تازہ ترین

نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جار ہی،باہر جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری کردیا اور سماعت26 مارچ تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کو دل کے علاج کی ضرورت نہیں تھی ،چھاتی کادردادویات سے ٹھیک ہوتا رہا،اب مسئلہ علاج کا ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دل کا علاج جیل میں نہیں ہوسکتا،نوازشریف کو علاج کیلئے ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ باہر جانے والے کبھی واپس نہیں آتے،جن کا ٹرائل ہورہا ہے وہ بھی واپس نہیں آئے۔
ضرور پڑھیں: اگر آپ پولیس والے بن کرکھڑے ہو جائیں تو کسی کی جرأت ہے کہ وہاں سے گزر جائے ،احتساب عدالت کا خواجہ برادران کی پیشی پر راستوں کی بندش کا نوٹس۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیاد پر درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس سجادعلی شاہ اورجسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں۔
نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل بورڈنے نوازشریف کی صحت سے متعلق رپورٹ دی،16 جنوری کوعلامہ اقبال میڈیکل کالج کے ڈاکٹرزنے رپورٹ دی،خواجہ حارث نے کہا کہ چاررکنی میڈیکل نے 30 جنوری کونوازشریف کامعائنہ کیا،5 فروری کوسروسزہسپتال کے 6 ڈاکٹرزنے طبی معائنہ کیا،وکیل نوازشریف نے کہا کہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے 7 رکنی بورڈنے 18 فروری کورپورٹ دی۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی طبی بنیادوں پرسزامعطلی کی استدعاہائیکورٹ نے مستردکی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 15 جنوری 2019 کونوازشریف کی طبیعت خراب ہوئی،نوازشریف کی اس سے پہلے کی میڈیکل رپورٹ دکھاسکتے ہیں؟نوازشریف کی نئی اورپرانی میڈیکل رپورٹس کاجائزہ لیں گے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ بیرون ملک ڈیوڈ آرلارنس نوازشریف کا علاج کرتے رہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم جانتے ہیں نوازشریف کا لندن میں علاج ہوتا رہا،لندن کی رپورٹس پاکستانی ڈاکٹرزکونہیں دی گئیں،ہم پمزکی پہلی میڈیکل رپورٹس دیکھناچاہیں گے،کیا نوازشریف کواس سے پہلے یہ مسئلہ تھا ؟۔عدالت نے کہا کہ نوازشریف کی اس سے پہلے حالت بگڑی تھی توصورتحال مختلف ہوگی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 17 جنوری 2019 کونوازشریف کی دوسری میڈیکل رپورٹ آئی،دوسری رپورٹ کے مطابق نوازشریف کابلڈپریشرزیادہ ہے۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی دوسری میڈیکل رپورٹ علامہ اقبال میڈیکل کالج کی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نوازشریف کی پہلی رپورٹ میں عمر 65،دوسری میں 69 سال ہے،ڈاکٹرز نے نوازشریف کی عمر 4 سال بڑھادی،عدالت نے کہاکہ رپورٹ کے مطابق گردے میں پتھری،ہیپاٹائٹس،شوگر،دل کاعارضہ ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رپورٹس اس لیے دیکھ رہے ہیں کیانوازشریف کویہ چاروں پرانی بیماریاں ہیں۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کاخالی پیٹ شوگرلیول مسلسل 154 ہے،نوازشریف کو فیٹی لیور کا مسئلہ بھی ہے۔

  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares
  •  
    7
    Shares
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*