تازہ ترین

گلگت بلتستان ۔ سٹیٹ سبجیکٹ اور وزارت خارجہ کی وضاحت۔

جب سے گلگت بلتستان کا انتظام و انصرام حکومت پاکستان نے وزارت امور کشمیر اور( شمالی علاقہ جات) گلگت بلتستان کے سپرد کردیا تب سے اس وزارت نے اس علاقہ (گلگت بلتستان ) کواپنی ایک کالونی اور یہاں کے پندرہ لاکھ عوام جو پاکستان سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں کو اپنا مزارع سمجھا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست پاکستان نے گلگت بلتستان کی ترقی خصوصا شاہراہوں اور ہوائی ادوں کی تعمیر ٌ بجلی گھر اور دیگر ضرورت زندگی کو پوراکرنے کے لئے آبادی کے تناسب میں دیگر صوبوں سے زیادہ فنڈز دئے ‘ تعلیمی ادارے کھولے ‘ ، اس علاقے کی انتظامیہ اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے دل کھول کر فنڈز مہیا کئے ۔یہاں کے باشندوں کو پنجاب کے نرخ پر ہر گھر کو گندم لا کر دیا جو اب بھی جاری و ساری ہے ۔سکردو اور گلگت کے لئے پہلے پشاور بعد میں راولپنڈی سے ہوائی سروس شروع کی اور یہاں کے با شندوں نے پہلی دفعہ محسوس کیا کہ وہ ایک اندھیری کوٹھری سے ایک روشن ہال میں داخل ہوے ہیں ۔ اور اب کئی سال قبل سکردو ملک کی سب سے بڑا ائر پورٹ بنا اب یہاں بوئنگ جہازوں کی آمدورفت ہے۔ٹیلیفون اور انٹر نیٹ کے ذریعے گلگت بلتستان کا بچہ بچہ دنیا سےمنسلک ہے۔ ان تمام نعمتوں کے لئے گلگت بلتستان کے باشندے ریاست پاکستان کے ممنون و مشکور ہیں۔ یہاں کے باشندے جو فطری طور پر مارشل صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ان کے سینکڑوں بیٹے پاک افواج میں شامل ہوکر اس ریاست کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے اور اس کے لئے اپنی جان دینے کواپنے لئے باعث عزت سمجھتے ہیں جس میں تنخواہ کی خواہش سے زیادہ پاکستا ن وفاداری کا جذبہ شامل ہے۔گلگت بلتستان کے ساتھ زیادہ نیکیاں پاک افواج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل ایوب خان جو صدر مملکت بھی رہےکے دور سے شروع ہوی جو اب بھی جاری و ساری ہے ۔ یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان پر ریاست پاکستان کی یہ خصوصی مہربانیاں پاک فوج جس نے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ایک طویل اور کٹھن دفاعی ذمہ سنبھالی ہوی ہے کی مرہون منت ہے ۔جس کے لئے یہاں کے عوام کو نہ صرف ریاست پاکستان بلکہ پاکستان کی دفاعی افواج خصوصاً پاک آرمی کا مشکور ہونا چاہیے۔ان سب کا تفصیلی ذکر طوالت کا سبب بنے گا۔پاکستان کی مرکزی حکومت اور پاک آرمی نے جواقدامات یہاں کی ترقی کے لئے اب تک اٹھائے ہیں اور اس علاقہ کو اٹھارہویں صدی سے صرف پچاس سال کے مختصر عرصہ میں اکیسویں صدی میں پہنچایا ہے وہ مثالی اقدامات ہیں ۔ لیکن پاکستان کی ان تمام عنایات کو مٹی میں ملانے کا کام بھی ریاست پاکستان کی ایک وزارت یعنی وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے بڑی تندہی سے کرکے حساب کتاب برابر کردیا ہے۔وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے کارناموں میں سے ایک سنہرا کارنامہ اپنے ڈپٹی سیکریٹری کے دستخط سے پورے ریاست جموں کشمیر کےمقبوضہ اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں اپنی پوری معنویت کے ساتھ نافذ جموں کشمیر لاء کے ایک انتہائی اہم شق ” جموں کشمیر سٹیٹ سبجیکٹ رولز” کو بغیر کسی وجہ یا قانونی جواز کے معطل کرنے کا حکمنامہ جاری کرناتھا۔یہ قانون گلگت بلتستان کے باشندوں کو سیاسی اور اقتصادی حوالوں سے محفوظ رکھنا تھا۔اس قانون کے تحت غیر ریاستی کسی بھی شخص کو ریاست میں زمین خریدنے یا جائداد بنانے کی اجازت بالکل نہیں تھی ۔ اس قانون کا مقصد مقامی لوگوں کو ہمسایہ ممالک اور علاقوں کے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ریاست میں امن و مان قائم رکھنا تھا۔یہ قانون آج بھی بلا تعطل مقبوضہ کشمیر کے علاقہ جات کرگل و لداخ ‘ کشمیر اور جموں کے علاوہ آزاد کشمیر میں لاگو ہے ۔اسی وجہ سے آزاد کشمیر میں آجتک کسی فرقہ وارانہ فساد اور دہشت گردی کا واقعہ رونما نہیں ہوا کیونکہ یہ قانون غیر ریاستی لوگوں کو یہاں جمنے کی اجازت نہیں دیتی ۔ ہماری سمجھ کے مطابق وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے اس قانون کو معطل دو وجوہات کی بناء پر کیا۔ اول تو یہاں بھی پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح فرقہ دارانہ فسادات اور دہشت گردی شروع کی جا سکے تاکہ یہاں کے لوگوں کوفسادات میں الجھاکر خود اپنی من مانی کرسکیں جو انہوں نے بھرپور طریقے سے کیا اور گلگت بلتستان کے مثالی امن اور بھائی چارہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پر امن بھائیوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور خونی لکیر کھینچ دی گئی ۔سنہ انیس سو اٹھاسی میں افغانی ڈاکو ‘ علاقہ غیر اور پاکستان کے صوبہ کے پی کے کے وحشی لوگوں پر مشتمل چالیس ہزار کے لگ بھگ لشکر نے جس طرح گلگت پر حملہ کرکے کئی دیہاتوں کو تباہ کیا اور سینکڑوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی نیزچند ہی سال پہلےاسلام آباد سے سکردو کے لئے آنے والے پانچ بسوں کی کنوائی کو چیلاس کے گونر فارم میں روک کر پر امن اور نہتےمسافروں کو چن چن کر نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ کئیوں کی مسخ شدہ لاشوں کو دریائے سندھ میں پھینکا پانچ بسوں کو آگ سے بھسم کیا گیا۔اور آج تک ان قاتلوں کو پکڑنے اور سزا دینے ککے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔یہ اندوہناک واقعات وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی اس علاقہ کے ساتھ دشمن پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ا س وزارت کا دوسرا بڑا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو آزاد کشمیر کے بھائیوں سے متنفر کرانا تھا تاکہ گلگت بلتستان کے عوام اورکشمیر کے آزاد حصہ میں جو لوگ بستے ہیں ان میں کسی قسم کی ہم آہنگی ٗ اتفاق اور اتحاد ہونے نہ پائے ۔یہ دونوں کام در اصل ” تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی بنیاد پر تھا۔اس وزارت کے اس ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں اور یہاں کے قوانین میں دخل اندازی نے نہ صرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو سماجی اورسیاسی طور پر بہت نقصان پہنچایا وہاں گلگت بلتستان کے عوام بھی بہت مایوسی کے شکار ہوے جس کے نتیجہ میں کئی ایسی چھوٹی پارٹیاں وجود میں آگئیں جو خود مختاری اور پاکستان سے دوری کا نعرے لگاتےرہے ہیں۔لیکن انہیں عوامی سطح پر پزیرائی نہیں ملی کیونکہ یہاں کے عوام کے دلوں سے پاکستان کے ساتھ انمٹ محبت کو نکالا نہیں جاسکتا۔ بہر حال گلگت بلتستان کی سیاسی غلامی اور وزارت امور کشمیر کے گلگت بلتستان کے ریاست دشمن اہلکاران کے سیاہ کارناموں میں یہاں کی کئی مقامی قائدین کی نا اہلی ٗ ذاتی خواہشات اور ان کی خوشامدانہ فطرت کا بھی حصہ شامل رہا ہے جن کی وجہ سے گلگت بلتستان کے حالات بہت دگرگوں اور منجلگ ہوچکے ہیں ۔قصہ مختصر اب وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا یہ بیان کہ ” گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز نافذ ہے'” انتہائی خوش کن ہے جس نےوزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کا پول کھول کررکھ دیا ہے ۔ اب اس واضح اعلان کے بعد س نافذ قانون کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے اور عوام کے ساتھ ساتھ جی بی کی انتظامیہ کو خلوص دل سے اس قانون کو پوری طرح نفاذ کرکے اسے قبول کرنا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اب جموں کشمیر لاء اور سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی دہائی دینا بند کریں ۔وزارت خارجہ کے اس واضح بیان کے بعد وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو چاہیے کہ وہ اپنی ستر سال میں یہاں کے عوام کے ساتھ جو زیادتیاں بلکہ جرائم کئے ہیں ان پر گلگت بلتستان کے پندرہ لاکھ عوام سےمعافی مانگیں اور اپنی انتظامی پالیسیوں میں مثبت اور واضح پالیسی اختیار کریں ۔

تحریر : سید محمد عباس کاظمی

  • 21
  •  
  •  
  •  
  •  
    21
    Shares
  •  
    21
    Shares
  • 21
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*