تازہ ترین

معلم طبقہ اورہمارامعاشرہ۔۔۔

استاد ایک فارسی زبان کا لفظ ہے جسکے اصطلاحی معنی تو سکھانے والے کے ہیں مگر ہم اتنے تخلیقی اور ہنر مند ہیں کہ ہر لفظ کو اپنا ہی تخلیق کردہ مطلب دے دیتے ہیں جیسے کہ استاد کے معنی ہمارے یہاں تعلیم دینے والے کے ہیں اور یہ تعلیم بھی اب تعلیم نہیں رہی بس ایک کاروبار بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کی حیثیت ایک ملازم کی سی رہ گئی ہے جسکا کام ہماری نظر میں صرف آپکے بچے کو تعلیم دینا اور تنخوا وصول کرنا رہ گیا ہے۔ عزت و خلوص کا موجودہ دور میں اس پیشے سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اور ایسے معاشرے میں استاد کا قتل اور سڑکوں پر سرعام پتھراؤ کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم نے تو تعلیم کو ایک کاروبار بنا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے جیسوں کا تعلیم کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور یہی وجہ ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے طالب علم اور کام سیکھنے والے شاگرد بھی ہم جیسے تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ عزت کرتے ہیں مگر یہ تو ہمارےمعاشرے کا حال تھا جبکہ حقیقت میں استاد کی اہمیت اسکے بلکل برعکس ہے کیونکہ آج اگر میں یہ سب لکھنے کے قابل ہوں اور لکھ رہی ہوں تو یہ سب میرے اساتذہ کی بدولت ممکن ہوا ہے۔اور اگر آپ یہ پڑھنے کے قابل ہیں تو یہ بھی آپ کی استاد کی بدولت ہے قدرت نےتو مجھے قوت گویائی عطا کی ہے مگر اسکا صحیح استعمال مجھے میرے والدین و اساتذہ نے سکھایا ہے۔
نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ :
مجھے دنیامیں معلم بنا کر بھیجا گیا ہے”
یعنی کہ استادکاپیشہ پیشہ پیغمبری ہے۔ ہر وہ شخص جس نے ہمیں کچھ پڑھایا سیکھایا سیدھی راہ دکھائی ، وہ ہمارا استاد کہلاتا ہے یہی وجہ ہے کہ استاد کو روحانی باپ کی حیثیت حاصل ہے ہم لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں اور تعلیم کی بدولت ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں مگر ایسی تعلیم کا کیا حاصل جب وہ ہماری رگوں میں ادب کا خون پیدا نہ کر سکے۔ ہماری کتابوں میں ہمیں استاد کی اہمیت و عزت کے اسباق تو بہت پڑھائے جاتے ہیں مگر ہم میں سے صرف دس یابیس فیصد لوگ ہی ہوتے ہیں جو ان پر عمل بھی کرتے ہیں بقیہ لوگوں کا مقصد صرف نمبر حاصل کرنا اور ڈگری حاصل کرنا ہے اور پھر یہی پڑھے لکھے جاہل لوگ جب کسی بڑے عہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو اپنی جاہلیت میں تکبر کی کیل ٹھوک لیتے ہیں جبکہ انہیں یہاں تک پہنچانے میں سیڑھیوں کا کام انکے اساتذہ کا ہے اور پھر میرے خیال میں اس کامیاب ترین شخص کے مقابلے میں وہ نالائق ترین اور عام سا طالب علم بہتر ہے جسے آتا تو کچھ نہیں مگر وہ با ادب ہے اور اپنے استاد کی عزت کرتا ہے اپنے استاد کے بارے میں کچھ بولنا تو دور کی بات ، اپنے دل میں اپنے استاد کے بارے میں غلط سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہے۔ یہ استاد اور والدین ایسی مقدس ہستیاں ہوتے ہیں جو اپنے طالب علم اور اولادکی ترقی پرحسد نہیں کرتے بلکہ خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔
میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ اب اساتذہ مخلص نہیں رہے مگر میں بھی تو اسی معاشرے میں رہ رہی ہوں اور الحمداللہ مجھے اب تک بہترین اور مخلص استاد ملے ہیں میں نے جب بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے مقصد میں بھی کامیابی حاصل کی ہے تو میں نے اپنی کامیابی پر خود سے زیادہ خوش اپنے والدین و اساتذہ کو دیکھا ہے، جب بھی اپنی زندگی کے کسی موڑ پر گری ہوں تو حوصلہ افزائی کرنے والوں میں بھی میں نے انہی لوگوں کو پایا ہے۔ یہ سب میری حوصلہ افزائی نا کرتے تو شاید ہار جاتی یا اس وقت زندگی کچھ اور ہوتی۔ میں تو اپنے اساتذہ کا جتنا شکریہ ادا کروں اور جتنی عزت دوں وہ کم ہے۔ میں کہنا یہ چاہتی ہوں کہ اسی معاشرے میں رہ کر مجھے اتنے اچھے لوگ مل سکتے ہیں تو سب کو کیوں نہیں ملتے ؟؟؟؟ یہ یقینی سی بات ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ دینا بھی پڑتا ہے میں مانتی ہوں کہ ہر شعبے میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ پاۓ جاتے ہیں مگر برے لوگوں کو برا بھی تو ہم ہی بناتے ہیں۔ اگر کوئی طالب علم اچھا نہیں تو ممکن ہے کہ اسکے پیچھے کسی استاد کا ہاتھ ہو۔ لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ اگر استاد اچھا نہیں تو ہو سکتا ہے آپ نے اسے عزت ہی نہ دی ہو۔ ہم پورا معاشرہ نہیں بدل سکتے مگر خود کو بدل سکتے ہیں کیونکہ اگر پورے شہر میں کیچڑ ہے تو پورے شہرمیں قالین بچھانے سے بہتر ہے ہم خود جوتیاں پہن لیں ہم سب خود اگر اپنے اپنے پیشے سے امانتداری کریں تو ہمیں اچھے لوگ بھی ملیں گے۔ ایک طالب علم تبھی اپنے پیشے سے امانتدارہو سکتا ہے جب وہ اس تعلیم پر عمل کرے جو وہ سیکھ رہا ہےکیونکہ تعلیم ہمیں با شعور بنا کر علم مہیا کرتی ہے مگر جو شخص علم رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ اس بیمار شخص جیسا ہے جسکے پاس دوا ہے مگر وہ اسکا استعمال نہیں کرتا۔ ایک باشعور اور اعلی ظرف ہمیشہ اس شخص کا احسان مند رہے گا جس نے اسے ایک لفظ بھی پڑھایا اور سیکھایا اور ہمیشہ اسکی دل سے عزت و قدر کرے گا۔ یہ استاد خود بادشاہ نہ بھی ہوں تو اپنے شاگردوں کو بادشاہ بنا دیتے ہیں اور پھر ایک اچھا طالب علم چاہے بادشاہ ہی کیوں نہ ہو اپنے والد اور استاد کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو جاۓ گا۔ استاد اپنے شعبے میں تبھی ایمانتدار ہو سکتا ہے جب وہ اپنے طالب علم کا خیر خواہ ہو۔ وہ طالب علم پر غصہ تو کرے مگر کبھی نفرت نا کرے چاہے وہ کتنا ہی نالائق کیوں نہ ہو۔ اگر استاد چاہتے ہیں کہ انھیں والدین کا درجہ دیا جایے تو انھیں چاہیے کے طالب علم کو اولاد سمجھیں کیونکہ اگر عزت کی طلب ہو تو عزت لینے والا کردار پیدا کرنا پڑتا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کہ استاد وہی ہوتا ہے جو اپنے شاگرد کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل کردے کہ اسے باپ سے زیادہ پیار ہے یا استاد سے۔
ہم غیر ممالک کی ترقی کی وجہ تعلیم کے میدان میں ترقی سمجھتے ہیں مگر در حقیقت وہاں تعلیم دینے والے یعنی استاد کے حق میں ایسے اصول مقرر کیے گے ہیں جنکا مقصد استاد کو عزت دینا ہے۔ ہمارے اپنے اایک شاعر ابن انشاء کا بیرونِ ممالک میں استاد کے احترم کے بارے میں ایک وا قعہ مشہور ہے کہ :
ایک دفعہ ابن انشاء ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں ایک استاد سے ملنے گئے۔ ملاقات کے اختتام پر وہ ابن انشاء کو الوداع کرنے کے لیے یونیورسٹی کے صحن تک چل پڑا۔ دونوں باتیں کرتے کرتے ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔ اس دوران ابن انشاء نے محسوس کیا کے پیچھے سے گزرنے والے طلبہ اچھل اچھل کر چل رہے ہیں۔ ابن انشاء اجازت لینے سے پہلے یہ پوچھے بغیرنہ رہ سکے کہ محترم ہمارے پیچھے سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر کیوں چل رہا ہے؟ انہوں نے بتایا کے ہمارا سایہ پیچھے کی جانب ہے اور کوئی بھی طالب علم نہیں چاہتا کہ اسکے پاؤں اسکے استاد کے سائے پر بھی پڑیں اسلیے ہمارے عقب میں گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر گزر رہا ہے ”
بس یہ ہوتے ہیں قوموں کی ترقی کے راز۔ اس وقت ہم بھی تعلیم کے میدان میں ترقی کر رہے ہیں مگر ہمارا ملک ترقی نہیں کر رہا تو اسکی وجہ ہمارے ڈگمگاتے ہوے کردار ہیں۔ ہم اگر ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں کم از کم اپنے اپنے کردار کو سنوارنا ہوگا۔ چاہے ہم طالب علم ہے یا استاد, ہمیں اپنا فرض نبھانا ہوگا تاکہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور بے شک ہمارا ملک ہمارا گھر ہے۔
اور ہمارا ملک تو بنا ہی اسلام کی بنیاد پر ہے۔ اور اسلامی نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ حضرت علی کا ارشاد ہے کہ :
عالم کا یہ حق ہے کہ اسکے آگے نہ بیٹھو اور اگر ضرورت پیش آے تو سب سے پہلے اسکی خدمت کے لئے کھڑے ہو جاؤ ”
امام اعظم ابو حنیفہؓ اور آپکے استاد امام بن سلیمان کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ تھا لیکن آپ کبھی انکے گھر کی طرف پاؤں کرکے نہیں سوئے .
جب اسلام ہی نے انہیں اتنی اہمیت دی ہے تو انکی عزت کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ کیوں کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ہی اسلامی نظام نافذ کرنا تھا.
ہم اگر دوسری اقوام کے برابر آنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اپنے اساتذہ کی قدر کریں کیوں کہ یہی ہمارے معاشرے کےمعمار ہیں۔

تحریر : حفصہ ریاض

  • 39
  •  
  •  
  •  
  •  
    39
    Shares
  •  
    39
    Shares
  • 39
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*