تازہ ترین

کراچی کی واہ سندھ کی آہ۔۔!

گیارہ دسمبر رات ۸ بجے کراچی کا ٹکٹ تھا۔ہم وقت سے پہلے ہی فیصل آباد کے ریلوے سٹیشن پہنچ گئے۔ٹرین اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوئی رات گزری، صبح ہوئی اللہ اللہ کر کے ۲۴ گھنٹے کا سفر طے کر کے اگلی رات ۸ بجے کراچی کے ڈرگ روڈ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے۔ ۲۰ دن کراچی میں گزارنے کے بعد اندازہ ہوگیا کہ کراچی واقعی میں ایشیاء کا پیرس اور روشنیوں کا شہر ہے۔اس شہر کی روشنیاں رات کو دن میں بدل دیتی ہیں۔اسی لئے گلگت بلتستان سے لیکر بلوچستان تک کے لوگ آپکو یہاں نظر آئینگے ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پورا پاکستان کراچی میں ان بسا ہے۔ اس شہر کو غریبوں کی ماں کا درجہ بھی دیا گیا ہے کیو نکہ پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت یہاں روزگار کے اور غریب کے لیے سستی زندگی گزارنے کے مواقعے بھی عام ہیں۔چاہے آپکا جس شعبے سے بھی تعلق ہویہاں آپ کو آپ کے شعبے کے مطابق کام آسانی سے ملے گا۔ اسی لیے تو یہاں اچھی زندگی گزارنے کے لئے مواقعے دستیاب ہیں۔ کراچی کے لوگ بھی اپنے شہر کی مانند دوسروں کی زندگیوں میں روشنی بکھیر رہے ہیں۔یہاں کے صاحب حیثیت لوگ ملک کے اکثر امدادی و فلاحی کا موں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ بانی پاکستان قائدآعظم محمد علی جناح، بابائے خدمت عبدالستار ایدھی اور مادر ٹریسا روتھ فاو جیسے عظیم ہستیوں کا اعزاز بھی کراچی کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی آخری سانس تک خاص طور پر کراچی کو اور پورے پاکستان کو اپنی خدمات اور پیار سے نوازا۔
یہ تو تھا کراچی جو سب کو اچھا لگتا ہے اور سب کی نظروں میں ہے۔ کیا تھل پارکر بھی کسی کو اچھا لگتا ہے؟ کیا کیٹی بندر بھی کسی کی نظروں میں ہے ؟ کیا سندھ میں صرف کراچی ہی ہے؟ نہیں ایک سندھ کراچی سے باہر بھی ہے اور اتفاق سے مجھے دو دن کے لییس سندھ گھومنے کا موقعہ بھی ملا اور میں نے دیکھا کہ سندھ کے حکمران یہاں کے لوگوں کو انسان نما جاندار اور شاید اشرف ال مخلوقات سے کم درجے کے انسان تصور کرتے ہیں۔طاقت اور دولت کی کالی پٹی ان کے آنکھوں میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ سندھ کا اصل اور چھپا ہوا چہرا ہے جو کبھی کبھار دھندلہ نظر بھی آجاتا ہے۔یہاں کراچی کی روشنیوں اور بلند عمارتوں کے برعکس بے روزگاری ،جہالت،بھوک اور پیاس کی تاریکیاں دن کے اُجالے کو بھی رات میں بدل دیتی ہیں۔ہم نے سندھ کی غربت کو سندھ کے دیہاتوں میں چھپادی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے مسلمان مردے کو قبر میں دفنادیتے ہیں۔سندھ کے واحد شہر کراچی سے باہر آجائیں اور چند امیر گھرانوں کو چھوڑے تواحساس ہوتا ہے کہ سندھ میں رہنے والے لوگ تیسری دنیا میں نہیں دسویں بارھویں دنیا میں رہتے ہیں۔یہاں تو لوگ غربت اور بے روزگاری کے سمندر میں بہ رہے ہیں ، ننھے ننھے بچے غزائیت کی کمی کی وجہ سے موت کی نیند سو رہے ہیں ِ ، حکمران حکمرانی کے نشے سے مست خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
ایک طرف کراچی کی فلک بوس عمارتیں اور اپنائیت ہے اور دوسری طرف سندھ کی بدحالی، مظلومیت اور جاگیردارانہ نظام ہے اور میں درمیان میں بیٹھ کر کبھی کراچی کا سوچتا اور کبھی سندھ کا اور مجھے سمجھ نہیں آتی اصل حقیقت کیا ہے؟ کراچی کی واہ یا سندھ کی آہ!۔

تحریر: صفدر حسین

  • 271
  •  
  •  
  •  
  •  
    271
    Shares
  •  
    271
    Shares
  • 271
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

One comment

  1. ظہیر لاغر

    ۔ جی بی

    ترے رتبے پہ تھو اور تیری قامت بھاڑ میں جاے
    سنو حاکم تری بے حس حکومت بھاڑ میں جاے

    جو اپنے گھر کے لوگوں کو اماں دینے سے قاصر ہو
    ہے اس منصف پہ لعنت وہ قضاوت بھاڑ میں جاے

    کرے جو ظلم کی تفسیر پھر ظالم کی حامی ہو
    وہ آیت جھوٹ اور ایسی خطابت بھاڑ میں جاے

    وفا کیسی کہاں کا عشق جب ہم غیر ہی ٹھہرے
    مروت لعنتی سو بار الفت بھاڑ میں جاے

    تری حرمت بچانے کو جواں بیٹے دئیے میں نے
    مگر یہ کیا کہ اب میری ہی عزت بھاڑ میں جاے۔!؟

    مجھے اپنوں سے شکوہ ہے، کہ جھک کر ظلم کے آگے
    کرے جو جی حضوری وہ امامت بھاڑ میں جاے

    ستم سے پھیر کے منہ مسجد و محراب میں چھپ کر
    کرے سجدہ تو بے معنی عبادت بھاڑ میں جاے

    وفاداری کے پردے میں جو جھونکیں دھول آنکھوں میں
    ہنر اور اس مداری کی کرامت بھاڑ میں جاے

    بٹھاتی ہے غلامی کا سبق لوگوں کے ذہنوں میں
    قلمکاروں کی نظموں کی حلاوت میں بھاڑ میں جاے

    حقائق ہی لکھے گا یہ قلم آخر تلک لاغر
    لگاتے ہیں کوئی تہمت تو تہمت بھاڑ میں جاے

    ظہیر لاغر

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*