند نہ ہو ایسے میں ٹیکس نہ دینے والے شائد پاکستان کے حکمرانوں کے مقلد تو نہیں ؟، بلکل ایسا نہیں ہے بلکہ اس وقت سوات مینگورہ وغیرہ جو باقاعدہ طورپر پاکستان کے آئینی قانونی شہری اور علاقے ہیں قومی اسمبلی اور سنیٹ میں نمائندگی بھی حاصل ہے لیکن وہ بھی ٹیکس نہیں دیتے کیونکہ والی سوات  نے اپنے قوم کی مستقبل کو محفوظ کرکے پاکستان میں قانونی طریقے سے شامل ہوئے تھے ۔ لیکن جب ہم گلگت بلتستان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمارے وزیر اعلیٰ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس خطے کی آئینی اور قانونی حیثیت کیا ہے ،بین الاقوامی قانون کے مطابق یہاں کے شہریوں کے کیا بنیادی حقوق ہیں، لیکن ایسا ضرور لگتا ہے وہ چونکہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے کسی طور پر اہل نہیں تھے لیکن قسمت کی دیوی اُن پر مہربان ہوئے اور اُنکو وزیر اعلیٰ طرز کے کرسی پر بیٹھنے کا موقع ملا جس کے تحت وہ فیصلے کرنے کے مجاز تو نہیں البتہ پرٹوکول،مراعات،بیرونی ممالک کے سفر وغیر ہ کو انجوائے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کو لگتا ہے کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس نہ دینے کی باتیں کرنے والے بیرونی وقتوں کے ایماء پر سی پیک کے خلاف سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں بلکہ اُن کے ایک وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیکس نہ دینے والے باقاعدہ طور پر غدار ہیں،خدا عقل دے بھلے ہی شعور نہ دے۔ ویسے تو ٹیکس کا یہ وباء دراصل پاکستا ن پیپلزپارٹی کی مرہون منت ہے اور اس قوم پر غیر قانونی ٹیکس نافذ کرنے کیلئے فیصلے ہوتے وقت وہ بھی مراعات کے سمندر میں غوطہ زن تھے اس لئے اُس وقت اُنہیں اندازہ نہیں ہوا کہ یہ پھندہ کل کو اُن کے گلے پر بھی لگ سکتا ہے اور بلکل ایسا ہی ہوا۔ا آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کل نون لیگ کے لوگ ٹیکس مخالف تحریکوں میں سب سے آگے نظر آتے تھے آج پیپلزپارٹی والے صفائیاں پیش کرتے ٹیکس کے خلاف میدان میں نظر آتا ہے حالانکہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُنکا یہ ہلنا دراصل حکومت کو ہلانے کا حربہ ہے تاکہ انہیں بھی مراعات حاصل کرنے کا موقع ملے لیکن فلحال سی پیک کے تناظر میں اُن کا یہ ارمان پورا ہوتے دکھائی نہیں دے رہا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر پاکستان پیپلزپارٹی امجد حسین ایڈوکیٹ سٹیا سا گیا اور گلگت بلتستان کو متنازعہ کہنے والوں کو اُنہوں نے بھی غداری کا لفافہ تھما دیا لیکن یہ سوشل میڈیا بھی بڑی ظالم چیز آئی ہے خاص طور پر گلگت بلتستان کے معاشرے میں جہاں میڈیا بلکل ہی آذاد نہیں،پر نئی نسل کی طرف سے زبردست کلاس لینے کے بعد تردیدی بیان جاری کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ گلگت بلتستان کو جموں کشمیر کی طرز پر صوبہ بنایا جائے لیکن یہ نہیں بتایا کہ جموں کشمیر کو ہندوستان کے دستور میں اسپیشل اسٹیٹس کس بنیاد پر حاصل ہے اور ویسے بھی عوام تو آج بھی تاریخ سے نابلد ہے مسلہ کشمیر پر سٹڈی کرنا نہیں چاہتے لہذا کوئی کچھ بھی مطالبہ کرے عوام سرہلاتے ہیں جیسے اسلامی تحریک والوں نے اُس پروڈکٹ کو دوبارہ لاونچ کیا ہے جو اب مارکیٹ میں فیل ہوچُکی ہے۔ محترم قارئین ٹیکس اور گلگت بلتستان پر بات کرتے ہوئے آگے بڑھیں تو یہ بھی خبرآئی تھی کہ وزیر اعلیٰ بہت جلد آل پارٹیز کانفرنس بُلا کر ٹیکس کی افادیت پر لیکچر دیں گے یعنی موصوف کا خیال ہے کہ ہمارے عوام ٹیکس کی اہمیت کو نہیں جانتے اس وجہ سے ٹیکس نہیں دینا چاہتے اسی لئے میں اُن کو ہمیشہ بے وقت کا پھل کہتا ہوں لیکن سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مقامی سنئیر صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہیں واضح پیغام دیا کہ آپ نے گلگت بلتستان کو کیا دیا کیا ہے؟ جس کی بنیاد پر آپ یہاں ٹیکس نافذ کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان ایک زرعی خطہ ہے لیکن یہاں تو زراعت کی ڈوپلمنٹ کیلئے آنے والے غیر ملکی فنڈ بھی مسلک اور علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں،وسائل بہت ہیں بروئے کا ر لانے والا کوئی نہیں لیکن اخباری بیانات ترقی اور تعمیر سے بھری پڑی ہے، گلگت بلتستان کے وسائل پر اس خطے کے عوام کو کس حد تک اختیار حاصل ہے یقینااس قسم کی سوالات کرنیوالوں کا شمار بھی ہمارے ہاں سی پیک دشمنوں میں ہوتا ہے اور سب سے بڑھ گلگت بلتستان آئینی اور قانونی طور پر پاکستا ن کا حصہ نہیں آئین پاکستان کا یہاں اطلاق نہیں ہوتا ،یہ خطہ مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے پاکستان کے زیر انتظام ہیں لہذا جس کسی خطے کو آئین سازی اور قانونی سازی کے معاملات میں شراکت کا اختیار نہیں،وسائل کی تقسیم کے معاملے میں مشاورت نہیں کی جاتی، مقامی طرزی قانون ساز اسمبلی کو این ایف سی ایوراڈ سے لیکر دیگر تمام وسائل پر بات کرنے کا اختیار نہیں ایسے میں ٹیکس کس قانون کے تحت یہاں نافذ کیا جارہا ہے اس بنیادی سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں لیکن اس قسم کے ٹیکس کا نفاذ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ضرور ہے۔حال ہی میں جی بی کونسل نے وزیر اعظم پاکستان کوجو سپاس نامہ پیش کیا تھا اُس میں بڑے مودبانہ انداز میں اپنی بے اختیاری کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان چونکہ معاشی طور پر کمزور ہے یہاں کے عوام غریب ہے لہذا ٹیکس نافذ کرنے کے معاملے میں تھوڑا رحم کریں۔ ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے ایسے افراد پر جو قوم کی نمائندگی کرتے ہیں ،جو سونے کی پہاڑ پر بیٹھ کر روٹی کی بھیگ مانگتے ہیں، گلگت بلتستان آج تعمیر ترقی کی میدان میں دنیا کی آخری کالونی ہے تو اس اصل وجہ متنازعہ حیثیت ہے خدا نے اس خطے کو وہ سب کچھ عطا کیا ہوا ہے جو شائد ہی کسی امیر ملک کے پاس ہو لیکن بدقسمتی سے قیادت نہ ہونے کی وجہ سے آج گلگت بلتستان بدحالی کے دہانے کی طرف رواں دواں ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہم نے بڑے کام کئے لیکن سی پیک میں گلگت بلتستان کو حقوق نہیں دلا سکتے، پاکستان کے بڑے سیاست دان اور صحافی گلگت بلتستان کو سی پیک میں مکمل طور پر نظرانداز کرنے پر سراپا احتجاج ہے لیکن مقامی حکومت کو اس قسم باتیں کرنے والے بھی بھار ت کا ایجنٹ لگتا ہے۔ لہذا اب وقت کی ضرورت ہے کہ عوامی نمائندے اور مذہبی بیوپار اپنے عوام سے سچ بولیں اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو واضح کریں اس مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام خدانخواستہ پاکستان کیلئے مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے یا دشمن کو موقع فراہم کررہا ہے ہم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے کرگل کے پہاڑوں میں مجاہدین کی وردی پہن کر پاکستان کیلئے جنگ لڑی ہے، سوات ہو یا وزیرستان ہمارے جوانوں نے اس ملک کی بقاء کیلئے قربانیاں دی ہے اور دے رہے ہیں لیکن کچھ ہمارے بھی حقوق ہیں جس کی پاسداری ضروری ہے ورنہ دشمن کو موقع ملے گا جیسے حال ہی میں ٹیکس مخالف تحریک پر دشمن ملک بھارت نے پاکستان کے خلاف منفی پروپگنڈہ کرنا شروع کیا ہے۔ لہذا آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب کو اس معاملے میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ کونسی قوتیں ہے جو وفاق میں بیٹھ کر ہمیشہ گلگت بلتستان کو عوام کو احتجاج کیلئے پر مجبور کرتے ہیں ،اُن سے یہ بھی گزارش ہوگا کہ اس وقت جس طرح کے سیاسی حالات میں ملک دوچار ہے اُن تناظر میں گلگت بلتستان کے عوام کی شنوائی ممکن نہیں لہذا اس معاملے میں آرمی کو ہی گلگت بلتستان کیلئے ہمیشہ کی طرح کچھ کرنا پڑے گا کیونکہ ستر سالہ محرمیوں نے نئی نسل کو مایوس کیا ہے ،قومی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے نئی نسل غلط سمت کی طرف جاسکتا ہے لہذا مسلہ کشمیر اور خارجہ پالیسی اور ایو این او کے قراداد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس وقت گلگت بلتستان کیلئے آذاد کشمیر طرز پر آئینی سیٹ اپ ہی ایک بہترین فیصلہ ہوگا کیونکہ سیاست دانوں کے جھوٹ سے یہاں کے عوام اب تنگ آچکے ہیں۔ اور دشمن ہمارے عوام کی مجبوریوں کا ہر دفعہ ناجائز فائد ہ اُٹھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*