تازہ ترین

زندگی کیوں مشکل ہے۔۔؟

ہم اکثر فلموں اور ڈراموں میں دیکھتے ہیں کہ مشکلات و بیماریاں آتی ہیں۔ لوگ بیمار ہوتے ہیں یا تو مر جاتے ہیں یا پھر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقی زندگی میں یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو انسان کو اذیت کی آخری حد پر بھی جینا پڑتا ہے۔ یہ اذیت پھر کسی طبی علاج میں ہونے والے درد کی اذیت بلکل نہیں کیونکہ جو انسان بچپن سے ان حالات سے گزر رہا ہوتو اسکی طبیعت ہی دردآشناہوجاتی ہے مگر اصل اذیت ہمارے ذاتی و سماجی رویے ہوتے ہیں۔ سماجی رویوں کی مثال دی جاے تو مسلسل ان حالات سے گزرنے والے شخص کی تکلیف کو ڈرامہ قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ اگر آپکو کبھی اپنی تکلیف اور دوسروں کی تکلیف ڈرامہ لگے تو مبارک ہو آپ منافقت کی سیڑیاں چلنا شروع ہو چکے ہیں۔
اور اب بات ذاتی رویوں کی کریں تو ہمارے اپنوں کی ہمدردری ہی ہمارے لیے اذیت ثابت ہوتی ہے۔ لفظ انسان انس سے نکلا ہے جسکے معنی پیار و محبت کے ہیں ایک انسان کے لیے پیار ہی کافی ہوتا ہے لیکن ایک انسان جو اپنی پیدائش سے ہی کسی بیماری میں مبتلا زندگی گزار رہا ہو تو لوگوں کو اس سے ہمدردی کی عادت ہو جاتی ہے۔ اور اسطرح یہاں پیار بلکل نہیں بچتا کیوں کہ پیار تو بغیر کسی وجہ کے کیا جاتا ہے۔ ہاں ہم اسے ترس کھانے کا نام ضرور دے سکتے ہیں اور یہ بات ایک شخص کی انا کا قتل کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس پر ترس کھایا جاتا ہے۔
ایک زمانے میں کوڑھ کے مرض کا کوئی علاج نہیں تھا۔ لوگ کوڑھ کے مریض کو اللّہ تعالی کا دھتکارا ہوا کہتے تھے۔ انہیں جنگلوں میں بھیج دیتے تھے۔ اگر وہ لوگ شہر کا رخ کرتے تو لوگ انہیں پتھر مارتے تھے آج کے زمانے میں بھی پتھر مارنے والوں کی نسلیں باقی ہیں۔ ان کے مطابق بیماریاں انکے اعمال کی سزا ہیں اور اللّہ تعالی ان سے ناراض ہے۔ ان پر عذاب بھیج رہا ہے۔ یہ آج کے زمانے کے پتھر ہیں جو ہاتھ سے نہیں بلکہ منہ جیسے کارآمد آلے سے پھینکے جاتے ہیں جو جسم کو نہیں بلکہ دل کو زخمی کرتے ہوئے احساسات کا خون کرتے ہیں۔ زندگی پر دو نظریات، نظریہ جبر و نظریہ قدر کا طلاق ہوتا ہے۔ نظریہ قدر کے حوالے سے دیکھا جائے تو اللّہ تعالی نے انسان کو محدود اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ ان اختیارات میں انسان کو اسکے الفاظ پر بھی اختیار حاصل ہے۔ بس یہی بات بیان کرنا مقصود ہے کہ زندگی مشکل نہیں بلکہ ہمارے اردگرد بسنے والے اسے مشکل کر دیتے ہیں۔ لوگ یہ ضرور کہتے ہیں کہ خوش رہو مگر خوش رہنے نہیں دیتے۔ اب نظریہ جبر پر نظر ڈالیں تو انسان کو کسی چیز پر بھی اختیار حاصل نہیں۔ اسے محض مجبور پیدا کیا گیا۔ لہذا اللّہ نے انسان کو جس چیز کا اختیار دیا ہی نہیں، انسان وہی کام کرنا پسند کرتا ہے یعنی دوسروں کے اعمال کا حساب کتاب اور کسی کو جنتی یا جہنمی قرار دینا۔ اگر عبادت کی بات کی جائے تو روزہ افضل ترین عبادت ہے تو کیا اللّہ تعالی ہمیں بھوکا رکھنا چاہتا ہے؟ یا بھوکا رکھنے کے لیے ثواب کا لالچ دے رہا ہے؟ نہیں ایسا بلکل نہیں ہےبلکہ وہ تو ہماری روح کو صبر ، نیکی، اور برداشت جیسی خالص غذا فراہم کرنا چاہتا ہے۔
اسی طرح جب انسان پر بیماری آتی ہے تو وہ اسے عام سے خاص کرنا چاہتا ہے۔ حضرت ایوبؑ تیس برس بیمار رہے تو کیا انہیں بھی کوئی سزا ملی تھی؟ نہیں بلکہ اللّہ تعالی نے انہیں پسند کیا۔ پیغمبروں و نبیوں پر بہت سی مشکلات آئی کیونکہ وہ سب اللّہ تعالی کے پسندیدہ تھے۔ اسی طرح جب اللّہ تعالی کسی کو عام سے خاص کرنا چاہتا ہے تو اسے نشانیاں عطا کرتا ہے۔ لیکن ہم لوگ مصیبت پریشانی و بیماری کو عذاب یا گناہوں کی سزا قرار دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں کسی کے ساتھ بُرا کرنے والا کبھی سکون سے نہیں رہتا مگر جب ایک بچہ کسی بیماری یا معذوری کے ساتھ دنیا میں آتا ہے تو اس بچے نے کیا گناہ کیے ہوتے ہیں؟ ہم تو ایسے لوگ ہیں کہ بہت سی باتیں خود سے فرض کر کے اپنے خالق کے فیصلوں سے منسوب کر دیتے ہیں حالانکہ وہ اپنے فیصلوں میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ بابا اشفاق نے بہت خوبصورت بات کی ہے کہ اگر کچھ لوگوں کی باتوں سے غیبت، تہمت اور بہتان کو نکال دیا جاے تو صرف خاموشی رہ جاتی ہے۔ ایک بیمار شخص اپنی بیماری سے نہیں بلکہ دوسروں کی باتوں سے لڑ کر زندہ رہتا ہے۔ زندگی کو مشکل مشکلات نہیں بناتی بلکہ لوگ اور انکے رویے بناتے ہیں۔ ہمارامعاشرہ، خاندان یا اردگرد کے لوگوں نے ہمیں یہ سکھایا ہی نہیں کہ بیماری بھی نعمت ہوتی ہے۔ وہ ہمیں ترس کھانے والی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ہمدردی کے بول سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ ہماری بیماری کو ہمارا سب سے بڑا تعلق بنادیتے ہیں۔ بیماریاں تو ہمیں زندگی کی قدر کرنا سکھاتی ہیں۔ لیکن ایک بیمار شخص اسے دوسروں کی نظر سے دیکھتے ہوئے ایک ایک لمحہ عذاب بن کر گزارتا ہے۔ بات جب صحت مندی کی کی جاے تو صحت دینے والی ذات تو اللّہ تعالی کی ہے۔ اسکا تعلق نا تو امیر و غریب طبقے سے ہے اور نہ ہی طبی نظام سے۔ اسکا تعلق صرف اور صرف دلی راحت و اطمینان سے ہے۔ کیونکہ جہاں ادویات بھی کام کرناچھوڑ دیں وہاں پیار و محبت سے سب کچھ ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ کوئی بھی انسان کبھی کسی بیماری سے نہیں مرتا بلکہ لوگوں کے لہجے اسے جیتے جی مار دیتے ہیں۔ کیونکہ بے شک اللّہ تعالی کسی کو اسکی برداشت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اگر دے بھی تو انسان کو مضبوط بنا کر اسکے حوصلے اتنے بلند کر دیتا ہے کہ وہ خود پر آنے والے ہر درد کا مقابلہ کر سکے۔مگر ہم انسان ہی ہیں جو کسی کا حوصلہ بلند کریں یا نا کریں، پست کرنے میں اہم کردار ادا ضرور کرتے ہیں۔
اس تحریر کے آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ کسی کے بارے میں گمان تک کرنا گناہ ہے کیونکہ ہم اسکے اچھے و بُرے اعمال کے پیچھے کی وجہ نہیں جانتے۔ بے شک دلوں کے راز اللّہ بہتر جانتا ہے لہذا وہ مت سوچو جو لوگ چاہتے ہیں کے تم سوچو۔ اپنے رب کو اس گمان کے ساتھ مت رکھو جس گمان پر انہوں نے رب کو رکھا ہوا ہے۔ تم گناہ گار، سیاہ کار، نیک ہو یا بد۔ اس فیصلے کا اختیار صرف اور صرف اللّہ کے پاس ہے۔ اور بےشک اللّہ اپنے فیصلوں میں “واحد لاشریک ” ہے۔

تحریر: حفصہ ریاض

  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
    2
    Shares
  •  
    2
    Shares
  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*