تازہ ترین

میرا بابا کب آئے گا۔۔ تحریر : شریف ولی کھرمنگی۔

یہ سوال ہے جو ہر وہ بچہ کرتا ہے جس کے بابا اس ریاست کے سفید و سیاہ کے مالک بنے ہوئے افراد کی غفلت، نا اہلی، غلط پالیسیوں اور ملک سے زیادہ ذاتی و خاندانی مفادات کیلئے، اور بیرونی طاقتوں کی اشارے پر ان کے مفادات کے تحفظ کیلئے اداروں کو چلانے کی وجہ سے یا تو شہادت سے گلے لگانا پڑتا ہے ، یا دن دیہاڑے “نا معلوم” طاقتوں کے ہاتھوں اغوا ہوگیا ہوتا ہے۔
گزشتہ دنوں جب میجراسحاق دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں شہید ہوگئے تو تمام محب وطن شہریوں کو اسکا دکھ ہوا۔ سب ان کے گھر والوں خاص طور پر میجر کے ننھے بیٹے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے دکھائی دیئے۔ آرمی چیف خود ان کے نماز جنازے میں شرکت کیلئےگئے ۔ ہر طرف سوشل میڈیا سمیت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر میجر اسحاق شہید کی بیٹے کیساتھ تصویر اور وہ تصویر جس میں انکی زوجہ انکا آخری دیدار کرتے ہوئے دیر تک گویا ان کیساتھ باتیں کررہی تھیں ، دکھایا جارہا ہے۔ وہ دل کو چیرنے والا منظر ہے، جسے دیکھ کر ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ جاتے اور بے اختیار آنسو نکل آتے۔ یقینا وطن کی سالمیت اور خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے ایک عظیم بیٹے کی عظیم قربانی پر جتنی بھی افسوس کی جائے کم ہے۔
جب میں شہید میجر اسحٰق کی گود میں اس چاند کے ٹکڑے کو مسکراتا ہوا دیکھتا ہوں تو بے اختیار ناصر عباس شیرازی کے اس بیٹے کو آنکھوں کے سامنے پاتا ہوں۔ اور اس ننھی سی بیٹی کوجو لاہور کے مال روڈ پر گزشتہ ہفتے ہاتھ میں پلے کارڈلئے احتجاج کرنیوالوں میں شریک تھیں جس پر لکھا ہوا تھا کہ “میرے بابا ناصر شیرازی کو بازیاب کراو۔۔۔۔” خدا ایسے دن کسی کے ننھے بچوں کو نہ دکھائے۔ میجر اسحٰق نے ملک پر جان نچھاور کردی، امر ہوگئے، ان کے خانوادہ کو اب یقین ہوچکا کہ وہ واپس نہیں آنیوالے۔ ان کو معلوم ہے کہ شہید امر ہوگئے، وہ اللہ کے ہاں نعمت پانیوالے ہیں۔ لیکن ان تمام محب وطن فرزندوں کا کیا، جن کو ریاستی اداروں کی غفلت اور اپنے فرائض کی بجاآوری سے پس و پیش کرنے، ریاست کی طرفسے تفویض کردہ ذمہ داریوں کی بجائے سیاسی نا اہلوں کی نوکری اور انکے مفادات کی تحفظ کرنے کی وجہ سے جیتے جی اپنے لاڈلوں اور جگر گوشوں سے دور کر دیئے گئے؟ ان کے گھر والے اور چاند جیسے بچے تو یہ بھی نہیں سمجھ پاتے کہ آخر ان کے بابا کہاں ہیں، کس حال میں ہیں؟ اتنے دنوں سے کن لوگوں نے اور کس وجہ سے ان سے دور کردیئے ہیں؟ صرف ناصر شیرازی ہی نہیں بلکہ اکتوبر اور نومبر کے شروع کے ہفتوں میں پاکستان بھر میں تحریک چلائی گئیں جن میں درجنوں ایسے غیرتمند فرزندوں کی ماورائے عدالت و قانون اغوا اور گرفتاریوں کو ایڈریس کیا گیا۔ یعنی درجنوں بلکہ سینکڑوں افراد اس ریاست میں بغیر کسی جرم و سزا کے غائب کردیئے گئے ہیں۔ اور انکے گھر والے اپنے پیاروں کی آمد کے منتظر ہیں۔
اب ناصر شیرازی کے بچوں کو کیسے سمجھائیں کہ بیٹاآپ کے بابا نے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے والے، کالعدم تنظیموں سے ملکر ملک کے خلاف سازش کرنیوالے اور وزارت کے نشے میں دہشت گردی کرنیوالے ایک وزیر کے خلاف کورٹ میں کیس کیا ہوا تھا۔ انہیں کیسے سمجھائیں کہ بیٹا انہوں نے تو ہمیشہ ملک کی نظریاتی اقدار کے تحفظ کیلئے اپنا آرام و سکون کھویا، آپ کے بابا نے ہمیشہ سے اتحاد بین المسلمین کیلئے کوششیں کیں۔ انہوں نے تکفیریت کے خلاف منظم جدوجہد کی اورشیطان بزرگ کی سازشوں کوہمیشہ بر وقت آشکار کرکے ملت کو آگاہی دی۔ اور ہر سازش کیلئے جوانوں اور طالبعلموں کو متحرک کیا۔ طالبعلمی اور جوانی سے لیکر اب تک ان کا پل پل ملک و ملت کیلئے کوششیں کرتا گزرتا تھا،اور یہی سب آج ان کا جرم بن گیا۔
اور تو اور عدالت نے ریاستی اداروں کو کئی بار مہلت دیکر سختی کیساتھ حکم دیئے کہ کسی صورت ان کو عدالت کے روبرو پیش کئے جائیں، لیکن ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں گوڈ گورننس کے نام پر دھوکہ، کرپشن اوردہشت گردوں کو پناہ دینے والی حکومت اوران کے سامنے بھیگی بلی بنے اداروں کے سربراہ سب نا اہل نکلے، یہ سب ریاست پاکستان کے نہیں گویا ملک کو لوٹنے والی جماعت کی نوکری پر مامور ہیں۔ ورنہ اب تک تو دنیا سے باہر بھی ہوتے تو انکو لا کر پیش کردیتے۔
میں ان قانون نافذ کرنیوالے اداروں، خفیہ ایجنسیوں میں کام کرنیوالوں اور ان کے سربراہوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا تمہارے گھر میں چھوٹے بچے نہیں ہیں؟ کیا تم سب لاولد ہو ؟ کیا تم اپنے باپ کے گود میں نہیں پلے بڑھے؟ اگر ہاں تو شہید میجر اسحاق کے بیٹے کو دیکھ کر کیا تمہیں نہیں لگتا کہ جن افراد کو بے گناہ اغوا کرکے انکے جگر گوشوں سے جدا کیا ہوا ہے انکی حفاظت تمہاری ذمہ داری تھی؟ اور تمہاری غفلت اور افسران شاہی کی نوکری ان بچوں کی سسکیوں کی وجہ بنی؟
کبھی خود بھی سوچ لیں کہ جب تمہارے بچے تمہارے لئے سڑکوں پر نکلیں گے اور ہر ایک سے سوال کریں گے۔۔۔۔”میرا بابا کب آئے گا۔۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*