تازہ ترین

اکہتر سالہ استحصالی پروزارت امور کشمیرگلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگیں۔ سید عباس کاظمی

سکردو(پ،ر)تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینیئر رکن سید محمد عباس کاظمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے ریاست جموں کشمیر کے ایک انتہائی اہم اورآزاد حصہ گلگت بلتستان کے ساتھ اس طرح کھیلا جس طرح قدیم دور میںدشمن اپنے دشمن کے سر کو کاٹ کر اس سے کھیلتے تھے ۔وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات (اب گلگت بلتستان) میں لوکل اور نان لوکل کی تفریق کا ڈرامہ رچا کر آقا اور غلام کلچرکو متعارف کروایا۔ جموں کشمیر لاء کے ایک اہم ترین شق ‘‘ سٹیٹ سبجیکٹ رولز ‘‘ جو ریاست جموں کشمیر کے ہر حصہ کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک مضبوط قلعہ تھا اسے بغیر کسی وجہ یا قانونی اختیار کے معطل کرکے غیر ریاستی ڈاکوووں ‘ قاتلوں ‘ دہشت گردوں ‘ سمگلروں اور فرقہ پردازوں کو یہاں کھلا میدان فراہم کرکے نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام پر بڑے ظلم کیے ‘ بڑی نا انصافیاں کیں وہاں اقوام متحدہ کے قوانین اورقراردادوںکی کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ اس قانونی شق کے معطل کرنے کا کسی طرح بھی وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کو اختیار نہیں تھا۔گلگت بلتستان کے ساتھ اس وزارت نے جو یہاں کے عوام کی بہتری اور حکومت پاکستان کا اقوام متحدہ میں کشمیر سے متعلق موقف کے تحفظ کے لئے بنایا گیا تھا لیکن اس کے برعکس یہاں کے عوام کا پچھلے ستر سالوں سے استحصال کیا ‘ یہاں کرپشن کو کی ابتدا کی اور اس کی سرپرستی کی کی اب یہ اتنا بڑا درخت بن چکا ہے کہ اسے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں ‘ اس وزارت کے اہلکاروں کے انہی منفی پالیسیوں کہ وجہ سے گلگت بلتستان کے برادر عوام ٹکروں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ۔ یہاںخون کی ہولیاں کھیلی گئیں ‘ مسلمانوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا‘ مختلف ترقیاتی پیکیج اور بے اختیار نام نہاد قانون سازاسمبلی کے نام پریہاں کے عوام کو مسلسل د ھوکے میں رکھ کر کوخوشامدیوں کے ایک ٹولے کوتیار کیا تاکہ اس وزارت کی گندی پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کا کام کرتارہے ۔اب ملک کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کرکے کہ گلگت بلتستان میںسٹیٹ سبجیکٹ رولز نافذ ہے اس فراڈ اور گلگت بلتستان دشمن وزارت کی قلعی کھول دی ہے ۔ گلگت بلتستان کے پندرہ لاکھ باشندے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے تمام کشمیر دشمن سیاہ کارناموں اور گلگت بلتستان کے باشندوں کے ساتھ کئے گئے استحصال پر باقاعدہ میڈیا کے ذریعے معافی مانگ لے ۔ عباس کاظمی نے وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو اس وزارت امور کشمیر سے نکال کر اسے وزارت خارجہ کے حوالے کی جائے اور کشمیر کمیٹی کا چیر مین باری باری گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر سے لیا جائے۔کشمیر کمیٹی کے چیر مین شپ کا حقدار اس تنازعہ میں گرفتار لوگوں کا حق ہے جو پچھلے ستر سالوں سے ریاست کشمیر میں اتصواب رائے کا انتظار کررہے ہیں۔ ملک کے ان لوگوں کا اس سربراہی سے کیا کام جن کا کشمیر کے مسئلہ اور یہاں کے عوام سے نہ کوئی تعلق ہے اورنہ کوئی ہمدردی ہے۔

  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares
  •  
    9
    Shares
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*