تازہ ترین

آئیں حقوق نسواں کی بات کرتے ہیں!!

دنیا میں جب بھی اور جہاں بھی وفا،مہرومحبت کی بات ہوتی ہے تو میرے آنکھوں کے سامنے میری ماں کا چہرہ مسکراتا ہوا دکھائی دیتی ہے۔میں بحثیت ایک ادنیٰ سا کالم نگار صنف نازک کو وفا اور خلوص کی عظیم مورت تصور کرتا ہوں۔وفا جیسے وسیع مضمون پر جب قلم اٹھاتا ہوں یا کچھ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے لائبر ٸیری یا بکُ بنک جانے کی ضرورت نہیں پڑتا بلکہ میں سماج میں موجود صنف نازک کی وفا،مہرومہربانیوں پر مبنی داستانیں سن کر اور دیکھ کر خود ہی سبق لیتا ہوں۔عورت ذات کے بارے میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر صرف اتنا کہوں گا کہ ان کا ہر کردار بے مثال اور خلوص کا آئینہ ہے۔ماں کی محبت رہتی دنیا تک ساتھ چلتی ہے توبہن کی محبت سہارے کا کام انجام دیتی ہے۔بیوی بن کردکھ سکھ کے ساتھی کا کردار نبہھاتی سکون کا گہرا تخفہ مرد زن کا مقدر بنا دیتی ہیں ۔بیٹی بن کے ماں کیلئے سہارا دیتی ہے تو باپ کا سکھ اور چین بن جاتی ہیں۔لیکن دنیا کو پیار،محبت اور خلوص بانٹنے والا یہ طبقہ ہر دور میں ،ہر معاشرے میں محروم ومحکوم رہا ہیں۔بلکہ یہ کہاجائےتو بے جا نہ ہو گا کہ صنف نازک دنیا کی تاریخ میں سب سے مظلوم طبقہ رہا ہیں۔مغرب کی شعبدہ بازیوں پر مشتمل خوشنما نعروں کے پیچھے چھپے ہوئے تلخ حقائق ہو یا اہل مشرق کا مذہب وغیرت بعمہ فرسودہ رسم و رواج کی بھینٹ چڑھتی بنت ہوا پرکی جانے والی استحصالی داستانیں ہرجگہ تاریخ ظلم کی روداد لکھتے نظر آتےہیں۔اہل مغرب اور اہل مشرق صنف نازک کو بے جان جسم کی مانند سمجھتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ اہل مغرب عورتوں کی آذادی کا خوشنما نعرہ لگا کر استحصال کی ڈھال بنا دیتی ہیں تو اہل مشرق کے ناخواندہ طبقے رسم و رواج کے نام پر انسانیت کے حدیں ہی اس مظلوم و بے کس طبقے پر توڑ دیتی ہیں۔اہل مغرب نے عورت کو دولت،ہوس اور شہرت کا عکس دیا ہے تو دوسری طرف اہل مشرق بھی عورت ذات کو جوتی کے برابری میں مقام دیتے دکھائی دیتے ہیں۔اہل مشرق و اہل مغرب عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے ایک دوسرے سے برسر پیکار نظر آتے ہیں جبکہ دنیا کے آذاد خیال دانشورں کی رائے میں عورتوں پر دونوں سماج میں ڈھائے جانے والے مظالم یکساں ہے۔ایک معاشرے نے عورتوں کو آذادی کے نام پر تحقیر کا نشانہ بنایا ہوا ہے تو دوسری طرف کا معاشرہ مذہب و رسم رواج عورت ذات کو تیسری دنیا کی اچھوت ذات سمجھتا ہے۔جب کہ حقیقتاً عورت ذات کو حقوق دینے کی بات نا صرف انسانیت کا عالمی منشور دیتا ہیں بلکہ تمام آفاقی مذاہب و دوسرے ادیان میں بھی اس صنف نازک کو مردوں کے برابری کے حقوق معین کئےہیں۔دین اسلام عورتوں کے حقوق کے حوالے سےان تمام ادیان بشمول عالمی حقوق کے چارٹر پر بازی لیتے دکھائی دیتا ہے مگر افسوس ہماراملک ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی آذادی سے اب تک عورت ذات کیلئے محفوظ ملک نہیں بن سکا کھبی قصور کی زینب ڈھال بن جاتی ہے تو کھبی خدیجہ پر انصاف کے طالب علم کا چھری چل جاتا ہے۔کھبی انصاف کے فراہم شدگان کی طرف سے معصوم بچی پر تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارے جانے کا دل خراش واقعہ سامنے آتی ہے تو کھبی ایک شہر سے دوسرے شہر میں بریکنک نیوز کی مد میں معصوم اور کم عمر بنت ہوا کی عزت کا جنازہ تاراج کرنے کا معمولا چینل کی سرخیوں میں سلگتے نظر آتے ہیں۔مگر ہم پھر بھی چپ چاپ دوسرے واقعہ کے انتظار میں ٹی وی کےاسکرین کے سامنے محو گرداں رہتے ہیں۔میں اس وقت دیکھتا ہوں کہ ملک کے حاکم اور اس کے درباری ان جیسے واقعات کی انسداد کیلئے اقدامات کرنے کی بجائے مذمتی بیان دے کر ذمہ داری سے رفو چکر ہو جاتے ہیں۔اس لئے میں حاکم وقت کے ہر مذمت کی مذمت کرتا رہتا ہوں۔مذمت سے یاد آیا آپ اورہم بھی ان جیسے واقعات کے بعد مذمت کےدائرے تک محدود نہ رہے گا بلکہ واقعات کے کارفرما پر غور کیجے گا۔ان جیسے واقعات کا تدارک عورتوں کو حقوق کی فراہمی پر ہے۔عورتوں کو برابری کی بنیاد پر دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنےپر ہے۔عورتوں کو فیصلہ سازی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے سے ہیں۔یقین جانیے معاشرے کی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب سماجی انصاف کی عدم فراہمی پر ہیں اور واقعات کے تداراک کا سب سے بڑا ہتھیار سماجی انصاف ہے۔تو آئے کیوں نا ہم بنت ہوا کو برابری کا حق دیتے ہیں۔ہمیں خود سے اس حوالے سے آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ محبت ،خلوص اور امن کے بغیر سماج کا چلنا مشکل ہے اور عورت ذات کے بغیر محبت کا مضمون نامکمل ہے۔
تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

  •  
  • 26
  •  
  •  
  •  
  •  
    26
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*