تازہ ترین

انصاف اورحکمرانوں کے نزدیک قانون کی حیثیت۔تحریر: محمد حسن جمالی

انصاف انسانی فطرت کی آواز ہے۔ دنیا میں سربلند ہونے والی قوموں کی سربلندی کے بنیادی عوامل میں سے ایک انہیں انصاف پر مبنی زندگی میسر رہنا ہے، جن اقوام کی زندگی انصاف سے خالی ہوتی ہے ان کی زندگی وحشت بربریت اور ظلم وستم سے پر ہوکر جہنم بن جاتی ہے۔دیکھا جائے تو انصاف سے خالی زندگی پاکستانی قوم کا مقدر بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ہماری قوم طرح طرح کے مظالم کا شکار ہے، جہاں ناتواں اور غریب افراد انصاف کو ترس رہے ہیں اور طاقتور وامیر لوگ ظلم پہ ظلم کرکے تھکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، غریب افراد بغیر کسی جرم کے ریاستی قانون کے شکنجے میں،جب کہ ثروت مند اثرورسوخ والے تمام جرائم میں ملوث ہوکے بھی قانون کی گرفت سے آذاد ہیں۔ یہاں یہ سوال ذہن میں پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا حکمرانوں کے نذدیک قانون کی حیثیت ٹیشو پیپر سے ذیادہ نہیں؟ انصاف قانون کی جان ہوتا ہے، جو قانون انصاف سے تہی ہو وہ نہ صرف معاشرے کو ترقی سے روکتا ہے بلکہ معاشرے کی تباہی وبربادی کا سبب بنتا ہے ۔پاکستان کے تمام حکومتی اداروں میں انصاف ناپید دکھائی دیتا ہے، ہر جگہ ناانصافی حاکم ہے،جس سے ملک ترقی کے بجائے تنزلی اور پستی کی جانب جارہا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ جسے سب سے ذیادہ ذمہ دار سمجھا جاتا ہے وہ انصاف کا دہجیاں اڑاتا نظر آتا ہے،ہمارے وطن میں قانون کے نام سے غریبوں کا استحصال کیا جارہا ہے،ریاستی طاقت کے ذریعے محب وطن شہریوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے،بااثر افراد نا انصافی پر مبنی قانون کو ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کررہے ہیں مگر ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ دولت اور طاقت کے نشے میں مست ملک کی اشرافیہ کہلانے والے طبقے کے سامنے پولیس اور قانون کے نفاذ کے ذمے داران بھی بے بس نظر آتے ہیں ۔ایڈوکیٹ ناصری شیرازی کو لاپتہ ہوئے تین ہفتے گزرگئے مگر پولیس اور متعلقہ ذمہ داران ابھی تک اسے بازیاب نہیں کراسکے اور نہ ہی مجرموں اور دہشتگردوں کو بے جرم محب وطن شہری کو اغوا کرنے کے جرم کی سزا دلواسکے کیونکہ مجرموں کو بااثر افراد کی سرپرستی حاصل تھی، ان کی پشت پناہی کے لئے ریاستی طاقت تھی، پنجاب حکومت کے اشارے سے یہ کام ہوا تھا ۔
دوسری طرف تفتان بارڈر پر اندھے قانون کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، بے چارے زائرین کو ہفتوں مہینوں تک تفتان اور کوئٹہ میں روک کر ذہنی جسمانی اور مالی اذیتوں سے دوچار کیا جارہا ہے,پاکستانی زائرین آج کل مقامات مقدسہ کی زیارات کرکے اپنے وطن لوٹ رہے ہیں مگر لقمہ حرام سے پلے بڑھے اہلکار اور رشوت خو مافیا پوری قوت سے زائرین کو تنگ کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے رہے ہیں۔ پاکستان میں داخل ہوتے ہی بتہ خور مافیا کی بد سلوکیاں شروع ہوتی ہیں اور کوئٹہ پہنچنے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، رشوت خور اہلکار بارڈر سے پاکستان ہاوس کے بجائے بس اڈہ جانے کی خواہش ظاہر کرنے والوں سے فی نفر تین ہزار سے پانچ ہزار روپے وصول کرتے ہیں کاش اس پر اکتفا کرتے بلکہ کوئٹہ پہنچنے تک کم از کم پندرہ بیس ہزار روپے ہر نفر کو دینا پڑتا ہے، اگر کوئی روپے دینے سے انکار کرے تو اسے لاٹھی سے ہانکتے ہوئے پاکستان ہاوس لے جاتے ہیں جہاں دو دو ہفتے روک کر بیس سے تیس ہزار سے اوپر خرچ کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جب کہ وہ یہ جانتے بھی ہیں کہ زائرین زیارات کے سفر سے واپس پہنچے ہوئے ہیں ان کی جمع پونچی ختم ہوکر وہ اپنے پاس صرف اپنے اپنے گھروں تک پہنچنے کا کرایہ رکھتے ہیں، مگر اس زاویے تو وہ لوگ سوچ سکتے ہیں جن میں انسانیت زندہ ہو، جن کا ضمیر نہ مرا ہو۔ بارڈر پر تو انسان نما درندے بیٹھے ہوئے ہیں،زائرین کے پاس رقم ہونے اور نہ ہونے سے ان کو کیا غرض انہوں نے تو اپنی بہیمت اور بربریت کا مظاہرہ کرنا ہے، وہ افراد بظاہر حکومتی اہلکار ہیں لیکن بلا تردید وہ قانون کو ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کرکے تفتان بارڈر کے بیابان میں دفنا رہے ہیں، زائرین کو اس سنگین مسئلے سے نجات دلانے کے لئے نام نہاد ذمہ دار افراد کی جانب سے ابھی تک کوئی راہ حل پیش نہیں ہوئی جو لمحہ فکریہ ہے ۔ حکمرانوں کے نذدیک قانون کی حیثیت ٹیشو پیپر سے ذیادہ نہیں۔

About admin

One comment

  1. Muhamad Hassan Hassni

    بھت ہی دلچسپ اور حقایق پر مبنی تحریر۔خدا اپکی توفیقات میں اضافہ فرمایں۔۔آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*