تازہ ترین

ابن الوقتوں کا میلہ

پاکستان میں پھر ایک منتخب وزیر اعظم مجرم ٹھہرا۔ پاکستانی سیاست پر تین دہائیوں سے زیادہ چمکنے والے نوازشریف کوسیاست سے باہر کرنے کا حکم دیا گیا تو ابن الوقتوں کی نئی فصل بھی منڈی میں آگئی۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔ مسلم لیگ میں ہم خیال گروپ کے قیام کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ چوہدری نثار پر نثار ہونے والوں کی کمی نہیں ،، گو چوہدری صاحب خود فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرپا رہے ہیں۔کہتے ہیں زندگی سے ریٹائرمنٹ ممکن ہے لیکن سیاستدان کے لئے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ جاوید ہاشمی نےآخری پریس کانفرنس کے بعد دوبارہ پریس کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر میاں شہباز شریف کو مسکے لگانے والے نکل آئے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی،۔میاں تنویراور خواجہ آصف پر جان وارنے والوں کی محبت نے نئی انگڑائی لی ہے۔ مریم نواز کے کھاتے میں سارے الزمات ڈال کر ان کو مسلم لیگ کی سیاست سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ کراچی اور ملک کے دیگر ائیرپورٹس سے نوازشریف کے تصاویر غائب کردیں گئیں ہیں۔

ایسا کرنے میں چند گھنٹوں سے بھی کم وقت لگا ہے جبکہ عام طور پر پاکستان میں کئی کئی ماہ تک بلکہ سالوں تک سابقوں کی تصاویر لٹکتی رہتی ہیں۔کل تک نوازشریف کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کے خواہشمندوں نے اب قبلے کی تبدیلی کا عمل شروع کردیا ہے۔ ملک بھر میں نواز شریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد لاکھوں تو دور ایک کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی جماعت ہزاروں کا اجتماع بھی نہیں کرسکی۔ مٹھائیوں کی دکانوں پر رش اپنی جگہ موجود ہے۔جب کہ باسٹھ تریسٹھ کی تلوار ہر پارلیمنٹرین کے سرپر لٹک رہی ہے اور آئین میں ڈکٹیٹر کی شامل کردہ شقوں کو جمہوری بچہ جمورے ختم کرنے کی ہمت پیدا کرنے ناکام ہیں۔پاکستان کی سیاست میں بھڑک ایک جھڑک میں ختم ہوجاتی ہے۔نہال ہاشمی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی بچہ بات نہیں مانتا اس کو نکالنا اصل استادوں کے لئے کوئی مسئلہ بھی نہیں۔ملک میں ایک پرنسپل ہے کہ کوئی بھی پرنسپل سے بڑھ کر نہیں سوچ سکتا۔جو زیادہ قابلیت دکھاتا ہے اس کو نکال باہر کردیا جاتا ہے ناصرف باہر کیا جاتا ہے بلکہ پوری کوشش کی جاتی ہے کہ مستقبل بھی تاریک کردیا جائے۔اس کے لئے اس کے ہم جماعتیوں سے الزامات کا سلسلہ شروع کرایا جاتا ہے جو اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک عوام بھی یہ سوچنے پر مجبور نہ ہوجائیں کہ جو گیا ہے وہ برائیوں کا مجموعہ تھا اور جس کو لایا جارہا ہے تمام اچھائیاں صرف اس کی ذات میں ہیں اور جب لائے جانے والے کو نکالنا ہو تو پھر نئی جماعت کے ہم جماعتیوں میں بھاڑے کے گواہ ڈھونڈنا کون سا مشکل کام ہے جو ماضی میں ایک جماعت میں غلط گواہی دے چکے وہ دوسری جماعت میں بھی غلط گواہی دینے میں زیادہ دیر تو نہیں لگاتے سو نوازشریف کے بعد ابن الوقتوں نے پھر سے پر تولنے شروع کردیئے ہیں جماعت میں کئی جماعتیں بنانے کے لئے نئے نئے مانیٹرز سامنے آرہے ہیں جو خود کو پرانے سے زیادہ قابل اور بے ضرر ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔اب دیکھتے ہیں حسن انتخاب کہاں جاکر ٹھہرتی ہے اور کب نیا صنم دل میں بستا ہے۔
تحریر راشد تبریزی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*