تازہ ترین

جینا مشکل ہے تیرے بنا۔۔۔!!!

راقم کا تعلق غریب گھرانے سے ہیں۔مشکلات،مسائل اور کھٹن لمحات سے دوستی یاری ہے غم و اندوہ نامی کتاب کا جیتا جاگتا حروف و الفاظ کا مجموعہ میری ذندگی کا داستان ہے۔ہر وقت بے ذاری،دنیا کی بےثباتی،شکوہ زندگی اور دل سوز کہانیوں سے بھرا مضمون لکھنا میری مجبوری ہے۔اولاً تو بے روزگاری کی ڈگری 90 اینگل پر میرے اوپر منڈلا رہا ہے۔دوئم دنیا کی بے ثباتی،اہل سماج شناس افراد کی سماجی معمولات سے بے روخی اور حضرت انسان کا خواہشات کے سمندر میں دن بدن غوطہ خوری جیسے معمولات زندگی نے مجھ جیسے کمزور دل کے انسان کو غم سے رنجور کر رکھا ہے۔معاشرتی بے حسی ایک طرف اور غریب شہر کا نوحہ ایک طرف ہر آنے والا نیا دن میری دل کی گرفت کمزور و لاغر کرنے کے لیے کافی ہے۔غریب شہر کے فاقوں پر سوالات اٹھایا جاتا ہے۔غریب شہر کے بچوں کی تعلیم پر نوحہ لکھا جاتا ہے۔غریب شہر پر مجھ جیسے ناکام لکھاریاں داستانوں کا مجموعہ ترتیب دینے کی کوشش میں رہتا ہے۔پر میں نے کھبی غریب کے مقدر،غریب کے نصیب بدلتے نہیں دیکھا۔میں نے غریبوں کو بلکتے ،سسکتے دیکھا ہے لیکن غریبوں کو شادیانے بجاتے نہیں دیکھا ہے۔میں نے غریب شہر کی بیٹیوں کی شادی میں غریب باپ کے جسم پر نیا کپڑا نہیں دیکھا لیکن امیر شہر کے بیٹیوں کی شادیوں پر امارات شہر کے ہر بدن پر ولاٸتی لباس زیب تن کیا دیکھا۔میں نے غریب کی بیٹی کے لیے ڈھنگ کے کپڑے نہیں دیکھا ۔لیکن ہاں میں نے امیر شہر کی صاحبزادی کو سونے میں تولتے دیکھا ہے۔میں نے امیر شہر کی لاڈلی کی جہیز کا رواں دواں ریلی دیکھی ہے۔لیکن غریب باپ کی بیٹی کی بارات کا جنازہ بھی مشاہدات کا حصہ بنایا ہے۔میں نے غریب بچوں کو تعلیم سے پیار ومحبت کرتے دیکھا ہے اور ان کو اپنے پیار و محبت سے بچھڑتے دیکھا ہے۔میرا لکھنے کا مقصد غریبوں کا سر عام تماشا کرنا نہیں ہے اور میں کیونکر کر تماشا کروں کیونکہ راقم بھی اسی بستی کے باسی و مسافر ہیں۔ میرا دکھوں کا مجموعہ صرف میری زندگی کی داستانیں نہیں بلکہ میری وجود میں شامل ہر اُس انسان کی کہانی ہے جو غربت،افلاس،بھوک اور مسائل دنیا سے دوچار ہے۔میں نے اسمبلی کے فلور پر معزز رہنماوں کو اپنے لیے لڑتے جھگڑتے دیکھا اور سنا ہے لیکن غریب کے لیے تگ و دو کرتے نہ دیکھا ہے اور نہ ہی ایسا سن پایا ہے۔میں نے معزز رہنماوں کو اپنے رشتہ داروں،عزیزوں اور دوستوں کو نوازتے دیکھا ہے۔لیکن غریبوں کی بستیوں سے ناآشنا نظر آتے بھی دیکھا ہے۔میں نے اپنے دور کے رہنماوں کو اپنے درباریوں کے دل شاد کرتے دیکھا ہے۔پر میری اس گناہ گار آنکھوں نے کھبی رہنماوں کو غریب شہر کے آس پاس بھٹکتے نہیں دیکھا ہے۔اسی لیے میں کہتا ہوں اے مال و زر دنیا تیرے بغیر مجھ سمیت ہر غریب شہر کی دنیا اوجھل ہے۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
    2
    Shares
  •  
    2
    Shares
  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*