تازہ ترین

جب چڑیل نے مجھے گھورا۔۔

گاوں کے وہ جوان بھی دیکھے ہے جو شام کے سایوں سے ڈرتے ہیں، کیا مجال اکیلے میں راتوں کو در کھول کر باہر نکلے۔مجھے کبھی اندھیروں سے خوف محسوس نہ ہوا، شام ڈھلے یا رات گئےجہاں جی چاہا بےدھڑک چلا گیا، اکثر رات گئے تک کزنز کے ساتھ گپ شپ لگاتا اور نصف شب بعد گھر لوٹتا۔ سنسان جگہوں سے گنگناتا گزر جاتا، اندھیروں کو للکارتا، ہاں، کبھی کبھی ان سے مخاطب ہو کر کہتا: ارے تم ندی پار جاکے چاچا میون کو ڈراو، مجن کو، بلبل کو ڈراو, شریکی دادی تجھ سے خوف کھائے یا بی بی جان خالہ سہم جائے میری بلا سے، مجھے تیری کچھ پروا نہیں ہاں، تیری چنگل میں، میں کبھی نہیں پھنسنے والا۔ جواب میں گھپ اندھیروں کو ہمیشہ خاموش پا کر مسکرا دیتا۔
اس شام میں نے گرمائی چراگاہ سے واپسی کا ارادہ کیا، ملکھون باجی بولی: شام کے دھندلکے میں کہاں جا رہے ہو، راہ میں رات پڑ جائے گی، صبح چلے جانا، میں نے اس کی ایک نہ سنی اور گاوں کی جانب روانہ ہوا، چلتے چلتے راہ میں اندھیرا چھا گیا، پھر رات گہری ہوتی گئی، دشت و بیاباں سے گزرتا ہوا قریبی گاوں پہنچتے پہنچتے میری رفتار کافی سست پڑ گئی۔
آج کی رات اماوس کی رات نہ تھی لیکن چاند کی چاندنی بھی مفقود تھی۔ اسی سمے زور کی بھوک لگی، تھکاوٹ سے پاوں من من بھر کے ہو گئے، یوں لگا جیسے جسم و جان سے ساری طاقت نچوڑ لی گئی ہو، گھر پہنچنے کے لیے ایک گھنٹہ مزید چلنا تھا، پا پیادہ چلنا اب دوبھر ہو رہا تھا، یہاں ایک سہولت تھی کہ سڑک کے دائیں بائیں گھرانے رشتہ داروں کے تھے، چند گھرانے برادری کے بھی تھے، اگست کا پہلا ہفتہ تھا، کھیتوں میں جا بجا فصلیں کھڑی تھیں۔
مذید آگے جانے کی بجائے میں نے رشتہ دار کے ہاں شب بسری کا فیصلہ کیا، تھکاوٹ کا کسی طرح مقابلہ کر لیتا لیکن ظالم بھوک ادھر ہی رکنے پہ مجبور کر رہی تھی۔
میں نےسڑک چھوڑی اور دائیں جانب کھیتوں میں اتر کر کھڑی فصلوں کے درمیان والی پتلی پگڈنڈی پہ ہو لیا، کوئی دو سو میٹر ناک کی سیدھ چل کر مطلوبہ گھر آتا تھا جہاں آج کی رات مجھے بسر کرنی تھی۔
پگڈنڈی زیک زئیک تھی، اس میں نشیب و فراز بھی آتے تھے یہ اس وقت پتا چلا جب دو بار لڑ کھڑا کر گرتے گرتے بچا، آگے پھر ڈگمگایا، اب کی بار سنبھل کر احتیاط سےقدم جما کے آگے بڑھا۔ اسی دوران آگے کیا دیکھتا ہوں کوئی بیس قدم کے فاصلے پر ننھا سا بچہ کھڑا میری طرف دیکھ رہا ہے ، پہلی نظر میں بچے کے لیے تجسس اور ترحم کے ملے جلے جذبات ابھرے اور دوسرے لمحے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ نصف شب کے قریب چھ سات سالہ بچہ یوں اکیلے گھر سے باہر نہیں آسکتا تھا۔
وہ اسی جانب سدراہ تھا جدھر مجھے جانا تھا۔ خوف کی سرد لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی۔ وہ آگے میری طرف نہیں بڑھا غالبا میری حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہا تھا۔
آگے بڑھنے کے لیے جگر چاہئے تھا، الٹے قدموں یہاں سے بھاگ نکلتا تو وہ پیچھے سے مجھے دبوچ لیتا۔
بھوت پریت، جنوں، چڑیلوں کے آنکھوں دیکھے حال زندگی میں بہت لوگوں سے سنے تھے۔ یہ جو بھی سامنے کھڑا تھا یا تھی، یہ غیر مرعی مخلوق تھی، شرشرار یا چڑیل تھی، جس کی شامت آتی یہ مخلوق اس پہ ظاہر ہو جاتی تھی۔ قسمت کا مارا میں آج اس کا رزق بننے ادھر آگیا تھا۔
سوچا، اگر بھاگوں تو پیچھے سے لپٹ جائے گی اور قابو کر کے آرام سے خون چوس لے گی، کھڑا رہوں تو کب تک، کسی بھی لمحے غافل پا کر حملہ کریں گی، یہ سب سوچ کر خوف کی کیفیت طاری ہوگئی اور۔۔۔ میں نے ایک فیصلہ کر لیا۔ عالم ارواح کو پکارا، آیت کرسی کا ورد کیا اور کا نپتے قدموں کچوے کی رفتار سے خون آشام مخلوق کی جانب بڑھا۔
اس کی نظریں مجھ پہ جمی تھیں، مجھے لگا کہ میرا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے دونوں بازو کھلے تھے، شاید بغل گیر ہوکے گلے میں دانت گاڑ لے گی۔ میں آگے چیونٹی کی رفتار سے رینگ رہا تھا، یوں نصف فاصلہ طے کرلیا، میرے اور میرے اجل کے بیچ اب محض دس قدم کا فاصلہ رہ گیا۔
یقینا اسے پتا لگا تھا کہ شکار خود آگے بڑھ رہا ہے، وہ دانت نکوسے مجھے کچا چبانے کے لیے تیار اور میں آگے ہی آگے اس کی طرف سرکتا جا رہا تھا۔ میں گویا کوئی ستارہ یا سیارہ تھا جو نادیدہ کشش ثقل(strong gravity) کے زیر اثر تیزی سے بلیک ہول کی جانب بڑھ رہا تھا۔
میں اور میری موت کے بیچ پانج قدم، اب چار۔۔۔ تین۔۔۔۔ دو۔۔۔ دل چیرنے والا فلک شگاف نعرہ بلند کیا اور جست لگا کر پوری قوت سے اس کے منہ پر گھونسا رسید کیا۔۔۔ اور۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔ یہ کیا ! میرا مکا اس عفریت کی بجائے نرم کپڑے کو جا لگا جو تڑخ کی آواز کے ساتھ چوبی ڈنڈے کے ہمراہ زمین بوس ہوگیا، میں اپنی ہی زور پہ اس سے کافی آگے جا گرا۔ جلدی اٹھ کھڑا ہوا اور عجلت میں پیچھے مڑ کر بے یقینی سے اسے ٹٹولنے لگا.
یہ چھوٹا سا ڈفر کوٹ (Hooded Duffle coat) تھا جسے دو لکڑیوں کو کراس کرکے انہیں پہنایا گیا تھا جس وجہ سے منا بچہ بازو پھیلائے دکھائی دیا تھا۔ اسے عام زبان میں پتلا ( Scare crow) کہا جاتا ہے جسے چڑیوں کو ڈرانے کے لیے فصل کے مالک کھیتوں میں نصب کرتے ہے۔
زور سے گرنے کی وجہ سے مجھے کافی خراشیں آئی تھیں۔ میں نے کپڑے جھاڑے، حلیہ درست کیا اور دھیرے سے گھر کی جانب چل پڑا۔

تحریر: شکور خان ایڈوکیٹ

  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares
  •  
    6
    Shares
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*