تازہ ترین

شدید تاریخی برف باری نے سہولیات سے خالی ضلع کھرمنگ انتظامیہ کو سخت امتحان میں ڈال دیا۔

کھرمنگ ( ٹی این این ) ضلع کھرمنگ کی قیام کے بعد سے لیکراب تک کھرمنگ میں نت نئے قوانین تو روز نافذ ہورہا ہے لیکن عوامی مسائل کی حل کیلئے کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی ضلع کھرمنگ کے مسائل کی حل کیلئے وزیر اعلیٰ سمیت چیف سیکرٹیری سنجیدہ نظر آتا ہے۔ ضلع کھرمنگ کے عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کے ممبران کا کہنا ہےہمارا ضلع گلگت بلتستان کا پسماندہ ترین اور حساس علاقہ ہے۔ لیکن اس ضلع کے ساتھ مسلم لیگ ن کی جانب سے شروع دن سے ہی سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہے۔ضلع کھرمنگ اس وقت ترقیاتی کاموں کے حوالے سے قبرستان کا منظر پیش کررہا ہے وہیں سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی پامالی اور زراعت کیلئے نئے مواقع پیدا کرنے کے بجائے عوامی املاک پر زبردستی سرکاری عمارتیں بنانے کی کوشش بھی ایک سنگین مسلہ ہے۔سول سوسائٹی کے ممبران کا کہنا ہے کہ ضلع بھر ڈپٹی کمشنر کی ناک کے نیچے زیر تعمیر سرکاری عمارتوں کے پراجیکٹ کے ٹھیکے میں فرسٹ پارٹی کنٹریکٹر کی جانب سے مقامی سطح پر کم نرخ پر ناتجربہ کار افراد کو ٹھیکوں پر دی ہوئی جو میٹریل کی استعمال اور کوالٹی کو پس پشٹ ڈال کرکام کرتے ہیں جسکا نتیجہ چند سال بعد عمارت مخدوش ہوجاتی ہے۔ کھرمنگ کے سماجی کارکنان کا یہ بھی کہنا ہے زراعت پر توجہ دیکر معیشت کو سہارا دیا جاسکتا ہے کیونکہ ضلع بھر کے کئی نالہ جات بہت زرخیر ہیں اور خوبانی کی پیداوار کے حوالے سے منفرد مقام رکھتے ہیں لیکن حکومت نے آج تک وہ نالہ جات جو شاہراہ کھرمنگ چند کلومیٹر دوری پر واقع ہے اور بجلی اور روڈ بنا کر ماڈل ولیج بسایا جاسکتا ہے جس سے معاشی ترقی ہونے کے ساتھ سیاحت کو بھی فروغ مل سکتا ہے ،مگر انتظامیہ کی نظریں اس طرح کے توجہ طلب پراجیکٹ کی طرف ہے ہی نہیں۔
اسی طرح اس سال شدید برفاری کے بعد برفانی تودوں سے بچائو اور جون جولائی میں ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری کرنا نہایت ضروری ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کے پاس نہ ہی فنڈز ہے اور نہ حکومت نے ضلع کو مشنیری مہیا کی ہے اس وجہ سے قدرتی آفات کو روکنا انتہائی سنگین اور ناممکن نظر آتا ہے۔ضلعی انتطامیہ اس حوالے سےسرکاری و نیم سرکاری اداروں کے تعاون سے انسانی مشکلات کم ضرور کی جاسکتی ہے لیکن ایسا بھی کچھ نظر نہیں آرہا۔اس وقت ضلع بھر میں برفانی سیلاب آنے کی صورت میں واٹر چینلز،عوامی املاک کوحفاظتی بند باندھنے سمیت ندیوں کے کنارے آباد زمینوں کو سیلابی ریلے سے محفوظ کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہا۔
عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان ،گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منجمنٹ اور وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کسی بھی ہنگامی صورت میں عوام کی بھر پور مدد کی ضلع کھرمنگ انتظامیہ کو فنڈ ز مہیا کریں کیونکہ اس سال شدید برف باری سبب جون جولائی میں ندی نالوں میں طغیانی کے سبب سیلابی ریلے خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔

  • 40
  •  
  •  
  •  
  •  
    40
    Shares
  •  
    40
    Shares
  • 40
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*