تازہ ترین

گلگت بلتستان کے عوام کوایک طرف بنیادی آئینی جمہوری اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے،دوسری طرف ایک غیر آئینی ناقص فرسودہ عدالتی نظام کے ذریعے عوام کو انصاف کےبنیادی حق سے بھی محروم رکھا گیا۔ سنئیر وکلا کا پریس کانفرنس۔

گلگت ( تحریر نیوز) گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ بارکے صدر احسان علی ایڈووکیٹ اور جی بی ہائی کورٹ بار کے صدر اسداللہ خان ایڈووکیٹ نے دیگر عہدیداران بار کے ساتھ گلگت پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کوایک طرف بنیادی آئینی جمہوری اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے دوسری طرف ایک غیر آئینی ناقص فرسودہ عدالتی نظام کے ذریعے عوام کو انصاف کےبنیادی حق سے بھی محروم رکھا گیاہے، گورننس آرڈر 2009 کے تحت سپریم اپیلٹ کورٹ ایک چیف جج اور دو ججوں پہ مشتمل ہے اور ان تینوں ججوں نے ملکر مقدمات کی سماعت کرناہے۔مگر گزشتہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے ایک جج کی سیٹ خالی ہونے کی وجہ سے سپریم اپیلٹ کورٹ نامکمل شکل میں کام کررہی ہے چیف کورٹ میں ججوں کی دو آسامیاں خالی پڑی ہیں جی بی سروس ٹرائیبونل ایک سال سے ججوں کی عدم تعیناتی کی وجہ سے بند پڑا ہوا ہے مگر جی بی وکلاء کے نمائندوں کی طرف سے بار بار مطالبات اور گورنر وزیر اعلی کی طرف سے وکلاء کے تمام مطالبات کو جائز سمجھنے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہورہا ہے وکلاء کی نظر میں موجودہ نامکمل سپریم اپیلٹ کورٹ کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش ہے فیصلوں میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے جا رہے ہیں حکومت تیسرے جج کی تقرری کرنے میں تاخیری حربے آزما رہی ہے جج کی تقرری کیلئے تیار کردہ سمری میں حکومت نے جان بوجھ کر چیف کورٹ کے ریفرنس زدہ سابق چیف جج صاحب خان اور مانسرہ سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کے ایک منظور نظر وکیل کو نامزد کیا گیا ہےجن کو تسلیم کرنے کیلئے جی بی کے وکلاء کسی طور تیار نہیں۔وکلاء نمائندوں نے بار بار موجودہ چیف جج سپریم اپیلٹ کورٹ سے فیصلے آئین و قانون کے مطابق میرٹ پہ کرنے اور سپریم اپیلٹ کورٹ میں غیرقانونی طور پہ بھرتی غیر مقامی افراد کو فارغ کرکے انکی جگہ میرٹ پہ مقامی افراد بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا لیکن یقین دہانی کے باوجود کوئی عمل درآمد نہ ھو سکا دوسری طرف حکومت اور اسمبلی اراکین اپنے مفادات و مراعات میں 300 گنا اضافہ ایک اسمبلی سیشن میں کرتے ہیں مگر پسے ہوئے عوام کیلئے ایک آزاد خودمختار عدالتی نظام دینے میں ذرا بھی سنجیدہ نہیں اس صورت حال میں وکلاء برادری کے پاس سوائے نامکمل سپریم اپیلٹ کورٹ کے بائیکاٹ کے اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا ہےاس لئے 5 اکتوبر 2017 کو سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے جنرل باڑی اجلاس میں اپنے مطالبات کی منظوری تک سپریم اپیلٹ کورٹ کا مکمل بائیکاٹ کرنےکا فیصلہ کیا ھے وکلاء نمائندوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ فوری طور پہ ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گیئے تو جی بی کے وکلاء اپنے احتجاج کو جلسہ جلوس مظاہروں اور اسے ایک عوامی تحریک میں بدلنے کیلئے عوام سے رابطہ کیا جائے گا۔ اپنے مطالبات کا اعادہ کرتے ھوئے وکلاء نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ میں خالی آسامی پہ فلفور مقامی اہل وکلاء میں سے میرٹ پہ تعیناتی عمل میں لائی جائے ، جج کی تقرری سے متعلق موجودہ حکومتی متنازعہ سمری میں شامل ریفرنس زدہ سابق چیف جج صاحب اور بعض حکومتی اہلکاران کے منطور نظر مانسرہ کے وکیل کے نام واپس لیکر صرف گلگت بلتستان کے وکلاء میں سے اہلیت کی بنیاد پہ جج کی خالی آسامی پر کی جائے، گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ میں ججوں کی تقرری حکومت وقت کی مرضی کے بجائے پاکستان میں ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی طریقہ کار ایک جوڈیشیل کمیشن کے ذریعے کیا جائے۔ سپریم اپیلٹ کورٹ میں درجنوں غیر مقامی افراد کو سراسر خلاف ضابطہ و قانون بھرتی کیا گیا ھے ان سب کو فارغ کرکے انکی جگہ مقامی افراد کو میرٹ پہ بھرتی کیا جائے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*