تازہ ترین

ضلع دیامر میں وزیراعلیٰ حفیظ الرحمٰن مخالف گروپ کھل کر سامنے آگیا،سیاسی گٹھ جوڑ شروع۔

چلاس(ٹی این این) اقتدار کا سورج غروب ہوتے دیکھ کر گلگت بلتستان کی سیاست میں قلابازیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ضلع دیامر میں مسلم لیگ ن کے تین ممبران اسمبلی پچھلے کئی ماہ سے وزیر اعلیٰ کی محفلوں سے دور نظر آتا تھا اب ایک دوسرے کے ساتھ قربتوں کا سلسلہ شروعکیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ کا دورہ دیامر کے موقع پر بھی تین ممبران اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کے دورے کو غیر ضروری اور غلط وقت قرار دیکر شریک ہونے سے انکار کردیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے داریل تانگیر کو الگ الگ ضلع بنانے کے اعلان کو بھی عوامی منتخب نمائندوں اور دیامر کے عوامی حلقوں نے بے وقت کا اذان قرار دیکر مسترد کردیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہےکہ وزیر اعلیٰ اگر ضلع دیامرسے ہمدردی رکھتے تو اقتدار کے پہلے سال میں یہ اعلان کرتے اب فنڈز کے بغیر اربوں کے پراجیکٹ کا اعلان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترداف ہوگا ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا قاضی نثار احمد کا وزیر اعلیٰ کے خلاف کھل کر بیان کے بعد اب اگلی الیکشن میں لازمی طور پر پچھلے الیکشن کی طرح وزیر اعلیٰ حفیظ کیلئے اُنکا سپورٹ نہیں رہے گا یہی وجہ ہے کہ وہ عوامی حلقوں میں اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف دیامر سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے تین ناراض وزراء حیدر خان،حاجی جانباز خان اور ثوبیہ مقدم نےوزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن کا دورہ دیامر کے بعد آپس میں سر جوڑ لئے۔یاد رہےکہ وزیر اعلی نے اپنے دورہ دیامر کے موقع پہ مختلف وفود اور تقریب میں دیامر کے ان تین وزراء کا نام لئے بغیر کھل کے تنقید کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تینوں کی ملاقات کی اصل وجہ مستقبل کی سیاست کیلئے لائحہ عمل طے کرنا ہے کیونکہ دیامر کے عوام پر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے اپنے دورہ اقتدار میں ضلع دیامر کی ترقی اور تعمیر کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کی آبادکاری اور معاوضوں کی تقسیم میں وزیر اعلیٰ کے قریبوں ساتھیوں عوام کے ساتھ بڑی ذیادتی کی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ تینوں ممبران اپنے حلقوں میں یہ بات واضح کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوچُکی ہے کہ اُنہیں اپنے علاقے کی ترقی اور تعمیر کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے مسائل درپیش آئے اس لئے اُنہوں نے وزیر اعلیٰ سے دوری اختیار کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی چال مسلم لیگ ن کی سیاست پر کس حد تک منفی ضر ب لگاتی ہے اور عوام مسلم لیگ ن کو اگلے الیکشن میں کس طرح جواب دیتے ہیں۔

  • 43
  •  
  •  
  •  
  •  
    43
    Shares
  •  
    43
    Shares
  • 43
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*