تازہ ترین

گلگت بلتستان کونسل نے وزیر اعظم سے کچھ ایسے مطالبات کئے جو ملازم اپنے مالکوں سے کرتے ہیں۔ عوام میں غم اور غصے کی لہر۔

اسلام آباد( تحریر نیوز) گلگت بلتستان کونسل گلگت بلتستان کیلئے قانونی طور سنیٹ کی حیثیت رکھتے ہیں مگر بدقسمتی سے کونسل کے ممبران ہمیشہ  میرٹ اور قابلیت کے بجائے سفارش اور پیسوں کی بل بوتے منتخب ہوتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کونسل اپنی اصل حیثیت کھو چُکی ہے اور کونسل ممبران کی کارکردگی صرف اچھے مراعات تک محدود ہوگئی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کا دورہ گلگت بلتستان کے موقع پرجی بی کونسل کی جانب سے جو متفقہ قراداد وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا ہے اس قراداد کی بہت سی شقوں لیکر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپاہے نوجوان نسل قوم کے نام پر سیاست کرنے والوں کی نالائقی اور مفاد پرستی پر سخت برہم نظر آتا ہے۔ جی کونسل کی جانب سے جو قرداد پیش کیا اُسکی پہلی شق میں کونسل ممبران عاجزانہ مطالبہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو مسلہ کو متاثر کئے بغیر تمام آئینی اور بنیادی حقوق دیئے جائیں۔ اس شق کا مطلب یہ ہوا کہ اراکین آج بھی پاکستان کی جانب سے بار بار اعلان کرنے کے باوجود یہ بات سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دینے کا مطلب مسلہ کشمیر سے ستبردار ہونا ہے جو کہ وفاق پاکستان کیلئے ممکن نہیں۔ شق نمبر 2 میں بھی عاجزانہ انداز میں لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان چونکہ معاشی طور پر کمزور ہیں لہذا ٹیکس کے نفاذ میں رعایت بخشی جائے، یعنی ممبران کونسل کو آج تک یہ نہیں معلوم کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے یہاں کسی بھی قسم کا ٹیکس نافذ نہیں کیا جاسکتا اور یہ لوگ اس بات سے بھی بے خبر نظرآتا ہے کہ گلگت بلتستان معاشی طور پر کمزور ہونے کی اصل وجہ متنازعہ حیثیت ہے ورنہ تو اس خطے میں بیش بہا قدرتی وسائل موجود ہیں جس سے نہ صرف پاکستان مستفید ہوسکتا بلکہ دوسرے ممالک کو بھی فائدہ پونچایا جاسکتا ہے۔ شق نمبر 4میں مطالبہ کیا ہے کہ کونسل سے جلدازجلد وزیر اعظم کیلئے کا مشیر انتخاب کیا جائے تاکہ کونسل کو مزید بہتر انداز میں چلایا جاسکے، یعنی اراکین کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کونسل کے پاس آئین سازی اور قانون سازی کیلئے اختیارات کتنے ہیں لیکن مراعات اور سہولیات کی ترجیحات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سیاسی اور قومی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ شق نمبر7میں اراکین اپنی دلی خواہش کر اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ممبران قومی اسمبلی کی طرح کونسل ممبرا ن کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کریں تاکہ سیر سپاٹے کے ذیادہ مواقع میسر ہو۔ یعنی اراکین اس بات سے بھی بلکل باخبر ہے کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے سبب پاکستان کے زیر انتظام ہیں آئینی حصہ نہیں۔ شق نمبر 11میں اراکین کونسل نے بیرونی ممالک کے دوروں کی فرائش کی ہے لیکن اس حوالے کونسل کے ممبران کی تعلمی قابلیت اور صلاحیت کیا ہے کسی کو کچھ خبر نہیں۔ شق نمبر13میں مطالبہ کرتے ہیں کہ گندم کا کوٹہ بڑھایا جائے تاکہ کرپشن کا موقع ملے۔ شق نمبر 17میں مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ایس ایل میں گلگت بلتستان کی ٹیم کو بھی نمائندگی دیا جائے لیکن یہ نہیں معلوم کہ ٹیم کہاں ہے اور گراونڈ کدھر ہے۔ شق نمبر 22میں کونسل کے ممبران نے نئی اور بڑی گاڑیوں کے تمنا کا اظہار کرتے ہوئے عاجزانہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ممبران کیلئے 1300ccکی چھوٹی گاڑیوں کے بجائے بڑی گاڑیاں دیا جائے۔
اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے رہنما مجلس وحدت مسلمین آغا علی رضوی  نے  اس قرارداد کو گلگت بلتستان کے عوام کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا ہے جب ہم اپنے لیڈروں کے ذہنی پسماندگی کو دیکھتے ہیں تو اس قوم پر رونا آتا ہے۔اُنہوں نے گلگت بلتستان کونسل کے اراکین کو سخت تنقید کا نشانے بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس قراداد سے قوم اور جی بی کونسل کی توہین ہوئی ہے اور یہ لوگ کسی بھی صورت میں عوامی نمائندہ کہنے کے لائق نہیں ۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس نے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم آف پاکستان کو اراکین کونسل گلگت بلتستان کیطرف سے پیش کردہ قرارداد ذاتی مفادات اور عوامی توہین پر مبنی قرارداد ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے نہ صرف ودھ ولڈنگ کے کو مسترد کردیا ہے بلکہ وفاقی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے عائد کردہ تمام ٹیکسزکو مسترد کرتے ہوئے منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں اورجب تک گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت برقرار ہے تب تک گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا ٹیکس قبول نہیں کیا جاسکتا۔اُنکا یہ بھی کہنا تھا کہ ممبران اسمبلی و کونسل اپنے مفادات کی خاطر آج تک قومی مستقبل کی سودا بازی کرتے آئے ہیں اب کی بار ہرگز ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکومت کو یکم نومبر تک تمام ترٹیکسز کے مستقل منسوخی کے نوٹیفکیشن کا وقت دی گئی ہے عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں مستقل تحریک کا آغاز کیا جائے گا

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*