تازہ ترین

اُمت اخبار کا امت میں انتشار پھیلانے کی کوشش۔

چوبیس جولائی کو امت نامی ایک اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا  جس کا عنوان تھا “نوربخشیوں کی باطل مذہب”۔۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ عنوان ہی غلط ہے اور دوسری بات جس نے لکھی ہے وہ ایک ان پڑھ جاہل اور اسلام کا نام نہاد پیروکار ہے جو اسلام کے لبادے میں یہود و نصارا کیلئے کام کر رہے ہیں،سادہ الفاظ میں ہم غیر مُلکی ایجنٹ کہہ سکتے ہیں۔اس مضمون میں نوربخشہ مسلک کے روحانی پیشوا حضرت شاہ سید محمد نوربخش(ر ح) کے حوالے سے من گھڑٹ اور بے بنیاد باتیں شائع کی تھیں،اور بے بنیاد الزامات عائد کیا ہے،حالانکہ ان الزامات سے نوربخشیوں اور شاہ سید (علیہ رحمہ) سے کوئی تعلق نہیں۔نوربخشی مسلک کو ماننے والوں کی پاکستان کے نام نہاد صوبہ سرزمینِ بے آئین گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ آبادی ہے۔یہ مسلک انتہائی مہذب اور خدا ترس مسلک ہے،ذکر و ازکار، درود و سلام، ذکر حسین(ع) جیسی عبادات جتنا اس مسلک کے ماننے والے ادا کرتے ہیں کسی اور مسلک کے ماننے والوں میں نے نہیں دیکھا۔یہ مسلک دینِ اسلام کے حقیقی پیروکار ہیں۔صحیح طرح اسلام کے تعلیمات پر عمل پیرا اور دینِ اسلام کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر ماننے والے اسی مسلک کے لوگ ہیں۔ان کی آبادی ضلع گنگچھے میں سب سے زیادہ ہے،یہ وہ ضلع ہے جسے عمران خان نے قومی اسمبلی میں پاکستان کا سب سے پُرامن ضلع قرار دیا تھا،اور یہ حقیقت ہے پورے پاکستان میں سب سے زیادہ پرُامن علاقہ ضلع گنگچھے ہے،جہاں قتل اقدامِ قتل،چوری،ڈکیتی،زنا،اغوا برائے تاوان،وغیرہ جیسی کوئی کیس فائل نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر درج ہوتی ہے، چھوٹی چھوٹی کیسز جیسے زمین کے تنازع،پانی کا مسئلہ اس طرح کے کیسز گاوں کے بڑے لوگ خود ہی حل کرتے ہیں۔تھانے بند پڑے ہیں کیونکہ کوئی کیس تھانے میں نہیں پہنچتے۔ پورے پاکستان میں دو ہی مسلک ہیں جس کو پر امن ترین مسلک ہونے کا درجہ حاصل ہے، ۱۔۔۔۔اسماعیلی ۲۔۔۔۔ نوربخشی یقین نہیں آتے تو آپ لوگ خود تحقیق کریں ضروری نہیں میری بات ہی صحیح ہو۔۔ اس پُرامن علاقے میں رہنے والے اور پرامن مسلک کو باطل مسلک کہنا سراسر ناانصافی اور زیادتی ہے۔ایسے جاسوسوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لایا جائے۔یہ گلگت بلتستان کی امن کو خراب کرنے کی ایک اور ناکام سازش ہے جسے ہم انشااللُّٰہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔میرا دیس گلگت بلتستان کو ہم فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا نہیں چاہتے ہم امن کے داعی ہیں،ہم اسلام کے حقیقی پیروکار ہیں،ہم امیر کبیر سید علی ہمدانی کے ماننے والے ہیں جس نے کشمیر سے لے کر گلگت بلتستان تک اسلام کا نور پھیلایا تھا۔ہم شاہ سید محمد نوربخش کے پیروکار ہیں جس نے ہمیں حقیقی اسلام سے روشناس کرایا،۔ امت کے نام پر امت کے اندر انتشار پھیلانے والے ایسے نام نہاد اخبار اور کالم نگار کی گھٹیا زہن اور سازش کو بے نقاب کر کے رہیں گے۔ہم سے اُلجھو گے تو بہت پچھتاؤ گے۔ہم سلجھے مزاج لوگ ہیں ہم سے زیادہ نہ الجھیں ۔ آج کل ویسے بھی ہر مولوی اور مسلک کی اپنی اپنی اسلام ہے۔ہر کوئی ایک دوسرے کو کافر گردانتے ہیں اور کافر کو دوست بنا کے پھرتے ہیں۔پیسے کی ہوس نے ان نام نہاد اسلام کے پیروکاروں کے آنکھوں پہ پٹی باندھا ہوا ہے۔اسلام کا الف ب بھی نہیں پتہ اور کافر کا فتویٰ جاری کرتے ہیں ،ان کو میں اسلام کا دشمن قرار دیتا ہوں یہ لوگ اسلام اور ملک قوم کیلئے ناسور ہے۔یہ قوم کے اندر وبا پھیلا رہے ہیں۔یہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اپنی زاتی مفاد حاصل کرتے ہیں،یہ لوگ یہود و نصارا کے ایجنٹ ہیں۔یہ مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کے حقیقی دشمن ہیں۔ ان کے زہنوں میں یہودیوں اور عیسائیوں نے پیسوں کا ہوس ڈالا ہوا ہے،یہ لوگ ڈالر کیلئے اپنا سب کچھ بیچ دیتے ہیں،ان کی باتوں اور فتوں کی کوئی اہمیت نہیں،یہ لوگ فتنے پھیلاتے ہیں،اس طرح کے اخبارات مُلک و قوم کے دشمن کیلئے کام کرتے ہیں،کسی کے کافر کہنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا،کسی کے باطل کہنے سے کوئی مسلک باطل نہیں ہوتا۔ویسے بھی کون ہوتے ہو تم لوگ فتوے لگانے والے؟؟ہمیں اسلام سمجھانے کی ضرورت نہیں،اللّٰہ کے فضل و کرم سے ہم اسلام سے آشنا ہے،ہمیں معلوم ہے احکامات اسلام اور محمد (ص) کے احکامات۔ہمیں تم لوگوں کے فتوں کی ضرورت نہیں ۔میرے جنت نظیر وادی میں انتشار پھیلانے کی ایسی کوششوں کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ امت اخبار اُمت کے نام دھبہ ہے،اس میں جو کالمز شائع ہوتے ہیں وہ حقیقت کے منافی ہے،اس میں انتشار پھیلانے والی تحریریں زیادہ شائع ہوتے ہیں جس سے ہمیں ان کے مذموم مقاصد کا پتہ چلتا ہے،یہ ملک و قوم میں فرقہ واریت جیسی ناسور کا بیج بو کر ہمیں آپس میں دست و گریباں کرانے کی کوشش کر رہے ہیں،یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔ میری حکومت پاکستان،وزیراعلٰی گلگت بلتستان،بلتستان کے نمائندوں، ایجنسیز سے گزارش ہے ایسے جاسوسوں کو بے نقاب کرائیں،ان کے مذموم مقاصد کو عوام تک پہنچائیں عوام کو بتائیں یہ لوگ مُلک و قوم اور دین کے دشمن ہیں۔ پیمرا کے ڈائریکٹر سے گُزارش ہے فوراً اُمت اخبار کا لائسنس منسوخ کریں تاکہ یہ لوگ اپنے گھناؤنی سازشوں میں ناکام ہو سکے۔ ایسے کافر اور باطل کا فتویٰ لگانے والوں کی زہنیت کو میں ایک نظم سے بیان کروں گا۔۔ تو بھی کافر میں بھی کافر یہ بھی کافر وہ بھی کافر فیض کی غزلیں بھی کافر اقبال کی نظمیں بھی کافر قائد کا فرمان بھی کافر سر سید کا کالج بھی کافر پھول بھی کافر کلی بھی کافر جو ان سے نکلے وہ خوشبو بھی کافر نعتیں پڑھنے والے کافر حمد پڑھانے والے کافر لیلٰی و مجنون بھی کافر شیریں و فریاد بھی کافر سسی اور پنوں بھی کافر سوہنی کا مہیوال بھی کافر ہیر اور رانجھا بھی کافر عشق بھی محبت بھی کافر نیوٹن کے قانون بھی کافر سائنس کی ہر تھیوری کافر ارسطو اور افلاطون بھی کافر سقراط کے سارے فلسفے بھی کافر انگریزوں کا اسلام صحیح ہے ہندوؤں کا بھگوان سچا ہے یہودیوں کا اسرائیل صحیح ہے بُدھ مت کا بُدھا سچا ہے ہم جو کھاتے وہ بھی کافر تم جو پیتے ہو وہ بھی کافر شیعہ کافر سُنی کافر سلفی کافر دیوبندی کافر بریلوی کافر شافعی کافر نوربخشی کافر مالکی کافر اسلام کے سارے فرقے کافر مسلمان سارے کے سارے کافر کافر کافر تو بھی کافر کافر میں بھی کافر جو نہ مانے وہ بھی کافر۔۔

تحریر۔ فیصل آکاش

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*