تازہ ترین

سیاح حضرات اسکردو نہ جائیں

جب دنیا کی چھت اور پریوں کی سرزمین دیوسائی پرسطح سمند ر سے چودہ ہزار فٹ اوپر پہنچ کر قطار در قطار مختلف رنگوں کے حسین و جمیل پھولوں کے سمند ر میں غوطہ زن تتلیوں کو پکڑنے سیاحوں کے بچے دوڑتے ہیں ، کھلکھلاتے ہیں ، شور مچاتے ہیں اورسبزہ زار پر روئی کی طرح گرتے ہیں، جب جنت کا ٹکرا کہاجانے والا شنگریلاکی جھیل کے کنارے پر پاوں کو پانی میں ڈبوکر یخ ، صاف و شفاف پانی میں اپنا عکس نظرآتا ہے، جب کچورا لیک پر نظار ا ہوٹل سے نیچے اترتے ہوئے پتھر کے سلوں سے بنی سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے جھیل کنارے موجود چٹان کے اوپر سے جھیل کے پانی میں غوطہ لگاتے وقت کئی گز کی اونچائی سے نیچے چھلانگ مارتے وقت کیف و سرور کی جو مستی چھا جاتی ہے،جب ژھوق میں شغرتھنگ نالے کے سریلے شور کانوں میں رس گھولتا ہے، جب پورے بلتستان میں بل کھاتے شور مچاتے دریائے سندھ کے اوپر معلق پل سے ٹیک لگا کرکوئی سیاح اپنی یادوں کو تازہ کرتا ہے اور ہوا کی دوش پر پانی کے قطرے ان کے گال کو چومتا ہے، جب، بلتستان کی کسی بھی دیہات میں موجود پن چکی میں چکی کی پاٹ اور سل کو دیکھنے کے لیے چھوٹے سے دروازے سے سرجھکاتے ہوئے کوئی اندر داخل ہوتا ہے تو وہاں پر پستی گندم کے آٹے کی خوشبو دل و دماغ کو مسرور کرتا ہے، جب سدپارہ جھیل میں پانی کے سینے کو چیرتی کشتی پر بیٹھ کر اسکردو آنے کا مزہ لے رہا ہوتا ہے اتنے میں تیز ہوا کی وجہ سے کشتی ہچکولے کھانے لگے تو دل کی دھڑکن بھی کسی لطیف خوف کی وجہ سے تیز ہوجاتی ہے،جب وادی شگر میں شگر فورٹ پر بلتستان کے حکمرانوں کے عہد رفتہ کے نقش کو فورٹ کے درو دیوار پر کندہ نظر آتا ہے اور سامنے باغیچہ میں چیری کے درختو ں کے نیچے لگائے چارپایوں پر بیٹھ کر ہاتھ ذرا اونچا کر کے چیری توڑ کر کھانے پہلے چومنے کا دل کرتا ہے، جب دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے بیس کیمپ پر کے ٹو کی طرف منہ کر کے چاندنی رات میں بادل کے بڑے بڑے ٹکرے ہوا کی دوش پر کے ٹو سے جا جا کے ٹکراتا ہے،جب ا سکردو شہر سے صرف آدھا گھنٹہ پیدل سفر کرنے کے بعد ملک کا پہلا آرگینک ولیج میں کنکریوں کے اوپر سے چل کر جو آرگنک ماحول دیکھے کو ملتا ہے، جب آرگینک ولیج ننگ ژھوق جانے والے راستے میں مقپون حکمرانوں کے فن تعمیر کی عظیم شاہراہ کھرپوچو قلعہ کی چھت پر بیٹھ کر ایک طرف شہر اسکردو کا منظر اور دوسری طرف دریائے سندھ نظرآتا ہے، جب اسکردو شہر سے صرف دس منٹ کا راستہ طے کرکے کتپناہ جھیل سے ملحقہ ریگستان کے ٹیلوں کے اوپر شوق میں چلتے وقت پاوں میں جو گدگدی سی ہو جاتی ہے، جب پی ٹی ڈی سی ہوٹل کے لان میں لوہے کی کرسی پر سیب کے درخت کے نیچے بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے سر شام ہلکی ہلکی سردی محسوس ہوتے ہی کمرے میں پڑے سویٹر کو لانے نکلتا ہے، جب کھرمنگ جانے والے راستے میں مہدی آباد میں خوبانی کے درختوں کے نیچے سے گزرتے ہوئے گاڑی کو روک کر شہد کی طرح میٹھی خوبانی کو مقامی لوگوں کی اجازت سے کھانا شروع کرتا ہے، جب منٹھوکھا میں گنگناتے آبشار کے نیچے پاکستان کے مختلف شہروں کے آئے مہمان سیاحوں کو خوشی سے چیختے اپنے موبائی اور کیمروں میں ان یادگار لمحوں کو ضبط کرنے کی کوشش ہوتی ہے، جب آبشار کے سامنے موجود ہوٹل کی چھت پر بیٹھ کر آبشار کے نغموں کی گونج میں گرم گرم دنیا کی بہترین بغیر کانٹے والی مچھلی ٹراوٹ فش کے ٹکرے کو منہ میں ڈال کر چباتے ہوئے اس کا مزہ لیا جاتا ہے، جب استور میں منی مرگ اور دومیل میں چیل اور سرو صنوبر کے جنگلوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے رینبو لیک اچانک سامنے پری کی صورت نمودار ہوتی ہے ، جب کھرمنگ، روندو،گانچھے اور شگر کی وادیوں میں مقامی لوگوں کی محبت، شرافت اور مہمان نوازی نظر آتی ہے، اسکردو شہر کے قریب ہی موجود گاوں بشو سلطان آباد پہنچ کا حسن کو رقص کرتے نظر آتا ہے، جب دو گھنٹہ برگے نالے میں پہاڑ کے عین اوپر پر پہنچ کے سامنے پہاڑ کے سینے پر ہرنوں اور مارخوروں کو اٹھکھیلیاں کرتے نظر آتا ہے، شگر اندھی جیل جاتے وقت گاڑی کے سامنے سے گزرتے ٹہلتے چکور کے غول پر نظر پڑتی ہے، جب سدپارہ گاوں میں دیسی مکھن کھانے کے بعد پہاڑ کے اوپر پہنچ کر رام چکور کے گلے سے نکلنے والی بانسری کی آواز سنی جاتی ہے، جب روندو بلامک میں قدم رکھنے کے بعد سوٹزر لینڈ کو اس کے قدموں کی خاک برابر نہیں پاتا، جب گلتری کے راستے میں چھوٹا دیوسائی پہنچے کے بعد خاموشی کو گنگناتے اور خوبصورتی کو دھمال ڈالتے پاتا ہے، جب خپلو کے راستے میں گول کے غریب دیہاتی ’’اپو رستم‘‘ کے کٹے پھٹے ہاتھوں میں موجود پلاسٹک کے گلاس سے لسی لیتے ہوئے جب وہ کہتا ہے کہ آپ ہمارے مہمان ہیں، مہمان اللہ کی نعمت اور ہمارے لیے برکت ہے میں لسی کے بدلے پیسے نہیں لے سکتا ،تو یہ جملہ کئی روز تک ذہن میں گونجتا رہتا ہے اور سوچا جاتا ہے کہ یہ غریب ہوکے بھی کتنے امیر ہے ، جب یہ سب دیکھا، سنا اور محسوس کیا تو اسکردو کے خلاف ہوتی سازشیں دم توڑتی نظر آئیں۔۔۔ سنو تو! سفر میرا عشق ہے ،دنیا سمیت پاکستان بھر میں سفر کر کے جس فطری حسن ، حقیقی مہمان نوازی نے مجھے اپنی جادومیں جکڑا وہ بلتستان ہے۔ مجھے اسکردو بلتستان کا ذرہ ذرہ چمکتا نظرآتا ہے، ہر فرد کے چہرے پر محبت امن اور بھائی چارگی نظر آتی ہے۔ مجھے اسکردو پہنچ کر حیرت اس وقت ہوئی جب معلوم ہو ا کہ پورے بلتستان میں جرائم کی شرح ایک فی صد سے بھی کم ہے۔ یہاں کے لوگ ان افراد کو بھی گلے سے لگاتے ہیں جو انہیں راستے میں اپنے گھروں کے سامنے روک کر بسوں سے اتار اتار کر گولیوں سے چھلنی کرتے ہیں۔ ان سے بدلہ لینا کجا یہ ان کو بھی بھائی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے قاتل احمق ہے انہیں محبت کرنے اور شعور دینے کی ضرورت ہے۔ مقامی جیل خالی اور قتل و غارت ، بدمنی، ڈکیتی جیسے واقعات سال میں کبھی پیش آتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ بلتستان پاکستان کا نہیں دنیا کاپر امن ترین مقام ہے۔ پورے جی بی گھومنے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچا تو معلوم ہوا کہ شاہراہ قراقرم پر تھلیچی کے مقام پر ایک بورڈ نصب ہے جس پر درج ہے کہ سیاح حضرات اسکردو اور استور نہ جائیں! وہاں کی سڑکیں خراب ہیں۔ سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ اسی بورڈ کی وجہ سے جی بی اسمبلی میں اراکین کے درمیان لڑائی بھی ہوئی ہے۔ میں بھی اس بورڈ کے حق میں ہوں ۔ سیاحوں کو اسکردو اور استور ہرگز نہیں جانا چاہیے اس کہ وجہ وہاں کی خراب سڑکیں نہیں کیونکہ ان علاقوں میں سڑکیں اتنی خراب بھی نہیں جتنی کہی جا رہی ہیں اگر فرض کریں خراب ہیں بھی تو یہاں کے لوگ اپنی پلکیں مہمانوں کے لیے بچھائیں گے۔ موقع پا کر سیاحوں کی کھال ادھیڑنے والے اور بہت جگہوں پر دیکھے گئے ہیں لیکن استور اور اسکردو میں ہرگز نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاحوں کو اسکردو اور استور اس لیے نہیں جانا چاہیے کہ اگر ایک دفعہ ان جگہوں پہ کوئی جائے تو کوئی بھی مقام دوبارہ نظروں میں نہیں جچے گا ، انکے دلوں کو نہیں بھائے گا۔
سلیم اللہ کھوکھر

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*