تازہ ترین

گلگت بلتستان اور سی پیک۔۔۔

گلگت بلتستان کُرہ ارض وہ حصہ ہے جو کہ بہت اہمیت کا حامل خطہ ہے ۔اس میں دنیا کے چار سے زائد ممالک کی سرحدیں ملتی ہے جن میں افغانستان،چین ، تاجکستان اور بھارت شامل ہے ۔اور دنیا کے سب سے بڑی چوٹیاں اور دنیا کا سب سے بڑا بلند و بلا پہاڑ کےٹو بھی اسی خطے میں ہی واقع ہے ۔ دنیا کی تیسری بڑی چوٹی نگاپربت بھی اسی علاقے میں ہی ہے جو کہ سیا حوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جس کو کلنگ موٹین بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کی اآسمان سے گزری ہوئی ہر شے کو اپنی طرف کھنچتا ہے دنیا کے پانی کے سب سے زیادہ شف و شفاف ذخائر اس علاقے میں پائے جاتے ہے اور دنیا کا سب سے بڑا اونچھا او قدرتی پارک دیوسائی بھی اس علاقے کی قدرتی خوبصیورتی کی عکاسی کرتا ہے ۔بہتے ندی نالے ، شور مچاتی آبشاریں دریا اور جیھیلں اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی کو مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کی دنیا کے سب سے بڑے گلشیرز بھی اس علاقے میں اپنا وجود آپ رکھتے ہے ان میں سب سےبڑا گلشیرز بلتورو گلشیر ہے ۔اسلئے گلگت بلتستان کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کا پانی پورے پنجاب کو سہراب کرتا ہے گلگت بلتستان کے ان پہاڑوں کے اندار قدرتی وسائل چھپے ہوے ہیں ۔ اگر ان قدرتی وسائل کو وہاں کے باسی بروئے کارلا کر لاکھوں کروڑوں روپے کما سکتے ہے گزشتہ ستر سالوں سے ہم ان پہاڑوں کو اپنی ظاہری آنکھ سے دیکھتے ہوئے آرہے ہیں ۔ لیکن ابھی تک صوبائی اور وفاقی حکومت بھی ناکام ثابت ہورہی ہے ۔ اور اس علاقے میں پانی کے ذریعے کئی ہزار میگاوات بحلی پیدا ہو سکتی ہے ۔ اور حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اس کام کے اوپر بھی کسی قسم کے اقدامات نہیں ہوئی سی پیک جو کی پورے پاکستان کا اایک بڑا منصوبہ ہے اور اایک بڑا گمیز چنیجر ثابت ہو رہا ہے۔ اس منصوبے کوآگے لے کر جانے میں گلگت بلتستان کا اہم کردار رہا ہے۔لیکن اس کے بدے میں حکومت پاکستان نے سی پیک میں گلگت بلتستان کے ساتھ سوتھلی ماں جسا سلوک کیا ہے۔ اس خطے کو پاک چین دوستی کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے ۔اور یہ علاقہ درہ خنجراب کے راستے پاکستان کو چین سے ملاتا ہے ۔اور پاکستان اور چین کے تجارت بھی اس علاقے کے درمیانی راستوں سے ہوتی ہے ۔اس علاقے نے پاکستان اور چین کے دوستی کو ہمشہ قائم اور دائم رکھا ہے۔ آج کل گلگت بلتستان کے باسیوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سولات اوبھر رہے ہیں ۔ کیا سی پیک میں باقی صوبوں کی طرح گلگت بلتستان کو بھی اسُ کا حصہ مل رہا ہے ؟ گلگت بلتستان میں ترقیاتی کام اورراہداری کیوں نہیں ہو رہی ہے؟سی پیک میںگلگت بلتستان کا کوہی منصوبہ شامل کیوں نہیں ہے ۔گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے سولات کے جوابات ارباب اقتدار کے پاس بھی نہیں اور وفاقی حکومت نے ان سولوں کو یہ کہہ کر رد کر دیا کی گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں در حقیقت یہ بات درست بھی ہے ۔اس بات کا اطلاق پاکستان کی سب سے بڑی عدلت سپرہم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں بھی کیا ہے ۔ہر ریاست کے یہ فرائض ہوتے ہے کی وہ اپنے ریاست کے اندار رہنے والے تمام شہریوں اور وہاں کے اندر بسنے والے لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں چاہے وہ اس ملک کے کسی صوبےمیں رہتے ہو یا کسی متنازعہ علاقے میں حقوق سب کےلئے مساوی ہوا کرتے ہیں ۔خواہ وہ اُس ملک کا حصہ ہو یا نہ ہو ۔ان میں کسی کو بھی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاتا ہے ۔ آپ آجائے سی پیک پرکہتے ہیں ہیں کی سی پیک گلگت بلتستان کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا اور اسکے مراعات سب سے زیادہ گلگت بلتستان کو ملے گے۔ لیکن ابھی تک تو کوئی مراعات اور فائدے تو نظر نہیں آرہے ۔ اگر مراعات مل رہے ہے توسی پیک میں گلگت بلتستان کا کوئی منصوبہ شامل کیوں نہیں ہےاور نہ ہیسی پیک ( imo) میں بھی گلگت بلتستان کا کوئی بھی منصوبے کے ذکر نہیں ہے۔ ۔حتی کی گلگت بلتستان چترال ہائی وے جو کی ایک بہت ہی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے ۔ اور اس کے ذریعے پاکستان اور چین اور گلگت بلتستان کو بھی بہت فائدہ ہوسکتا ہے ۔ اس کے باوجود اس منصوبہ پر کوئی بات نہیں ہورہی ہے۔ اور وزیر اعلی گلگت بلتستان نےگزشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کی گلگت بلتستان کو سی پیک میں پورے مراعات دیے جائیں گے ۔ تو وزراعلی کا یہ بیان بھی خالی اعلانات تک رہا اور عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کیے گیے ۔ لیکن ابھی تک کوئی مراعات نہیں مل رہے ہے اور اگر مراعات مل رہے ہوتے توگلگت بلتستان میں اس وقت بیروز گاری کیوں ہےگلگت بلتستان میں ابھی تک لوڈ شیڈنگ کیوں ؟ گلگت بلتستان کے اسپتالوں میں نظام درہم برہم کیوں ؟ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروںمیں کمی کیوں؟ ۔ ان جسے مسائل کے ذمہ دار سابقہ وفاقی اور موجودہ صوبائی حکومت ہے ۔اور ان جسے مساہل کا سامنہ گلگت بلتستان کےغریب عوام کر رہے ہے ۔ یہ غور طلب مو ضوع ہے کی حکومت پاکستان گلگت بلتستان کے ساتھسی پیک کے شروعات سے ایسا سلوک کیا جارہا ہے ۔ اس بات کا ادارک کرنا لازمی ہے کی پاکستان کر دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان مہں بھی کام کیوں نہیں ہو رہا ہے ؟اور حکومت بھی ان سولوں کو خاموش تماشاہی بن کر دیکھ رہی ہے ۔ جب سی پیک کے ان حقوق کے لئے جن جن لوگوں نے آواز بلند کیا ۔ اُن کو شیڈول فوراور ATa جسے کالے مقدمات میں ڈال کر غدار سمجھ کر جیلوں میں نظربند کیا جاتا ہے ۔ اس کی واضح مثال عوامی ورکرز پارٹی گلگتبلتستان کے سیاسی رہنما کامریڈ بابا جان اور اُن کے ساتھی افتخار کربلائی کی ہے ۔ جن کو عوام کے حقوق کے اوپر آواز اٹھانے پر ۔ ان کے اوپر ریاستی جبیر و تشدد کیا اور جیلوں میں ڈال دیا اور وہ ابھی تک نام نہاد مقدمات کی سزا کاٹ رہے ہے ۔ اور آخری چند سطروں میں سی پیک کی نامحرومیوں کا حوالوں سے ذکر کر و گا ۔ سی پیک میں گلگت بلتستان کو اندھیروں میں رکھا ہے ۔ اور نہ ہی ہمیں کوئی حقوق مل رہا ہی ۔ حکومت عوام کو اسےہی بے وقوف بنارہی ہے ۔ اور گلگت بلتستان کی صوباہی حکومت کو چاہے کی سی پیک کے ان مسائل کے بارے میں وفاقی حکومت سے بات کر کے ان کے حل کو یقنی بنائیں اور گلگت بلتستان کےمنصوبوں کو سی پیک میں شامل کر یں۔

تحریر :جنید ایوب شاہتل

  • 74
  •  
  •  
  •  
  •  
    74
    Shares
  •  
    74
    Shares
  • 74
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*