تازہ ترین

بلتستان کش پالیسیاں اور ہماری خاموشیاں۔تحریر: شیرعلی انجم

محترم قارئین راقم نے اب تک کی قلمی زندگی میں کبھی بھی بلتستان اور گلگت کو الگ کرکے کبھی مضمون نہیں لکھا میرے دوست احباب کا ہمیشہ مجھ سے یہی شکوہ رہتا ہے کہ آپ بلتستان کے مسائل پر کم لکھتے تو میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ گلگت کے مسائل حل ہونگے تو دیگر اضلاع بھی مسائل سے نکل سکتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ گلگت بلتستان دو نام اور ایک قالب ہیں ایک دوسرے کے بغیر ریاست کی تعریف اور تشریح بھی ممکن نہیں لہذا میرے نزدیک گلگت اور بلتستان کو دو الگ زاویوں سے دیکھنا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک فیشن چلا ہے کہ عوامی غفلت لاپروائیوں ،عوامی نمائندوں کے متصبانہ اور مفاد پرستانہ رویوں پر بھی ریجن کو گنہگار ٹھہراتے ہیں جو کہ میرے خیال سے ہم اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ظالم اورمفاد پرست لوگوں کو مسلسل عوام پر مسلط رہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے مسائل پر بہت کچھ لکھا جاچُکا ہے لیکن جب سے نون لیگ کی حکومت آئی ہے ایسے ایشو ز پر لکھنا ایک طرح سے شجر ممنوعہ قرار دیا ہوا ہے اس وجہ سے ہم نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے کہ اب مزید کالم کے جھنجھٹ میں پڑ کر خود پر پریشان نہیں کرنا ہے لیکن کبھی کبھار ایسے مسائل ایسی من گھرٹ خبریں نظر کے سامنے سے گزر جاتی ہے تو دل کرتا ہے کہ دل کھول کر لکھوں لیکن پھر قلم کو روک دیتا ہوں کیونکہ نون لیگ کی حکومت ہے۔ اُن کے منشور میں عوام دوست پالیسی نہیں بلکہ وطن کے سرحدوں پر لڑ نے والوں سے لڑائی ہے،اُن کے منشور میں جمہوریت کے نام پر شخصی حکومت کے ذریعے مملکت پاکستان کے جڑوں کو کرپشن اور لوٹ مار کے ذریعے کمزور کرناہے، اُن کے منشور میں اظہار رائے کی آذادی کا گلا دبانا ہے ،لوگوں کے نظریئے کو خریدنا او ر مہرے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ ایسا ہی کچھ گزشتہ ان دنوں گلگت بلتستان میں دیکھنے کو ملا جو کبھی کہتے تھے کہ گلگت بلتستان نہ کشمیر کا حصہ ہے نہ پاکستان کا بلکہ ایک ملک ہے اس ملک کی سرحدیں پاکستان ،ہندوستان،چین ،روس اور افغانستان سے ملتی ہے اُنہوں نے دیامر جیسے علاقے میں نئے مملکت کی قیام کیلئے زمانہ طالب علمی سے لیکر نوکری سے کچھ سال پہلے تک ایک نسل کو تیار کیا، مگر آج وہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے نقشے پر گلگت بلتستان کے جو علاقے تنازعہ کشمیر کی وجہ سے متنازعہ ہیں ان میں استور بلتستان اور سنٹر گلگت شامل ہیں جبکہ دیامر غذر اور ہنزہ نگر بین الاقوامی عدالت میں آج بھی متنازعہ نہیں ہیں اور دوسری جانب سی پیک کا رووٹ ہنزہ اور دیامر سے ہوتا ہوا پاکستان میں شامل ہوتا ہے جو کہ متنازعہ علاقے نہیں ہیں۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔ جی ہاں میں ذکر کر رہا ہوں ترجمان حکومت گلگت بلتستان کی جنہوں نے مسلسل جھوٹ بولنے کا بیڑا اُٹھایا ہوا ہے۔ عرض یہ ہے کہ امریکی وزیر دفاع کاحالیہ بیان جس کی ہم گلگت بلتستان کے باشندے بھرپور انداز میں مذمت کرتے ہیں پاکستان سے ہماری محبت واقعی میں لامتناہی ہیں ہم نے ہر موڑ پر مملکت پاکستان کیلئے قربانی دی ہے اور دیتے رہیں گے کیونکہ اس ملک کو قائد اعظم نے انسانوں کیلئے کلمہ لاالہ کی بنیاد پر بنایا تھا لیکن آج دیمک کی طرح کھانے والوں کے ہاتھ چلاگیا وہ الگ مسلہ ہے۔لیکن اس مطلب ہر گز یہ نہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کا پاکستان کے بارے میں خدانخواستہ کوئی شکوک شبہات ہو، ہمارا شکوہ تو اُن حکمرانوں سے جنہوں نے حفیظ الرحمن اور ناشاد جیسوں کو ہم پر مسلط کیا ہوا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس بات سے مملکت پاکستان بھی متفق ہیں ماضی کے پالیسی سازوں کے کچھ غلط فیصلوں نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بننے میں بڑی رکاوٹ کھڑی کی ہوئی ہے مگر اس بیان کو لیکر ترجمان حکومت گلگت بلتستان کا بلتستان اور تشیع دشمنی پر اُتر آنا سمجھ سے بالا تر ہے بلکہ اُن کے اُس کالم نے بہت سے لوگوں کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا ہے جو نون لیگ کو گلگت بلتستان کا مسیحا سمجھ رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں امریکہ کو سی پیک ہر قیمت پر ہضم نہیں ہورہا ہے ممکن ہے کہ امریکہ کہ پشت پناہی میں ہندوستان کرگل اور لداخ کے راستے سے دراندازی کر کے بلتستان تک رسائی کی کوئی ناکام کوشش کرے اس حوالے سے گلگت بلتستان کی قوم اور پاک فوج کو چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے ایسا کیوں لکھا بعد میں جواب دوں گا لیکن اُنکی بند انکھوں نے شائد یہ نہیں دیکھا کہ افغانستان اس وقت انڈیا کا ایک طرح سے اڈا ہے جہاں سے وہ پاکستان میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت سی پیک کے خلاف سازشوں کا مرکز افغانستان ہے مگر موصوف کو واخان کی طرف سے سیدھے سی پیک روٹ پر کوئی دراندازی کا خدشہ نظر نہیں آ یااور نہ ہی انڈیا سے سی پیک کے قریب ترین  بارڈر استور سے دراندازی کا کوئی خطرہ نظر نہیں آیا۔لیکن موصوف کو لگتا ہے کہ انڈیا اس کام کے لیئے سب سے لمبا روٹ اختیارکرے گا۔ افسوس ہوتا ہے اس قسم کے لوگوں کی متعصبانہ سوچ پر جو بڑے نرم انداز میں دل بات کہہ جاتے ہیں، اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ واہگہ سے بھارت کیلئے تجارت ہے لیکن سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں، مظفر آباد سری نگر بس سروس سے بھی سی پیک کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی جندال رات کی تاریکی میں نواز شریف کی دعوت پر مری آنے پر بھی سی پیک کو کوئی خطرہ ہے اگر خطرہ ہے تو اُس روٹ سے جہاں سے تجارت ہوا تو بلتستان کے مسائل حل ہوسکتا ہے یہ راستے کھل جاتے ہیں تو ہزاروں منقسم خاندانوں کو ملنے کا موقع مل سکتا ہے ۔لیکن افسوس بلتستان دشمنی میں بلتستان ریجن کے مسائل کی حل کو بھی سی پیک کیلئے خطرات سے جوڑ کر حکومت گلگت بلتستان نے خبث باطن کو عوام کے سامنے واضح کر دیا۔ کل تک ہمیں اس بات پر رونا تھا کہ ایفاد پراجیکٹ کو مسلک کی بنیاد پر تقسیم کیا ،سرکاری محکموں میں بلتستان سے کسی بڑے عہدے کیلئے سلیکشن ناممکن ہوگیا، بلتستان کی زمینوں کو خالصہ سرکار کے نام پر لوٹا جارہا ہے ،اضلاع بنائے لیکن فنڈز نہیں دئے گئے، بلتستان ڈولپمنٹ اتھارٹی ایک خواب بن کر رہ گیا سکردو شہر کی خستہ حال سڑکوں کو ترکول پلاستر کرکے عوام کو بیوقوف بنایا گیا اور اب کرگل سکردو روڈ کے حوالے تمام تر کوششوں پر پانی پھیر کر اس باب کو مکمل بند کرنے کیلئے سازشیں کرنے پر تُل گئے۔ میں اس کالم کے وساطت سے چیف آف آرمی سٹاف جناب جنرل قمر باجووہ صاحب سے گزارش کروں کا کہ اہل بلتستان کی فریاد سُنیں اس خطے کو ایک سازش کے تحت دیوار سے لگایا جارہا ہے یہاں کے عوام کو آرمی سے لڑانے کی سازشیں ہورہی ہے یہی وجہ ہے کہ ترجمان حکومت گلگت بلتستان نے بھارت اور افغانستان کے ساتھ برادر اسلامی ملک ایران کو بھی سی پیک مخالف قوتوں میں شامل کرکے دراصل گلگت بلتستان کے اکثیریتی طبقے کو ورغلانے کی ناکام کوشش کی ہے تاکہ اُنکے عزائم کی تکمیل ہوسکے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*