تازہ ترین

گلگت بلتستان کے عوام کو بغاوت پراُکسایاجارہاہے۔

دنیا کے مختلف علاقوں میں اٹھنے والی بغاوت کا مطالعہ کیاجائے تو اس میں ایک قدرمشترک یہ ہے کہ حکمرانوں اورصاحب اقتدارنے اختیارات کا ناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے عوام پرظلم کے پہاڑ توڑے ان کو پریشان کیا یاان کے مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل بڑھانے میں اہم کرداراداکیا اس سے عوام میں احساس کمتری پنپنے لگا اوراس احساس کمتری نے ایک چنگاری جبکہ روزروزکے مسائل اورحکام بالا کی لاپرواہی شاہانہ طورطریقے اوربے اعتناعی نے جلتی پرتیل کا کام کیااوریہاں سے ان علاقوں میں بغاوت شروع ہوئی جو بعد میں ایک تناوردرخت کی شکل اختیارکرگئی سرسید احمد خان نے” اسباب بغاوت ہند”میں واضح طورپرلکھا ہے کہ” ہند میں بغاوت کا بڑا سبب حکومت کا اپنی رعایا کو نظراندازکرنا اوران کی طرف سے غفلت برتناہے”اب یہ غفلت اورکوتاہی خواہ حکومت کی طرف سے ہوخواہ ان کے تقررکردہ افسران کی طرف سے اچھی نہیں ہوتی ۔گلگت بلتستان کا وسیع وعریض علاقہ ڈوگروں سے کیا آزاد ہوا یہاں کے عوام ملک کے دیگرعلاقوں خاص طورپرپنجاب سے آنے والی بیورکریسی کے چنگل میں مرغ بسمل کی طرح پھنس گئے ان کے رویئے اورغلط فیصلوں کے سامنے ڈوگروں کے ظلم وستم کی داستانیں شرمانے اوراپنے آپ کو چھوٹامحسوس کرنے لگی ہیں گزشتہ ایک ماہ میں گلگت بلتستان میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں اگرمنتخب عوامی حکومت اورمقتدرہ حلقوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو خاکم بدہن بغاوت سراٹھنے میں زیادہ وقت نہ لگے ۔سیاچن کے دامن میں واقع دم سم کے عوام کئی دنوں سے بجلی سے محروم تھے حالانکہ ان کے اپنے گائوں میں بجلی گھرموجود ہے محکمہ برقیات کے عملے کی کوتاہیوں کی وجہ سے بجلی ایک ہفتے سے مسلسل بند تھی عوام کے باربارمطالبے پربھی بجلی کی فراہمی نہیں کی جس پرعوام نے محکمہ برقیات کے خلاف مظاہرہ شروع کیا اوراپنے حق کے لئے آوازاٹھائی تو اسسٹنٹ کمشنرمشہ بروم نے ان سے ان کے جمہوری حق چھیننے کے لئے اختیارات کا ناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ احتجاج نہ کرنے یعنی حق نہ مانگنے کا تحریری وعدہ لیااوراحتجاج کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں اسی طرح گزشتہ دنوں سیلفی بنانے کا شوق پورا کرنے کے لئے اسسٹنٹ کمشنرخپلونے سلینگ پل پرگاڑی روک دی اورٹریفک کی روانی شدید متاثرہونے پر مختلف بالائی علاقوں کی طرف جانے والے مسافروں میں سے ایک مسافرلڑکے نے گاڑی پل سے نکالنے کا مطالبہ کیا تو یہ اے سی کے مزاج مبارک پرناگوارگزرا اورپل کے چوکیدارکو ان کی گرفتاری کی ہدایت کردی دوسری طرف پند رہ سے بیس منٹ تک اسسٹنٹ کمشنرکی گاڑی پل پرکھڑی رہنے کے باعث ٹریفک روانی شدید متاثرہورہی تھی جس کو دورکرنے اورپل سے باری باری گاڑیاں اورٹریکٹروغیرہ گزارنے کی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ہونے کے باعث چوکیداراس لڑکے کوپکڑکے نہ رکھ سکے جس پراسسٹنٹ کمشنرصاحب برہم ہوئے اورایف سی آرجیسے کالے قانون کی یاد تازہ کرتے ہوئے چوکیدارکو ہی حوالات میں بندکروایا دیا اے سی کے مطابق لڑکے نے ٹورسٹ کے ساتھ بدتمیزی کی اور کارڈ چیک کیا تو اس کے پاس آئی ڈی کارڈ بھی نہیں تھا جبکہ اطلاع کے مطابق مذکورہ لڑکا میٹرک کا طالب علم اور اس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اس کے علاوہ سلینگ سب ڈویژن ڈوغنی میں شامل ہے اورسب ڈویژن ڈوغنی میں باقاعدہ ایک اسسٹنٹ کمشنرتعینات اوراپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں وہ اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلے میں سلینگ کا دورہ بھی کرتے رہے ہیںچھاپا مارنا اوردیگرقانونی ذمہ داریاں کی انجام دہی سلینگ کی حدود میں اس اسسٹنٹ کمشنرکی ذمہ داری ہے ۔جب مذکورہ اسسٹنٹ کمشنرسے ٹیلی فون کرکے رونماہونے والے واقعے کے بارے میں سینئرصحافی فداحسین نے پوچھا توانہوں نے کمال درغ گوئی سے کام لیتے ہوئے پل پرگاڑی روکنے اورچوکیدارکوحوالات میں بند کرنے کی خبرکی صحت سے انکارکردیاجبکہ پل پراسسٹنٹ کمشنرکی طرف سے گاڑی روکنے کی وجہ سے پھنسنے والے درجنوں عینی شاہدین کے مطابق اسسٹنٹ کمشنرخپلوپندرہ بیس منٹ تک پل پرگاڑی روک کرتصویریں بناتے رہے گاڑی میں خواتین بھی تھیں انہوں نے گاڑی سے پل پراترکرتصویریں بنوائیں دوسری طرف پولیس حکام اورمحکمہ تعمیرات کے ذمہ دارپل کے چوکیدارکو اسسٹنٹ کمشنرکے کہنے پرحوالات بندکرنے اور متعلقہ محکمہ کی مداخلت پرحوالات سے چھوڑ نے کی تصدیق کررہے ہیں عینی شاہدین کے مطابق پل پراس وقت کسی ٹورسٹ کی موجودگی کی خبرمیں بھی سچائی نہیں ہے ان کے مطابق اسسٹنٹ کمشنراوران کی فیملی کے علاوہ وہاں مودجود تمام افرادمقامی اورآرسی سی پل پرکام کرنیوالے مزدورتھے دوسری طرف صحافی کے سوال پراسسٹنٹ کمشنرکہتاہے کہ پل کے اس پارتعمیراتی کام ہورہے ہیں ڈی پی ایس سکول بن رہاہے اس کی نگرانی کے لئے معمول کے دورے پرتھے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق شام پانچ بجے کے بعد کاوقت تھا اے سی پل پرسلفیاں بنانے کے بعد سلینگ فش فارم پر گئے ساتھ فیملی تھی عینی شاہدین کے مطابق نہ زیرتعمیرپل کا معائنہ کیااورنہ ہی کہیں اورگیا اب غریب اورارباب اختیارکے ظلم کے ستائے ہوئے عوام اپنی دادرسی کے لئے کہاں جائیں کس سے گلہ کریں اورکس سے منصفی چاہیں کیا گلگت بلتستان کے عوام نے ایسے دن دیکھنے کے لئے ڈوگروں سے جنگ لڑی تھی کیا اسی لئے ڈوگروں کوبھاگانے کے لئے تن من دھن قربان کیا تھاکیا اس طرح بے عزت ہونے کے لئے راجگی نظام سے آزادی ملنے کی خوشی منائی تھی عوام کب تک ایسے غیرقانونی اقدامات دیکھتے رہیں گے ان افسران کا کام عوام کی خدمت ہے اگریہ لوگ عوام کی خدمت نہیں کرسکتے ہیں تو عوام کے لئے مسائل بھی پیدانہ کرے پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کی بے لوث قربانیوں کامقروض ہے باہرسے آنے والے نادان لوگ گلگت بلتستان کے عوام کی شرافت اورمہمان نوازی کو ان کی کمزوری سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے گلگت بلتستان کے عوام مخلص اورملک کے وفادارہیں لیکن اس وفاداری کا اس طرح بے عزتی کرکے امتحان نہیں لینا چاہئے اقتدارکے گھمنڈ اورنشے میں عوام پرظلم کرنا چھوڑدے ورنہ عوام بغاوت پراترآنے اورایسے حکمرانوں کے خلاف آوازاٹھانے پرمجبورہوجائیں گے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوتے موجودہ بیوروکریسی کو لگام نہ لگانے کی صورت میں ملک کے بعض دیگرعلاقوں کی طرح یہاں بھی عصبیت پھیلے گی عوام میں احساس کمتری بڑھے گا جس کے اچھے نتائج نہیں ہوتے مذکورہ بالا واقعہ کے خلاف سوشل میڈیا کے صارفین بھی شدید احتجاج بھی احتجاج کر رہے ہیں یہ بھی عوام میں پائی جانے والی بے چینی کی دلیل ہے اس طرح کے واقعات نے عوام میں بے چینی پھلائی ہے اوریہی اسباب بغاوت ہیں جن کے تدارک کے لئے وقت ارباب بست وکشاد کو اقدامات کرنے ہونگے ان افسران کی کارکردگی جانچنے اوران کے اقدامات سے عوام کس حدتک مطمئن ہیںدیکھنے کا کوئی نظام موجود نہیں عوام کے ساتھ ان افسران کی طرف سے ہونے والے ظلم اورناانصافی کے ازالے کا کوئی طریقہ کارنہیں ہے افسران بااختیاراورعوام بے اختیارہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی مثال کے مصداق چوکیدارکو ڈیوٹی احسن طریقے سے انجام دینے کے باجود حوالات میں بند کردیاجاتاہے جبکہ اے سی چونکہ صاحب اختیارہیں اس لئے ان کے غیرقانونی کام پربھی قابل گرفت نہیں ہے یہ کھلاتضاد ہے اورعوام کے حق میں ناانصافی ہے جس کی روک تھام کے لئے فورس کمانڈرایف سی این اے ،چیف سیکرٹری اورکمشنربلتستان کوکرداراداکریں۔اس طرح کے رویئے عوام کو بغاوت پر اکسانے اور علاقےمیں قائم امن اور بھائی چارے کی فضا کو خراب کرنے کی سازش بھی تو ہو سکتی ہے۔

تحریر :حبیب اللہ آل ابراہیم

  • 44
  •  
  •  
  •  
  •  
    44
    Shares
  •  
    44
    Shares
  • 44
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*