تازہ ترین

وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں۔ تحریر: شریف ولی کھرمنگی

ستر سالوں میں گلگت بلتستان کےباسی آجکل حقوق کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور نسبتا منظم و متحد نظر آرہے ہیں۔ بلا شبہ یہ مثبت تبدیلی ہے کہ بالآخر اکیسویں صدی میں ایک انوکھے خطے کے عوام نے محسوس کیا کہ ہم اس دور میں بھی باقاعدہ کسی ریاست کا حصہ ہے، نہ آزاد، نہ ہی جس ملک میں ہم شامل ہیں وہ ہمیں آئینی تحفظ فراہم کرتی ہے، اور نہ ہی اپنے سے جدا تصور کرتی ہے۔ ہم پر تمام تر وہ قوانین نافذ ہیں جو ملک کے آئینی طور پر تسلیم شدہ علاقوں کے لوگوں پر، اور ہمارے علاقے کے تمام تر ناقابل تردید حقائق کو تو پاکستانی ہی سمجھا جاتا ہے ، لیکن جو آبادی ان سب قدرتی وسائل و حقائق کے مالک و مختار ہیں، اور جنکی بدولت ستر سالوں سے اسی ملک کیلئے قابل زینت و قابل فخر سمجھے جاتےرہے ہیں ، وہی لوگ ہی آئین پاکستان میں کسی گنجائش کے قابل نہیں سمجھے جارہے۔
کہتے ہیں کہ انسانی معاشروں میں لوگوں کے تین مشہور طبقات ہیں۔ جو سب سے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ شخصیات پر گفتگو کرتے ہیں، درمیانے طبقے کے لوگ واقعات پر گفتگو کرتے ہیں، اور جو اعلیٰ طبقے کی فکر رکھتے ہیں وہ نظریات پر بات کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے کے باسی ہیں ، جو کہ ہمیشہ سے شخصیات پر بات کرتے اور انہی میں گھرےرہتے ہیں۔ کیونکہ ستر سالوں کے گزرنے کے بعد بھی ہم سب، کچھ لوگوں کے ہی بل بوتے پر فکری طور پر جس حالت سے دوچار ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔
میرے جیسے کم فہم سمیت جن پڑھے لکھے دوستوں کی تحریروں کو ہم روز پڑھتے ہیں وہ اسوقت بھی سیاسی ، مذہبی یا علاقائی افراد اور ان کےبیانات کے گرد ہی گھومتے دکھائی دیتے ہیں،یا ٹیکس ، وزیر اعظم کا دورہ ،سکردو روڈ وغیرہ وغیرہ کے کچھ واقعات و مسائل ہی ہیں جن کی بدولت ہم سب ایسے ایشو ز پر آواز اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ آج ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہمیں حقوق حاصل ہوں، ہم سر اٹھا کر جینےکے قابل ہوں ، ہم دنیا سے مقابلے کیلئے کمربستہ ہوں، ہم اپنی نسلوں کیلئے اور ہماری نسلیں اپنے لئے آزادانہ سوچا کریں اور اپنے لئے نئی دنی ا کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں اور رہنما چنیں۔کاش کہ یہ سب صرف چاہنے سے ہی ممکن ہوجاتا۔ کیونکہ بقول فیض
؎ یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم
وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں
ستر سالوں سے ہم متنازعہ ہیں یاغیر متنازعہ, یہ نہ ارمان شاہ کے کہنے سے بدل جائیگا نہ امجد ایڈوکیٹ کے کہنے پر، نہ قوم پرستوں کے چاہنے پر ہم درستان یا بالاورستان کہلایاجائیگا اور نہ ہی وفاقی سیاسی جماعتوں کی خواہش پر الحاق کا کوئی نیا مطلب نکل آئیگا۔ سچ تویہ ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے ہم نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ اس میں ہم سب کی مشترکہ ناکامی اور محرومیوں کا رونا رونے اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔کیونکہ سیاسی جماعتوں کے لوگ اگر مفادات کیلئے وفاق کی نوکری کرتے رہے تو علاقے کے ہمدرد کہلانے والی علاقائی جماعتوں نے بھی کبھی متحد ہوکر قوم کیلئے اٹھنے کی زحمت نہیں کی ، بلکہ یوں کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا کہ بجائے چار چار انچ کی مسجدوں سے بابائے قوم بننے سے آگے کا نہیں سوچا۔ عوام کو متحد کرکے شعور دینے کی بجائے قوم پرستی کے نعروں کو سیڑھیاں بنا کر موقع ملتے ہی انہی وفاقی جماعتوں میں پناہ لینے اور عہدے بانٹنے کو ہی قوم کی خدمت قراردیا۔ مذہبی جماعتوں نے بھی انہی وفاقی جماعتوں کیلئے نرسری کا کردار ادا کیا اور انہوں بھی سابق حکومتی جماعت سمیت موجودہ حکمران جماعت یا گزشتہ سے پیوستہ ہر ایک کیلئے مختلف عہدوں کیلئے فٹ افراد بنا بنا کر پیش کئے جنہوں نے ہر نئی جماعت میں ایسے ہی نعرے, وعدے اور باتیں کرنے میں مہارت ایسے دکھائے جو ہر نئی جماعت کی نئی تسلیوں کیساتھ سب سے موافق ہواور ساتھ ساتھ اپنے مفاد سے بھی ہم آہنگ ترین۔
جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں, وہ یہ کہ ستر سالوں میں ہمارے لوگوں نے صرف نوکریاں ہی کرنا سیکھا ہے,بصدمعذرت۔ یقین نہ آئے تو کبھی پوچھنا اچھی ڈگریوں والوں سے کہ گریجویشن و ماسٹرز وغیرہ کرکے چھٹیوں پر جاتے ساتھ کتنے لوگ روز اسے نوکری کا پوچھتے ہیں. چاہے سیاسی یا قوم پرست جماعت میں نوکری یا سرکاری ادارے میں نوکری… اور دونوں میں مشکلات کا سامنا کرنے پر یا عربوں کی نوکری کیلئے نکلتے ہیں یا پھر کاروباری بن جاتے ہیں. رزق کمانا واجب بھی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی عبادت بھی شاید نہیں, لیکن قومی اجتماعی فکر اگر نوکری پیشہ بن جائے تو حال ہمارے جیسا ہی ہوتا ہے…. چاہے ستر سال بھی اس بحث میں گزر جاتا رہے کہ “بغیر کسی آئینی و قانونی حیثیت کے بھی ، ہم متنازعہ ہیں یا غیر متنازعہ…”….. اور ستر سالوں سے ایک ملک کیساتھ ملحق ہے, اسی سے مطالبے بھی کرتے ہیں, اسی کے اداروں میں نوکریاں اور سب کچھ بھی, اسی کے ہی رستے دنیا تک پہنچتے ہیں اور جو جو قوانین اس ملک کے حکمران چاہے, ہم سے پوچھے بغیر ہی ہمارے اوپر لاگو کرتے آئے اور ہم بھگتتے آئے ہیں, مگر بحث باقی رہتا ہے کہ ستر سال قبل ہم نے الحاق کیا تھا یا نہیں۔
ایشو جس پر بحث ہونی اور عملا کوشش ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ, ستر سالوں سے بغیر کسی مقدمے کے, بغیر کسی شرط و شروط کے چونکہ ہم بغیر آئینی شہریت اور حقوق کے , پاکستان کے زیر نگرانی ہیں, اور اکثریت عوام پاکستانی ہونے اور کہلانے پر فخر کرتے ہیں, تو کیسے ہم اپنے بنیادی انسانی، شہری و آئینی حقوق کو حاصل کریں ؟ صرف وطن کی سرحدوں پر کٹ مرنے کیلئے ہی نہیں بلکہ قوانین پاکستان ، آئین و عدلیہ ،معاشیت و دفاع، سمیت دیگر ریاستی امور میں اپنا بھی حصہ ڈالنے میں برابر کے شہری تصور ہوں اور کر پھراسکے بعد یہ سمجھنے میں حق بہ جانب کہلائیں کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم سب پاکستانی ہیں اور اگر پاکستان حقوق نہیں دینا چاہتی،تو پھر ہمارے پاس اور کونسی راہیں ہیں کہ ہم اپنی عوام کی امنگوں کے تحت زندگی گزار سکیں
کیونکہ یہ اکیسویں صدی ہے, اس دور میں دنیا غلامانہ زندگی گزارنے اور غلامی کو قبول کرنے پر مرجا نا بہتر سمجھتی ہے ۔یہ مقابلے کا دور ہے اور دنیا کو ٹیکنالوجی نے باونڈریز سے مبرا کردیا ہے, اسلئے حکومتوں اور ریاستی طاقتوں کو بھی یہ بات سمجھ آجان چاہئے کہ عوامی رائے کے بغیر بننے والے قوانین اور حدود و قیود بہت زیادہ دیر تک ہر کسی کیلئے قابل قبول نہیں رہتے۔نو آبادیاتی کا زمانہ گزر چکا۔ اور نو آبادیاتی کی طرح چلانے میں بڑے بڑے فیل ہوچکے ہیں۔اب یہ خطہ وہ نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ جس کا ایک جیتا جاگتا ثبوت حالیہ ٹیکس مخالف تحریک ہے۔ ٹیکس لاگو کرنے کی مخالفت اسٹیٹ سے دشمنی ہے نا کہ کنجوسی یا ریاست پاکستان سے نفرت, بلکہ ایسا اسلئے اور بالکل بجا ہے کہ چونکہ ٹیکس پاکستان کے آئین اور ملکی قوانین کے تحت ملک کے ان شہریوں پر لگائے جاتے ہیں جن کو آئینی طور پر بنیادی انسانی و شہری حقوق حاصل ہوں، لیکن آئین سازی اور قوانین سازی میں ریاست جب ہمیں اس قابل نہیں سمجھتی کہ ہم بھی نمائندگی کریں اور ہمارے عوام کی مرضی بھی شامل ہو, تو کیوں کر ہم ان کی پابندی کریں… اور اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کے قوانین ہیں, جس کےمطابق جدید باونڈریز اور ریاستی تصور میں کوئی بھی ریاست کسی ایسے علاقے کے عوام سے ٹیکس لینے کا مجاز نہیں جو کہ اسکا آئینی حصہ نہ ہو, یعنی اس علاقے کے عوام کی نمائندگی ملکی قوانین کے بنانے اور ان میں ممکنہ ترامیم میں شامل ہی نہ ہو۔

About admin

One comment

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*