تازہ ترین

شکریہ قاضی نثار احمد صاحب ۔۔

داریل تانگیرکو ملاکرضلع بنانے کا مطالبہ چندسال پہلے سے چلاآ رہاتھا یہ مطالبہ انتخابات کے دوران اوراس سے پہلے مہدی شاہ دورمیں بھی کیاجاتا رہا ضلع کے قیام کوسیاسی جماعتوں نے ان کے امیدوارکی جیت اورکامیابی سے مشروط کردی عوام نے شرط مان لیاکامیابی بھی دلائی جب شرط پوری کرنے کا وقت آیاتوان کے لئے قانونی اوردیگررکاوٹیں آڑے آنے لگیں سو ان شاطرسیاستدانوں نے حیلے بہانے تراشناشروع کردیا جس سے عوام میں مایوسی پھیلنے لگی داریل اورتانگیرضلع دیامرمیں واقع ہے مگروہاں تک رسائی کے لئے جہاں خیبر پختونخواہ کی حدود سے گزرکرجانا پڑتاہے وہاں یہ دونوں بالکل الگ تھلگ نالوں پرمشتمل ہیں اس طرح ضلع دیامرکی انتظامیہ کو انتظامی امورچلانے میں واقعی دشواریاں پیش آرہی ہیں ان علاقوں کے عوام کو بھی بہت سارے مسائل کا سامناہے جن کے حل کے لئے ان علاقوں کو الگ ضلعی سیٹ اپ دیناناگزیرہے لیکن جس سیاسی جماعت نے ان دونوں علاقوں کو ضلع بنانے کا اعلان کیاتھا وہ پس وپیج سے کام لینے لگی اس طرح ان علاقوں کے عمائدین اورزعما کو محسوس ہونے لگا کہ حکومت اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے اس لئے انہوں نے اپنے طورپرآوازاٹھانا شروع کردیا صوبائی حکومت کی کابینہ میں شامل وزیرایکسائزاینڈٹیکسیشن حاجی حیدرخان نے دیگرعمائدین کے ہمراہ حکومت کے خلاف پریس کانفرنس بھی کرڈالی اورالزام عائد کیا کہ حکومت کے پاس چپڑاسی بھرتی کرنے کا اختیارنہیں وہ کس طرح داریل تانگیرکوضلع بنائے گی اس طرح عوامی سطح پربھی چہ میگوئیاں گردش کرنے لگیں اس کی بازگشت امیرجماعت اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان وکوہستان حضرت قاضی نثارصاحب کے دورہ دیامرکے موقع پرسنائی دی سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک ویڈیومیں قاضی صاحب ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے نظرآتے ہیں جس میں وہ فرماتے ہیں کہ کسی رانے اوررانی کے کہنے پرتو ہنزہ ،نگراورشگرکو تو ضلع بنایا لیکن مطلوبہ آبادی ہونے کے بائوجود داریل اورتانگیرکو ضلع بنانے کی ان کو توفیق نہیں ہوئی وہ مسلم لیگ کو مجرم لیگ قرار دیتے ہوئے حق کیلئے آواز نہ اٹھانے پرعوام سے بھی نالاں اور انہیں کے کے ایچ تک جانے اوراحتجاج کرنے کی تلقین کرتے بھی نظرآتے ہیں قاضی صاحب کے دوٹوک مطالبے کے بعد صوبائی حکومت حرکت میں آتی ہے وزیراعلی نے فوری طورپردیامرکا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے داریل اورتانگیرکو الگ الگ ضلع بنانے کا اعلان کردیا وزیراعلی کے مطابق دونوں نومولود اضلاع کو فعال کرنے کے لئے بجٹ میں فنڈ بھی مختص کیا جائے گابہرحال داریل اورتانگیرکے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہواان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں داریل اور تانگیر کے اضلاع کے قیام کا سہرا لازمی طور پر قاضی کو جاتا ہے اب ان شا اللہ ان دونوں علاقو ں کے محب وطن مگرغریب عوام کو درپیش مسائل ان کی دہلیزپرحل ہونگے مولانا قاضی نثارصاحب اگرسخت الفاظ میں حکومت کی گوشمالی نہ فرماتے تو شاید وزیراعلی ضلعی ہیڈکوارٹرکا ایشوبناکرملبہ عوام اورعوامی نمائندوں پرگراکرخود بری ہونے کی کوشش کرتے اوراس میں وہ کامیاب بھی ہوتے مگران کی شاطرانہ چالوں کو قاضی صاحب نے ناکامی کی راہ دکھادی ۔دراصل عوام اوران کے سیاسی یامذہبی رہنمائوں کی طرف سے اس طرح کے سخت لہجوں کا استعمال حکومت کے غیرمنصفانہ اقدامات اورفیصلوں کی وجہ سے ہوتاہے یہاں بھی یہی صورتحال ہے داریل اورتانگیردوالگ علاقے ہیں ان علاقوں تک پہنچنے کے لئے الگ راستے ہیں دونوں کوملاکرضلع بنانے کی صورت ان علاقوں کے عوام کے مسائل اس طرح حل نہیں ہوتے جس طرح الگ الگ ضلع بنانے سے ہوتے ہیں اسی طرح بلتستان کے بھی کئی علاقے داریل اورتانگیرکی طرح ہیں جہاں کی انتظامی تقسیم کے باعث عوام کو گوناگوں مسائل درپیش ہیں ان کو ان کی دہلیزپرحل کرانے کے لئے نئے اضلاع ،سب ڈویژنز اورنئی تحصیلوں کے قیام کی منظوری ناگزیرہے قیام پاکستان کے بعد گلگت بلتستان دوایجنسیوں (بلتستان ایجنسی اورگلگت ایجنسی)میں تقسیم رہے گلگت میںگلگت،ہنزہ نگر،غذر،دیامراوراستورجبکہ بلتستان میںسکردو،روندو،کواردو،شگر،کھرمنگ،گلتری،خپلو،چھوربٹ ،سلترواورہوشے وادی شامل تھے لیکن جب ایجنسی والا نظام ختم ہوا تو ان دونوں علاقوں کی انتظامی تقسیم میں سنگین ناانصافیاں ہوئیں جس کا خمیازہ آج بھی عوام بھگت رہے ہیں مشہ بروم کی آبادی اورمحل وقوع داریل اورتانگیرجیسا ہے چھوربٹ بھی اسی طرح ہے یعنی بلتستان کے دورافتادہ علاقوں میں بھی داریل تانگیرجیسی شرائط اورحساسیت موجود ہے لیکن نہیں ہے تو قاضی جیسا دوٹوک الفاظ میں حکومت کو للکارنے والا نہیں ہے ویسے تو بلتستان علما کی سرزمین ہے یہاں سکردوسمیت دیگرعلاقوں اوروہاں کے بازاروں میں علما کرام عالمانہ پوشاک پہنے نظرآتے ہیںدمگران میں کسی بھی اہم ایشو کی حساسیت کا ادراک ہے نہ ہی کسی اہم ایشو پردوٹوک بات کرنے کی جرات اورہمت ہے جس کے باعث مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں مجلس وحدت المسلمین کے رہنما آغاعلی موسوی بلتستان کے مسائل پرقدرے متحرک نظرآتے ہیں ان کی نیت پرشک نہیں کیا جاسکتاان کی متحرک اقدامات کے باعث مسائل حل ہونے چاہئے وہ ہوتے نظرنہیں آرہے ہیں کیونکہ بسااوقات وہ نان ایشوزپرعوام کو جمع کرتے ہیں جس سے ان کی تحریک کمزورپڑتی ہے مثال کے طورپرایک سیاسی رہنما کی رہائی اورایک ماتحت عدالت کے فیصلوں پراثراندازہونے کے لئے کی جانے والی لانگ مارچ جیسے اقدامات سے اہم ایشوزرہ جاتے ہیں ۔بلتستان کے اہم مسائل حل نہ ہونے میں جہاں سیاسی نمائندے قصوروارہیں وہاں علما کرام اورعوام کی بھی سنگین غلطیاں ہیں جس کے باعث عوام مسائل کے گرداب سے نکل نہیں پارہے ہیں سیاسی نمائندے اس وقت ٹھیکوں کی بندربانث ،اقربا پروری ،سیاسی تبادلوں اورتقرریوں میں مصروف ہیں ان کے یہ اموربخیروخوبی انجام پاتے ہیں تو ان کے لئے یہ بڑی کامیابی ہے اوروہ اسی کامیابی کے پیچھے ہیں عوام بھی شخصی مفادات کے چکرمیں ہیں اسی طرح دوسرے بھی مصروف عمل ہیں بدقسمتی یہ ہے کہ اجتماعی مفادات کیلئے سوچنے والوں کا اس وقت شدید فقدان ہے وزیراعلی کے دورے اوراعلانات سے کم ازکم یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ہم سچ نہیں بول سکتے نہ ہی عوام کے مسائل کی نشاندہی کرسکتے ہیں گزشہ چارسالہ تاریخ آپ کے سامنے ہے”تقدیرکے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے ۔۔ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات”کے مصداق جس نے بھی سچ بولا عوامی نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کی ان کو فورشیڈول میں ڈالاگیا لیکن کوئی بھی قدآورشخصیت نے جس اندازمیں بھی للکارا درست ٹھہرا اورمطالبات کی منظوری میں بھی سرعت دیکھنے کو ملی۔اس وقت گانچھے میں دو اضلاع جبکہ سکردومیں ایک ضلع کے قیام کی اشد ضرورت ہے گانچھے میں مشہ بروم اورچھوربٹ جبکہ سکردومیں روندواورکواردوکے ملحقہ علاقوں کوملاکر ضلع بنانے سے ان علاقوں کے عوام کے مسائل ان کی دہلیزپرحل ہونگے یہاں کے عوام کا مطالبہ بھی یہی ہے ان علاقوں کی آبادی بھی داریل اورتانگیرسے کم نہیں سیاحتی لحاظ سے ہوشے ویلی کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں یہ سب ڈویژن مشہ بروم میں شامل ہے سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور ہوشے ویلی داریل تانگیر کی طرح دو مختلف نالوں پر مشتمل ہے اس لئے ہوشے ویلی میں سب ڈویژن کا قیام انتہائی ناگزیر ہے اسی طرح سلینگ سب ڈویژن ڈوغنی میں شامل ہے یہاں کے غریب عوام کو چھوٹے سے دفتری کام کیلئے یک طرفہ پچاس کلو میٹر طے کرنا پڑتاہے زمہ دار عملہ اور حکام کی عدم موجودگی کی صورت میں متعدد دفعہ چکر کاٹنا پڑتاہے ان علاقوں کے عوام کے لئے سکونتی سند(ڈومیسائل)کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اسی طرح غذر میں بھی ایک ضلع کا مطالبہ بہت پہلے سے چل رہاہے اس سے جہاں ان علاقوں کے مسائل حل ہونگے وہاں وسائل اورمراعات کی تقسیم بھی منصفانہ ہوگااس کا ایک اورفائدہ یہ ہے کہ دوردرازعلاقوں کے عوام احساس کمتری کا شکارنہیں ہونگے ورنہ کسی کونوازنے اورکسی کو مسترد کرنے سے محرومیاں بڑھیں گی۔قاضی صاحب نے راستہ دکھایاہے جس پرہم ان کا ازتہہ دل شکریہ اداکرتے اب علما کرام ،سیاسی نمائندوں اورعوام پرمنحصرہے کہ وہ نان ایشوز،ٹھیکوں کی بندربانٹ ،تقرری اورتبادلوں یا چھوٹی سیکموں اورجھوٹے اعلانات کے بہکاوئے میں آتے رہیں گے یاان بندشوں سے آزاد ہوکر قاضی صاحب نے جو راستہ دکھایا ہے اس پرچلتے ہیں۔سیاسی ودیگرقائدین سے ایک معصومانہ سوال کے ساتھ اللہ آپ کا حامی وناصر
توادھرادھرکی بات نہ کریہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کاسوال ہے

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

  • 16
  •  
  •  
  •  
  •  
    16
    Shares
  •  
    16
    Shares
  • 16
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*