تازہ ترین

بجلی بحران کے حل کیلئے حکومت سنجیدہ نہیں

گلگت بلتستان کے طول وعرض میں اس وقت بجلی کا بحران عروج پرہے مسلم لیگ ن کے صوبائی ذمہ داروں نے انتخابی منشورمیںبجلی بحران کو ختم کرنے کا بھی وعدہ شامل کیا ہوا تھااقتدارسنبھالنے کے بعد سوروزہ ترجیحات میں بجلی بحران کے خاتمے کو فہرست میں پہلے نمبرپررکھا گیا اس کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی جس کے سربراہ وزیرتعمیرات ڈاکٹراقبال کو بنایا جبکہ پانی وبجلی کی وزارت کا قلمدان سینئروزیرحاجی اکبرتابان کو سونپا گیاوزیراعلیٰ سمیت دونوں وزراء نے بجلی بحران کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا مگربجلی کا بحران سوروزمیں تو دورکی بات چارسال بعد بھی حل نہ ہوسکااس وقت ایک اطلاع کے مطابق سکردومیں سات بجلی گھربند پڑے ہیں جس کے باعث صرف ایک گھنٹے کے لئے بجلی دی جارہی ہے اسی طرح دیگر اضلاع میں بجلی کا بحران جاری ہے حال ہی میںسکردو،دیامر،استوراوردیگراضلاع میںمتعدد بجلی گھربند رہنے اوربجلی کی فراہمی میں کوتاہی پرآوازاٹھائی گئی اس وقت بجلی بحران کے باعث عوام شدید ازیت سے گزررہے ہیں بجلی کا بحران ختم نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے سے تعلق رکھنے والے کاروباری حضرات دیوالہ ہوچکے ہیں کئی لوگوں نے اس شعبے کو ہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے مستقل حل کی طرف چارسال گزرنے کے باوجود سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی کئی مردہ بجلی گھروں کو آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بنایا ہواہے بجلی گھروں پرحد سے زیادہ اخراجات اٹھنے کے باوجود متعلقہ ذمہ داروں سے بازپرسی نہیں ہوتی ان سے پوچھا تک نہیں جاتا گلگت بلتستان میں پانی کا وافرذخیرہ موجود ہے جبکہ بیشترعلاقوں میں ندی نالے اورچشمے موجود ہیں جہاں بجلی گھرکا قیام عمل میں لاکراسی علاقے کے عوام کی بجلی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے لیکن اس طرف توجہ ہی نہیں دی گئی ہے اس وقت ضلع گانچھے میں دم سم،کندوس،مرضی گند،چھوربٹ،کھرکوہ،تھلے بردس کے دوبجلی گھر،خپلوہپی کاغذات میں فعال ہیںجبکہ عملی طورپران میں موجود کئی مشین کئی ماہ سے بند ہیں اسی طرح ان بجلی گھروں سے مطلوبہ بجلی پیدانہیں کی جارہی ہے دراصل محکمہ لاوارث ہوگیاہے جس کا کوئی والی وارث ہی نہیں ہے لوٹ مارکی انت مچی ہوئی ہے اسی طرح دیگراضلاع میں بھی بجلی گھروں کی تعداد تو ماشاء اللہ بہت ہے لیکن بجلی کی فراہمی نداردجس کے باعث عوام سالہا سال سے بجلی کی کمی کے باعث پریشانی کا سامنا کررہے ہیںمحکمہ برقیات میں گزشتہ پانچ چھ سال میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئی ہیں لیکن کارکردگی پہلے سے بھی زیادہ خراب اورغیرتسلی بخش ہے کئی علاقوں میں محکمہ برقیات کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے ہیں ضلع گانچھے کے علاقہ مرضی گند،دم سم اورکھرکوہ کے بجلی گھروں کے علاوہ باقی مذکورہ علاقوں میں موجود بجلی گھروں کی مشینیںکمپیوٹرائز ہیں لیکن ان کو چلانے والی مینول مشینیںچلانے والے ملازمین ہیں گزشتہ سال راقم کی محکمہ برقیات کے ایک ذمہ دارافسرسے اس حوالے سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ جب بجلی گھروں میں مشینوںکے تنصیب کے دوران ان کو چلانے والے ملازمین کو بیرون ملک تربیت دی جاتی ہے جس کے لئے محکمہ برقیات کے سیکرٹری یا دیگر اعلیٰ افسران چلے جاتے ہیں جوبیرون ملک سیرسپاٹے کے ساتھ ٹی اے ڈی اے کی مد میں خوب رقم بھی اکھٹی کرتے ہیںیہی افسران ملک واپس آنے کے بعد ملازمین کو مشینیں چلانے کے بارے میں بتانا تو دورکی بات غلطی سے بھی بجلی گھروں کا رخ بھی نہیں کرتے ملازمین اپنی مدد آپ اوراپنی عقل کے مطابق کمپیوٹرائزڈ مشینوں کوچلانے کی کوشش کرتے ہیںجس کے اچھے نتائج سامنے نہیں آتے غلط بٹن دب جانے کے باعث مشینیں جواب دے جاتی ہیں یا کوئی نہ کوئی فنی خرابی پیداہوجاتی ہے جس کو درست کرنے کیلئے بسااوقات جس ملک سے مشین لائی گئی ہیں اسی ملک سے ماہرکوبلانا پڑتاہے جس کی آمدورفت ،رہائش ودیگرضروریات کی مد میں لاکھوں روپے قومی خزانے سے خرچ ہوتے ہیں بارہا باراس طرف ارباب بست وکشاد کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرنے کے باوجود چپ سادھ لی ہوئی ہے ایسا محسوس ہوتاہے کہ بجلی بحران کے خاتمے کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہی نہیںہے بجلی گھرسب انجینئراوراس سے نیچے کے ملازمین چلاتے ہیںانہی کو ہی تربیت کے لئے بیرون ملک بھیجا جانا چاہئے اوربجلی گھروں کو تربیت یافتہ اورپروفیشنل افراد کے ہاتھوں میں دے دینا چاہئے تاکہ بجلی گھروں کی کارکردگی بہترہواورمطلوبہ بجلی پیداکی جاسکے اس سے جہاں عوام کو بلاتعطل بجلی ملتی رہے گی وہاں بجلی گھروں میں خامی اورخرابی پیدانہ ہونے سے قومی خرانے پربوجھ بھی کم پڑتاہے لیکن حکومت اس طرف سنجیدہ نہیں ہے ایک روپورٹ کے مطابق بعض علاقو ںمیں صرف بیس منٹ کے لئے بجلی فراہم کی جاتی ہے سکردومیں انجمن تاجران نے بجلی کی ابترصورتحال پرشدید احتجاج کرتے ہوئے آل پارٹیزکانفرنس بلانے اورحکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کا اعلان کیا ہے ادھرمجلس وحدت المسلمین گلگت بلتستان جنرل سیکرٹری اوربلتستان کے ہرایشوپرسب سے زیادہ متحرک رہنما آغا علی نے بجلی بحران پرشدید رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان کیا ہے اسی طرح دیگرعلاقوں کے عوام بھی بجلی کی فراہمی میں ہونے والی سنگین کوتاہیوں کے خلاف محکمہ برقیات اورحکومت وقت کے خلاف آوازاٹھانے اوراحتجاجی مظاہرے کرنے کی تیاری کررہے ہیںاب پورے علاقے میں گرمی شروع ہوچکی ہے گرمیوں میں بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے اس طرف حکومت کو سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے علاقے میں بجلی بحران حل طلب ہے حکومت اس طرف توجہ دینے کے بجائے سمارٹ میٹرلگانے کے لئے کمربستہ ہے بجلی کے غلط استعمال کی روک تھام اس وقت کی جاتی ہے جب بجلی وافرمقدارمیں عوام کومل رہی ہوحکومت اصل مقصد چھوڑ کرلایعنی کاموں میں مصروف ہورہی ہے جس کا کم ازکم عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے وزیراعلیٰ حفیظ الرحمان کے مطابق گلگت بلتستان میں بجلی کی پیداوارکے بے شمارمواقع ہیں ان کو استعمال کرکے وفاق کو بھی بجلی دی جاسکتی ہے یہ بات تو اپنی جگہ درست ہے بجلی کی پیداواربڑھانے کے بے شماراوران گنت مواقع ہیں اس سے کسی کوانکارنہیں ہے سوال یہ ہے کہ ان مواقعوں سے کب اورکیسے استفادہ کرنا ہے اس کے لئے کسی دوسرے ملک سے کوئی نہیں آئے گا حکومت کوہی اقدامات کرنے ہونگے زبانی جمع خرچ سے نہ گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش بجلی کے مسائل مستقل طورپرحل ہونگے نہ ہی ملک کے دیگرعلاقوں کے لئے یہاں سے بجلی فراہم کی جاسکے گی وفاق کو اس وقت بجلی دی جاسکتی ہے جب گلگت بلتستان کے پاس بجلی سرپلس ہویہاں کے باشندوں کو بیشترعلاقوں میں بیس منٹ سے زیادہ بجلی نہیں ملتی کئی علاقوں میں ہفتوں بعد ایک دن کے لئے بجلی دیدارکراتی ہے اس صورت میں ملک کے دیگرعلاقوں کو گلگت بلتستان سے بجلی فراہم کرنے کا اعلان بھڑکیں مارنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔اس وقت فرسودہ بجلی گھروں پرمحکمہ برقیات کے ذمہ داران مسلسل کروڑوں روپے خرچ کرکے عوام کو بے وقوف بنانے کے ساتھ قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچارہے ہیںلیکن حکومت اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہی ہے گرمیاں شروع ہونے سے پہلے انجمن تاجران اوردیگرسیاسی جماعتوں کی طرف سے بجلی بحران کے حل میں حکومتی کی ناکامی پراحتجاج کی دھمکی حکومت کیلئے الارم ہے جس کو سنجیدہ لینے اوربجلی کے مسائل کے لئے بھی سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے عوام کو بے شمارسبزباغ دکھائے گئے اب کی بارعوام کسی دھوکے میں آنے کے لئے تیارنہیں نظرآرہے حکومت سیاسی اعلانات کرنے اورعوام کو بے وقوف بنانے کے بجائے مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے۔

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares
  •  
    9
    Shares
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*