تازہ ترین

میرے بعد میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا۔۔

بھارت کے شہر گجرات کے نواحی گاوں میں پیدا ہونے والے ایک مہاجر شخص جنہیں محسن انسانیت عبدالستار ایدھی کے نام سے جانا جاتا ہے اُس کے یہ الفاظ ”میرے بعد میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا“ نے مجھے آج بے حد افسردہ کر رکھا ہے۔کیوں نا دل افسردہ ہو اس وقت ہمارے ملک میں غربت کی سطح اپنے انتہائی کو چھو رہا ہے۔غربت کی بڑھتی ہوئی شرح میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ذندگی گزار رہا ہے۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار خود نے اپنے دور حکومت میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک کے ٥٦ فیصد آبادی خط غربت سے نییچے ذندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ان کے اعداد شمار میں یومیہ تین ڈالر کمانے والا اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔جبکہ عالمی بینک کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے ساٹھ فیصد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔ساٹھ فیصد آبادی یومیہ دو ڈالر یعنی دو سو روپیے کے سہارے اپنی ذندگی کے پہیہ رواں رکھے ہوے ہیں۔میرا حافظ اگر غلط نہ ہو تو ١٧ اکتوبر کو عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ یہ دن سب سے پہلے فرانس کے لبرٹی پلازہ کے سامنے بھوک اور غربت سے تنگ ایک لاکھ کے مجموعے نے دنیا میں غربت و افلاس سے مجبور انسانوں کی خاطر آواز حق بلند کرنے کے لئیے جمع ہوے تھے ۔بعد ازاں ١٩٩٣ میں اقوام عالم کے نمائندہ تنظیم اقوام متحدہ آگے آےاور جنرل اسمبلی سے ایک قرداد منظور کی جسکا موٹو یہ تھا کہ جو بھی شخص بھوک و افلاس و انتہائی غربت میں رہنے پر مجبور ہو گا وہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جاے گا اور ان کے حقوق کی فراہمی اقوام متحدہ کی اولین ذمہ داری ہیں۔اس دن کو منانے کا مقصد اقوام عالم کو یہ باور کرانا ہے کہ غربت ،بھوک و افلاس کاخاتمہ ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔مگر ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی شرح غریبوں کو یہ باور کرا رہی ہے کہ غربت کی نشوونما میں دن بدن اضافہ کرنا ہمارے سرمایہ دارانہ نظام کا نہ صرف موٹو ہے بلکہ سرمایاداروں پرمبنی حکومت ہمارا عین اصول ہے۔ایٹمی طاقت رکھنے والے ہمارے ملک میں مجھ سمیت ٦٠ فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ذندگی گزارانے پر مجبور ہیں۔میرا تذکرہ اس لٸیے لازم ہے کیونکہ راقم بھی سابق وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے رپورٹ کے مطابق یومیہ دو ڈالر یعنی دو سو روپیے کمانے والوں میں شامل ہے بلکہ راقم ١.٥ ڈالر کمانے والوں کی فہرست میں ہے اس لئیے میرا شمار انتہائی غربت کا شکار حامل لوگوں میں ہو گا۔عالمی بینک کے رپورٹ سے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کا ہر تیسرا فرد غربت کا شکار ہے۔لیکن ہمارے سرمایاداروں پر مشتمل حکومت غربت کے خاتمے کی نویدیں سناتے نہیں تھکتے ہیں جبکہ اس کے برعکس غربت کے مارے لوگوں کا روح اور جسم الگ الگ نظر آتے دکھائی دیتے ہیں۔اسی لئیے غربت و مفلسی کے مارے عوام اپنے روح اور جسم کو ملانے کی خاطر کھبی خودکشی کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کھبی بچوں کو فروخت کرنے کے لئیے مصر کے بازار چلا جاتا ہے۔جب اس سے بھی حل کی گنجائش نظر نہیں آتی تو مختلف جرائم کا ارتکاب ہو جاتا ہیں۔خیال رہے غربت کا تعلق ملک کی معاشی ترقی سے مربوط ہے اور کوئی بھی ملک اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہاں کے عوام کو اپنی اہلیت و صلاحیت کے مطابق روزگا نہیں مل پاتا۔مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں پر ہمیشہ سیاسی خاندانوں اور اشرافیہ کی حکومت رہی ہیں جن کا کام اپنے عزیزوں،جیالوں،متوالوں یوتھیوں اور درباریوں کو نوکریوں کی بندر بانٹ کرنا ہے۔ہمارے حکمرانوں کا کام ملکی وسائل کو اپنے کاروبار اور اولاد کی ولائتی تعلیم پر خرچ کرنا ہے۔جس کی وجہ سے ہمارا ملک عموماً معاشی مشکلات کا شکار رہتا ہے اور دن بدن غربت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اگر ہمارے حکمران واقعی میں ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے یقیناً معاشی ترقی غربت کے خاتمہ کا سب سے بہترین حل ہے۔اس کے لیے ملک میں مقامی اور غیر مقامی سرمایاداروں کا دل جیت لینا ضروری ہے تاکہ وہ مطمئن ہو کر مختلف ریجنز میں صنعتیں قائم کر سکے۔اور مقامی لوگوں کو حکومتی و دوسرے اداروں میں میرٹ پر ملازمت دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دلجمعی سے کام کر کے ملک کے لیے مزید سرمایہ پیدا کر سکے۔بجلی،گیس سمیت توانائی کے تمام ذرائع میسر کریں تاکہ صنعتوں کی ضروریات پوری ہو سکے۔جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ معاشی ترقی غربت کے خاتمے کا ہتھیار ہے اس سے مراد اہل لوگوں کو روزگار و ملازمت کی فراہمی میرٹ کی بنیاد پر کیا جاے تاکہ وہ بہ خوشی اپنی خدمات دے کر کام بہتر طریقے سے انجام دے سکے۔جس سے لوگوں کی معیار زندگی بہتر ہو گی اور وہ ترقی و بہتری کے لیے دلجمعی سے ہر وقت کوشاں رہے گا۔جب ملک کے رعایا خوش و مطمئن زندگی بسر کریگی تو ملک کی خوشحالی یقینی ہو گی جوکہ سرمایا ثابت ہو گا اور ہمارے ملک کو اس وقت ان سرمایوں کی اشد ضرورت ہے۔
تحریر :ذوالفقار علی کھرمنگی

  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares
  •  
    8
    Shares
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*