تازہ ترین

وادی کریس ، تعلیمی پسماندگی کے دھانے پر : تحریر | آصف یبگو

وادی کریس ، تعلیمی پسماندگی کے دھانے پر : تحریر | آصف یبگو

کریس ویسے دیکھا جائے تو ایک انتہائی خوبصورت حسین اور قابل دید علاقہ ہے ۔۔ یہ علاقہ دریا سندھ اور دریا شوک کے سنگم پر آباد ہے ۔ کریس ضلع گا نچھے کا پہلا گاؤں ہے یہی سے ضلع گانچھے کا آغاز ہوتا ہے ۔یہ علاقہ زمانہ قدیم سے تاریخی حیثیت کا حامل رہا ہے. یہ سر سبز و شاداب علاقہ سیددوں کا مسکن رہا. انہوں نے دین کی تبلیغ کا مرکز بھی یہی بنایا ۔

کریس علم وہ ادب کا مرکز رہا۔ یہاں کی آبادی اس وقت تقریباً 15000 سے زائد ہے. اگر تعلیم کے حوالے سے بات کی جائے تو اس علاقے میں ایک گورنمنٹ گرلز اور ایک گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول موجود ہے اس کے علاوہ  کئی  پرائیویٹ سکولز موجود ہیں ۔ مگر افسوس اس علاقے میں اب تک گورنمنٹ کالج کا قیام عمل نہیں آیا ۔۔ تقریباً ہر سال گون اور کریس کو ملا کے 500 کے قریب طلبہ اور طالبات میٹرک پاس کرتے ہیں ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنی پڑھائی کو صرف اس لیے خیر باد کہتے ہیں. کیونکہ ان لوگوں کے قریب و جوار میں کوئی کالج موجود نہیں ۔ کریس میں گورنمنٹ گرلز کالج کی بلڈنگ بن کے تقریباً 4 سال ہو گءے ہیں مگر وہاں نہ کوئی عملہ ہے نہ کوئی سٹوڈنٹ. علاقے کے نام نہاد سیاسی و سماجی لوگوں کو اس بارے میں کچھ اقدام اٹھاتے ہوئے دیکھا نہیں گیا. اس سے بڑ ھ کر علاقہ پر ظلم اور کیا ہوگا کہ یہاں سے اکثر یت ووٹ لے کر جیتنے والا نمایندہ ابھی وزیر تعلیم ہیں. اور اکثریت آبادی والے علاقے کو علم کی روشنی محروم رکھا گیا ہے. جو کہ موجود کرپٹ حکومت کی ناکامی و نااہلی ہے.

اس علاقے سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ اس کاہلی کا ذمہ دار نہ صرف حلقے کا منتخب نمائندہ ہے بلکہ علاقے کے سیاسی اور سماجی لوگ بھی ہیں. جو کہ لوگوں اور علاقہ کے مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کر دیتے ہیں ۔ کالج کی عمارت آج بھی انتظار میں ہے کی کب یہاں طلبہ آئیں اور اپنی اور اپنی قوم کا مستقبل کو سنوار ے ۔ وزیر تعلیم نے الیکشن کے دنوں میں وعدہ کیا تھا کہ کریس گرلز کالج میں باقاعدہ کلاسز کا آغاز کیا جاۓ گا. لیکن! لگتا نہیں ہےکہ وزیر صاحب اپنا وعدہ وفا کریں گے. وزیر تعلیم کو علاقے سے ذیادہ محبت سابقہ وزیراعظم سے ہے ۔ علاقے کی تعلیمی کمیٹی بھی کوئی خاص اقدام نہیں اٹھا رہی ہے. کم از کم دونوں ہائی سکولوں سے کچھ اساتزہ لیے کر کالج میں کلاسز کا آغاز کروا سکتی ہے. کہیں یہ تو نہیں کہ کالج کی عمارات گلگت بلتستان آنے والے جنات کے بچوں کیلئے بنائی گئی ہو. اگر ایسا ہے تو ان کے لئے ایک ہاسٹل کا بھی انتظام کیا جائے تاکہ وہ ضلع نگر، گلگت اور دیامر کی پہاڑوں میں بھٹکتے نہ پھریں.

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*