تازہ ترین

نوروزکی حقیقت ۔۔

نوروز فارسی زبان کے دوالفاظ نو یعنی نیا اور روز یعنی دن کا مرکب ہے یہ ایک خالص ایرانی تہوارہے جو ایرانی مہینہ فروردین کے پہلے دن یعنی یکم کو منایا جاتا ہے اس تہوار کی بنیاد پارسی مذہب پر مبنی ہے تاہم اس وقت مسلم ممالک میں بھی منایا جاتا ہے۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ایران میں جشن نوروز قبل مسیح یعنی کورش اورہخامنشی بادشاہ کے زمانے میں رائج تھا۔ اس دورمیں باقاعدہ طورپر اس کو قومی جشن کے طورپرمنایاجاتاتھا ہخامنشی بادشاہ داریوش یکم کے زمانے میں تخت جمشید جو شیراز سے چالیس میل شمال مشرق میں واقع ہے میں نوروز کی تقریب منعقد ہوتی تھی اور یہاں کے پتھروں پر لکھی ہوئی تحریروں سے پتہ چلتاہے کہ ہخامنشیوں کے دور میں لوگ نوروز کا جشن بڑے اہمتام کے ساتھ مناتے تھے۔اشکانی اور ساسانی ادوارمیں بھی نوروز کا جشن منایاجاتاتھا ۔ایران میں اسلام کے آنے ،ایرانیوں کے مسلمان ہونے اور ساسانیوں اور آل بویہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعدعید نوروز بڑے اہمتام اور وسیع پیمانے پر منایا جانے لگا۔ ایران کی بعض قدیمی کتابوں شاہنامہ فردوسی اور تاریخ طبری ودیگر میںنوروزکے بارے میں کچھ افسانوی کہانیاں بھی ہیں ان کتابوں میں جمشید اورکیومرث کو نوروز کے بانیوں میں شمارکیا گیا ہے۔ حکوت جمشید کے دور کو طلائی دورکہا جاتا ہے ان کے دورمیں عوام کے لئے آسائشیں اور نعمتیں مہیا تھیں ایران کے عوام ان کی حکومت سے خوش تھے ۔ شاہنامہ فردوسی میں یہ بھی نظرآتاہے کہ جمشیدنے آذربائجان سے گذرتے وقت اپنے لئے ایک تخت بنانے کا حکم دیا جب تخت بن گیا تو جمشید بادشاہ اپنے سر پر ایک زرین تاج رکھ کرتخت پر بیٹھ گئے اور سورج کی کرنیں جب اس پر پڑنے لگیں تو دنیا نورانی ہونے لگی لوگوں نے خوش ہوکر جشن مناناشروع کردیااس دن کا نام نو روز رکھ دیاایک روایت یہ بھی ہے کہ سینکڑوں برس قبل کردستان میںزہاک نام کا ایک ظالم و جابر بادشاہ حکومت کرتا تھا ان کے دونوں کندھوں پر سانپ اگ آئے تھے جنکا خوراک انسانی دماغ تھا زہاک روزانہ کرد قوم کے دو افراد کو قتل کر کے مغز ان سانپوں کو کھلاتے تھے اسی قوم میں کاوا نام کا ایک شخص بھی رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے بادشاہ کے حکم پر دو بیٹوں کو سانپوں کی خوراک بنائی گئی جب تیسرے بیٹے کی باری آئی تو انہوں نے انکا رکر دیا اور عوام کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دی قوم نے ان سے کہا کہ کیا آپ ہماری قیادت کر سکتے ہیں تو کاوانے اس مطالبے کو تسلیم کیا اور ایک بڑے جلسے کی صورت میں زہاک کے قلعے کی طرف مارچ شروع کی قلعہ پہنچنے کے بعد دروازہ توڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور ظالم زہاک کا کام تمام کر دیا چونکہ اس دور میں رابطے کا کوئی خاص انتظام موجود نہیں تھاکہ اس خبر کو عوام تک پہنچایا جاسکے اس لئے انہوں نے اونچے ٹیلوں میں جا کر آگ لگا دی اورزہاک کی ہلاکت کی خوشی میں ناچنے لگے اس کے بعد ہر سال نوروز کو کرد قوم جشن آزادی کے طور پر منانے لگے تاریخ میںیہ بھی لکھاہے کہ جب جمشیداپنی سلطنت کی بنیاد رکھی تو انہوں نے اس دن کو نوروز یعنی نیادن قراردیاا اور اسکے بعد ہر سال نوروز کا تہوار جوش وخروش سے منایا جانے لگابنوامیہ اوربنی عباس کے ادوارمیں بھی نوروزکو رواج دیا گیا کیونکہ نوروز کے اہم رسم و رواج میں حکمرانوں کو تحفے دیناہوتا تھا اور دو سرے ایرانیوں سے بہتر مراسم حکمرانوں کی طاقت اور حمایت کے لئے بھی ضروری تھے ۔ بنی امیہ کے بعد بنی عباس کے خلفا کی حکومت میں ایرانی وزرا بھی تھے ایرانیوں سے حمایت کے اظہار کے لئے نوروز میں مکمل آزادی دی جاتی تاکہ ایرانیوں کی ہمدردیاں حاصل کی جاسکیں جبکہ بلتستان میں نوروزکے تہوارکا رواج ایرانی مبلغین کے ذریعے پہنچاہے جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بلتی کلچرکا حصہ بن گیا ہے تاریخ بلتستان اوربلتی لوک گیتوں سے پتہ چلتاہے کہ تہذیب وتمدن کے لحاظ سے بلتستان خودکفیل علاقہ تھایہاں بہت سارے اپنے ہی تہوارتھے جن کو ایرانی مبلغین نے اسلام کے منافی قراردے کرختم کرادیا جبکہ ایسے تہواراورسوم رائج کئے جن کا اسلام سے دورکا واسطہ بھی نہیں ہے چونکہ ایرانی مبلغین کے ذریعے بلتستان میں اسلام پہنچا تو یہاں کے عوام نے ان کے ہرطورطریقے کو اسلام کے مطابق سمجھ کراپنایاجس کے باعث اہل بلتستان اپنے ثقافت سے محروم ہوگئے ایرانی مبلغین نے اہل بلتستان کو اسلام کے نورسے منورکیایہ سہرا ان کے سرجاتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی وجہ سے بلتی تہذیب اوربودوباش اور طورطریقوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچااوربلتستان کے عوام ایک بہت ہی قدیم روایت سے محروم ہوگئے نوروزکے دن یا نوروزکے تیرہ دن بعد ”سیزدہ بدر”کے نام پرایرانی جو خرافات اوربکواس کرتے ہیں جن کا اسلام تو دورایک مہذب معاشرے میں بھی کوئی گنجائش نہیں ہے جشن ”فے فنگ”بلتستان کی قدیم روایت ہے لیکن اسے متروک کروایا گیا جبکہ ایران میں نوروزسے پہلے بدھ ”چارشنبہ”کے روز ہراونچے مقامات پرآگ لگائی جاتی ہے اورمرد عورت بچے بچیاں آگ کے اوپرسے چھلانگ لگاتے ہیں الغرض ایرانی مبلغین کی وجہ سے نوروزکی روایت پڑنے کے باعث بلتستان میں نوروزمذہبی تہوارکی شکل اختیارکرگیاہے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام سے روایت ہے کہ انہوں نے نوروز کو مجوسیوں کی سنت اور اسکے احیا کو حرام قرار دیا ایک اورروایت سے ثابت ہوتا ہے کہ عراق میں امیر المومنین حضرت علی کے لئے فالودہ لایا گیا امام نے سوال کیا یہ کیا ہے؟ کہا گیا نوروز کی مناسبت سے ہے۔ امام نے فرمایا ہمارے لئے ہر دن نوروز ہے یہ نوروز سے متعلق امام علی کی بے اعتنائی کی دلیل ہے یعنی امام علی کی نظر میں دوسرے دنوں اور اس نوروز میں کوئی فرق نہیں۔اسی طرح دوسری روایات میں آیا ہے کہ امام جعفر صادق سے نوروز کے دن تحفے لینے کے بارے میں پوچھا گیاتو امام نے سوال کیا تحفہ دینے والا اور لینے والا دونوں نمازی ہیں؟ ہاںمیں جواب دیا گیاتوامام جعفر نے فرمایا: پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے اس حدیث سے یہ سمجھ آتاہے کہ امام نوروز کو کوئی مذہبی حیثیت نہیں دے رہے بلکہ انکی نظر میں اہمیت ایمان کی ہے ابن شہرآشوب نے روایت کی ہے کہ نوروزکے دن منصوردوانقی نے امام موسی کاظم علیہ السلام کو حکم دیا کہ امام مجلس تہنیت میں بیٹھیں اورلوگ انہیں مبارکیاد دینے کے لئے آئیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے ان اخبارمیں تحقیق اورنظرکی ہے جومیرے جد رسول اکرمۖ سے وارد ہوئی ہیں اس عید کے لئے مجھے کوئی چیزنہیں ملی اوریہ عید اہل فارس کی سنت ہے اسلام نے اسے محوکردیاہے اورمیں اللہ سے پناہ مانگتاہوں کہ ایسی چیزکا احیاکروں جسے اسلام نے محوکردیا ہو،یہ روایت بحارالانور اورمنتہی الامال میں بھی نقل ہوئی ہے۔
تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
    2
    Shares
  •  
    2
    Shares
  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*