تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سنئیر رہنما کا وزیر اعظم کو بڑا چیلنج۔

سکردو(پ،ر)پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینیر رکن اور عالمی شہرت یافتہ محقق اور ایوارڈ یافتہ شخصیت سید محمد عباس کاظمی نے ایک موقر روزنامہ کے بیورو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیکریٹیریٹ کے اس اظہار پر کہ اب تک گلگت بلتستان میں پارٹی صدارت کے لئے کوئی شخص موزوں نہیں ملا اس لئے یہ کام فی الحال التواء میں ڈال دیا گیاہے پر شدید تنقید کیا ہے اور کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو تو یہاں کی صدارت کے لئے اہل لوگ بھی ملے ‘ انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی اور پانچ پانچ سال حکومت بھی کی لیکن تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں ایسا کسی قابل شخص کا نہ ملنا جو وہاں پارٹی کو منظم کرسکے اور انتخابات جیت سکے یا تو ایک سانحہ ہے یا پاکستان تحریک انصاف کے صف اول کے قائدین اور مرکزی سیکریٹیریٹ میں ایک طاقتور لابی ضرور ہے جو گلگت بلتستان کو عمران خان صاحب کے وژن اور ایک مثبت تبدیلی سے دور رکھنا چاہتی ہے ۔ اس لابی میں یقیناً بھارتی ایجنڈے پر کام کرنے والے لوگ موجود ہیں جو گلگت بلتستان کو جناب عمران خان کے وژن اور وعدوں کے مطابق تبدیلی اور ترقی سے محروم کرکے یہاں کے لوگوں کو پاکستان سے متنفر کرنے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ہم وہ لوگ جنہوں نے سنہ 2013میں انتہائی نامساعد حالات میں گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی بنیاد ڈالی پارٹی قیادت کے موجودہ رویہ اور منفی پالیسی پر انتہائی دل شکستہ ہیں۔وہ عالمی شہرت یافتہ ہیرو عمران خان جنہوں نے کئی سالوں تک گرمیوں میں بلتستان آنا اپنا معمول بنایاتھا اور یہاں کے عوام کے امن اور قدرتی حسن کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے تھے اب جب وقت آیا کہ وہ اس خطے سے کرپشن اور بدحالی کو دور کرے اتنے لا تعلق نظر آتے ہیں جیسا نہ انہوں نے کبھی اس علاقے کو دیکھا تھا اورنہ ان کی کوئی ذمہ داری ہے ۔ عباس کاظمی نے کہا کہ عمران خان کی پہلی ملاقات میں ان کی ہدایت کے مطابق گلگت بلتستان کی ترقی اور وہاں کے عوام کے جائز مطالبوں کے حل اور قتصادی ترقی کے لئے ایک مکمل پارٹی پروگرام Manifestoبناکر اس سال کے ابتدا میں ہی ایک کاپی بذریعہ رجسٹرڈ پوسٹ جناب عمران خان صاحب کوبھیجدی اورایک کاپی مرکزی دفتر میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل کرنل امان اللہ صاحب کے حوالے کی کہ وہ اسے چیرمین عمران خان صاحب تک پہنچادیںاور دو کاپیاں وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کے مطالعہ کے لئے ان کے دفتر میں پہنچادیں لیکن آج تک علم نہیں ہوسکا کہ یہ ساری کاپیاں کونسا پانی بہا کر لے گئے ہیں۔اسی سلسلے میں کرنل امان اللہ صاحب کے دفتر پہنچا تو وہ گلگت بلتستان کے ان درخواستوں پر غور کررہے تھے جو صدارت کے لئے لوگوں نے دئے تھے ۔چونکہ میں کسی عہدے کا خواہاں نہیں ہوں انہوں نے مجھ سے رائے لی تو میں نے گلگت بلتستان کی صدارت کے لئے تین نام تفویض کئے جسٹس (ر) سید جعفر شاہ ‘ ڈاکٹر محمد زمان آف داریل اور شاہ ناصر آف چلاس دیامرکے نام لکھ کر دئے ۔ لیکن ان میں سے بھی کسی کو بھی پارٹی قیادت نے صدارت کے لئے اہل نہیں سمجھا۔جو کہ حقیقت کے منافی ہے ۔یہ تینوں اشخاص اپنی اپنی جگہ بہت تجربہ کار اور معتبر ہیں۔ پارٹی قیادت کی انہی منفی رویوںکی وجہ سے گلگت بلتستان کا ایک قابل ترین شخص اور پی آٹی کا سینیئر ممبر اظہار ہنزائی نے بد دل ہوکر پارٹی معاملات سے خودکودور کررکھا ہواہے۔مرکزی سیکریٹیریٹ میں کوئی لابی ضرور ہے یا ہمارے اپنے لوگوں میں چند ایسے ضرور ہیں جو اچھے اور قابل لوگوں کو آگے آنے نہیں دیتے ۔ ان کی مثال یوں ہے ـ’’ نا کھیلانگے تے نا کھیلن دینگے ‘‘ ۔ اب دیکھیں سیف اللہ خان نیازی صاحب کو پارٹی کا چیف آرگنائزر بنایا ہے وہ کیا کرتے ہیں اور کب کرتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ عباس کاظمی نے چیرمین اور وزیراعظم صاحب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حالات کا نوٹس لیں۔اگرانہوں نے گلگت بلتستان سے عدم دلچسپی کا یہی حال رکھا تو اگلے الیکشن میںیہاں کی قانون ساز اسمبلی میں کوئی نمایاں کامیابی ملنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ عباس کاظمی نے جناب عمران خان صاحب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وقت نکال کر اسے ملاقات کا موقع دیں تاکہ وہ اپنے تیار کردہ پارٹیManifestoپر بریفنگ دے سکیں اور گلگت بلتستان میں جن اصلاحات کی ضرورت ہے اور کن اقدامات سے یہاں کی اقتصادی ترقی کو یقینی بنایاجاسکتا ہے ان کی نوٹس میں لائیں۔ عباس کاظمی نے جناب عمران خان صاحب کو چیلینج کیا ہے کہ وہ ایک دفعہ گلگت بلتستان کے حالات کو بہتر کرنے کے لئے انہیں موقع دیں تو اللہ کی مدد سے ہم اس مشن کو کامیاب کر کے ثابت کریں کے کہ گلگت بلتستان میں کرپشن دور کرنے ‘ سیاسی حالات کو سازگار بنانے اور وہاں کی حکومت کو بہتر طریقے پر چلانے کے اہل لوگ موجود ہیں۔

  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares
  •  
    8
    Shares
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*