تازہ ترین

ضلعی ہیڈکوارٹر اور کھرمنگ کے نمائندے۔ تحریر: ایس ایس ناصری

1974میں اس وقت کے وزیر اعظم فخر پاکستان قائد عوام, پاکستان کے ہزاروں ہاریوں,مزدوروں ،کسانوں اور غریب ومتوسط طبقے کے دلوں کی ڈھرکں زلفقار علی بھٹو نے بلتستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مدو نظر رکھ کربلتستان میں دو اضلاع کی ضرورت کو شدّت سے محسوس کرتے ہوئے بلتستان میں دو اضلاع بنانے کا اعلان کیا اور بلتستان میں دواضلاع یعنی سکردو اور گانچھے دوالگ اضلاع بن گئے ۔گانچھے ضلع بنے سے قبل پورا بلتستان کا انتظامی مرکز سکردو ہوا کرتے تھے اور تمام تر سرکاری و دیگر معاملات سکردو میں انجام دیتے تھے لیکن دو ضلعے بنے کے بعد شگر، کھرمنگ، روندو، گلتری سمیت دیگر بعض جہگوں کے انتظامی مرکز سکردو ہی رہا تاہم گانچھے کو الگ ضلع کا درجہ ملنے کے بعد گانچھے کا انتظامی مرکز یبگو راجاؤں کی سرزمیں خپلو کو یہ مقام حاصل ہوا۔ اس دن سےلیکر آج تک خپلو کوگانچھے کا سیاسی، مزہبی اور دیگر معاملات کے مرکز کے طور پر مانا جاتا ہے اور گانچھے کے ہر جہگوں سے کسی بھی قسم کی سرکاری اور دیگر کاموں کیلے لوگ خپلو آتے ہیں اور اپنے کام کر کے واپس چلے جاتے ہیں ۔عوامی قائد ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے زلفقار علی بٹھو نے گانچھے کے غریب عوام کی مسائل کو سمجھتے ہوئے 1974میں ضلع تو بنایا اور اس وقت کے لوگوں نے خوشی کا اظہار بھی کیا یہاں تک معمولی معمولی کاموں کیلے اتنی مسافت طے کر کے سکردو آنا پڑتا تھا جس سے نہ صرف ان کے اخراجات میں اضافہ ہوتا تھا بلکہ اس وقت آمد رفت کیلے خاص انتظام نہ ہونے سے مشکلات بھی پیش آتی تھیں اب الگ ضلع کا درجہ ملنے کے بعد بتدریج سکردو میں ہونے والے تمام تر سر کاری کام گانچھے کے صدر مقام خپلو میں ہونے لگے جس سے لوگوں کو کچھ حد تک ریلیف ملنے لگے لیکن چار سال بعد گانچھے کے عوام کیلے ایک بُری خبر سامنے آگئی 1978میں ضیاءالحق کی حکومت آنے کے بعد بٹھو دور میں کیئے گئے کاموں کو پس پشت ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوا اور اس زد میں گانچھے ضلع بھی آگیا اور ضیاء الحق نے اس ضلع کو تحلیل کردیا اور گانچھے ایک بار پھر انتظامی لحاظ سےسکردو میں آگیااوریہ سلسلہ گیارہ سال تک یعنی 1978سے لیکر1989تک جاری رہا۔1989میں جب پاکستان میں ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو اسوقت قائد عوام تو ہمارے درمیاں موجود تو نہ تھے البتہ جس کی تعلیم وتربیت قائد عوام نے کی تھی انکی صاحبزادی اسلامی دنیا کی پہلی خاتوں وزیر اعظم بینظیر بٹھو کو جب اس ملک کا بھاگ ڈور سنبھالنے کا خدا نے موقع دیا تو انہوں نے اپنے والد محترم کا بویا ہوا بیج کو دوبارہ بونے کا عزم کرتے ہوئےگانچھے ضلع کو بحال کرنے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ عمل در آمد بھی کرائے اور اس دن سے لیکر آج تک گانچھے ایک الگ ضلع کی حیثیت سے کام کر رہا ہے ۔بلتستان کے دو اضلاع سکردو جس کی آبادی 1998کی مردم شماری کے مطابق دولاکھ چودہ ہزار آٹھ سو اڑتالیس اور گانچھے کی آبادی اٹھاسی ہزار تین سوچھیاسٹھ ریکارڈ کی گئی۔اور سکردو کی آبادی میں شگر، اور کھرمنگ سمیت دیگر علاقوں کی آبادی بھی شامل تھیں لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا آبادی میں بھی اضافہ معمول بنتا گیا جس کی وجہ سے سکردو کو مزید اضلاع میں تقسیم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے سابق پیپلز پارٹی کی حکومت نے شگر اور کھرمنگ کے عوام کی دیرینہ مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئےاور اپنی پارٹی کی سابقہ روایات کو فالو کرتے ہوئےمارچ 2013میں ضلع بنانے کا اعلان کیا جس پر شگر اور کھرمنگ کے عوام نے جشن منائی اورمٹھایاں تقسیم کیں لیکن گلگت بلتستان کی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی اس کارکردگی کو اپنے حصے میں لکھنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور بدقسمتی سے اس اعلان پر عمل در آمد نہ کر سکے اس حوالے سے اس وقت لمبی بحث چلی اور ضلع پر عمل در آمد کے حوالے سے سابق وزیر اعلیٰ نے اضلاع کی فائل گم ہونے کی خبر دی بحر حال پاکستان پیپلز پارٹی اپنے وعدے پر عمل نہ کر سکی اور اپنے قائدیں کی نقش قدم پر چلنے کی انہیں توفیق نہ ہوئی اور ان کے دور حکومت میں شگر اور کھرمنگ ضلع بنتے بنتے نہ صرف وفاق میں انکی حکومت ختم ہوئی یہاں تک گلگت بلتستان میں بھی پی پی پی کی حکومت ختم ہوئیجس کے بعد وہ ضلع بنانے میں ناکام رہی۔ گلگت بلتستان کے ایلکشن سے قبل گلگت بلتستان کی تاریخ میں تیں مہینوں کیلے ملک کے دیگر صوبوں کی طرح نگراں حکومت قائم ہوئی اور نگراں حکومت نے مقررہ تاریخ تک الیکشن کو یقینی بنائی اس دوراں تمام وفاقی پارٹیوں کے قائدیں نے گلگت بلتستان میں ڈیرے جمادیے اور ہر کوئی نت نئے طریقے سے عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کیلے عوامی مطالبات حل کرنے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنےکا وعدہ وعید کرتے رہیں۔یہاں تک جلسے جلوس گلگت بلتستان کے ہر علاقوں میں منعقد کئے اور یہاں کےلوگوں نے کسی بھی پارٹی کو مایوس ہونے نہ دیا اور ہر پارٹی کے جلسے جلوسوں میں شرکت کیں لیکن الیکشن میں ایک بار تبدیلی چاہتےہوئے مسلم لیگ ن کو ووٹ دی اور گلگت بلتستانکی تاریخ میں جب سے جماعتی بنیادوں پر الیکشن ہوئی تھی مسلم لیگ ن اتنی اکثریت سے کامیاب نہیں ہوئی تھی اس بار عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے اسمبلی میں بھجدیے اور انہوں نے بھی احسان کا بدلہ چکاتے ہوئے وہ سارے کام کرنے لگے جس کا الیکشن سے قبل وعدہ کیا تھا ان تمام کاموں پر ایک الگ آرٹیکل لکھنے کی کوشش ضرور ہوگی کیونکہ اس وقت ہمارا موضوع صرف اور صرف اضلاع کے حوالے سےہے موجودہ حکومت برسر اقتدار آنےکے بعد نہ صرف شگراور کھرمنگ کو ضلع بنانے کا اعلان کیا بلکہ موجودہ گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر کی خواہش پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ہنزہ کو بھی الگ ضلع بنانے کا اعلان کیا جس پر گلگت بلتستان کی حکومت عمل کرتے ہوئے اب شگر، کھرمنگ، اور، ہنزہ میں تمام ڈیپارٹمنٹس نہ صرف قائم کئے ہیں بلکہ وہاں تمام تر شعبے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں ۔بلتستان کے نومولود اضلاع شگر اور کھرمنگ میں بھی ڈپٹی کمشنر سےلیکر دیگر شعبوں کے سربراہ محدود وسائل کے باوجود عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔بلتستان کے اضلاع شگراورکھرمنگ دونوں ایک ساتھ ضلع بنے کا اعلان ہوا ہے اورایک ساتھ ہی ان اضلاع میں تمام محکموں کے آفسز سمیت ڈپٹی کمشنر آفس اور ہاؤسز بنانے کلیے فنڈ بھی مختص ہوئے لیکن شگر ضلع کے علاوہ کھرمنگ میں ابھی تک نہ ڈپٹی کمشنر آفس کیلے جگہ مختص ہواہے اور نہ ہی ضلعی ہیڈ کوارٹر کا فیصلہ ہوا ہے۔ضلع بنے سے قبل ہر کوئی چیخ چیخ کر مطالبہ کرنے والےکھرمنگ کے نمایندے آج ضلع بنے کے بعد بھی ضلعی ہیڈ کوارٹر پر سرا پا احتجاج ہیں اور ہر کوئی ضلعی ہیڈ کوارٹر اپنی خواہش کے مطابق چاہتے ہیں جسکی وجہ سے ابھی تک کھرمنگ ضلع کا ہیڈ کوارٹر کیلے جگہ تعیں نہیں ہوسکاہے۔کھرمنگ ضلع کے ہیڈ کوارٹرکلیےزمیں مختص نہ ہونے اور سیاسی ومزہبی نمائندوں کے اتفاق نہ ہونے اور آئے روز اخاباری بیاں بازی کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر آفس اور ہاوسز کیلے مختص فنڈ بھی واپس ہوئےہیں جوکہ ان نمائندوں کیلے لمحہ فکریہ ہے۔اگر کھرمنگ کے سیاسی وسماجی نمائندے علاقے کی مفاد اور ترقی کے حوالے سے تمام تر سیاسی اور دیگر اختافات کو بالائے طاق رکھ کر یک جاں دو قالب ہوکر جگہ کا تعین نہ کرئےاور تمام سرکاری اداروں کیلے دفاتر بنانے کیلے قدم نہ اٹھائے تو نہ صرف علاقہ تنزلی کی طرف جائیگا بلکہ تاریخ میں اس ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بنے والوں کے نام بحیثیت لیڈر نہیں بلکہ علاقے سے نفرت اور ترقی دشمن کے طور پر لکھے جائیں گے لھٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ علاقے کی مفاد اور خوشحالی کیلے سب کو ایک ہونا ہوگا اور سب کو ملکر کھرمنگ کی ترقی اور استحکام کا عزم کرنا ھوگا۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*