تازہ ترین

ضلع کھرمنگ انتظامیہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے کس حد تک تیار ہے؟ خصوصی رپورٹ۔

کھرمنگ ( ٹی این این) گلگت بلتستان بھر میں اس سال برف باری نے تیس سالہ ریکارڈ توڑدی ہے۔ لیکن ضلع کھرمنگ کے عوام شدید برفباری کے بعد کی صورت حال اور ضلعی انتظامیہ کے غفلت کی وجہ سے انتہائی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کھرمنگ کی قیام سے لیکر آج تک ضلع بھر میں قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے ڈیزاسٹرمنجمنٹ اٹھارٹی اور ریسکو 1122 کا وجود ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے کھرمنگ جیسے حساس علاقے میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کو کسی قسم کی بھاری مشینری مہیا کی ہے۔ اس وقت محکمہ پی ڈبیلو ڈی کے پاس بھاری مشنیری ہونے کے باوجود آج تک ضلع کھرمنگ کے ندیوں میں طغیانی طوفان کی صورت میں عوامی املاک کو بچانے کیلئے پانی کی لائن کو سیدھا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
ضلع کھرمنگ کے ذیادہ تر علاقے نالہ جات مہدی آباد نالہ، غاسنگ نالہ،منٹھوکھا نالہ، مایوردو نالہ،گیراخ نالہ، میموش نالہ،شرٹینگ نالہ ،طورغن نالہ ،گیداخ نالہ پر مشتمل ہیں اور ذیادہ تر نالہ جات میں آج بھی موصلاتی نظام بلکل ہی نہیں ہے اور ہر سال گرمیوں کے موسم میں ندیوں میں طغیانی کی وجہ سے پورے کھرمنگ کاشتکاروں کو شدید نقصان پہنچنے کے ساتھ انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔ لیکن سرکاری سطح پر نہ ہی معاوضہ دی جاتی ہے اور نہ ہی ظغیانی سے بچاو کیلئے حفاظتی بند تعمیرکا کوئی رواج ہے جس سے نقصانات میں ہرسال اضافہ ہوتے ہیں کیونکہ کاشتکار ہر سال پانی کی کٹائی میں آنے والے مقامات کو اپنی مدد آپ بحال کرتے ہیں ۔
ضلع کھرمنگ کے نالہ جات پر موجود ندیوں کے کنارے حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر فنڈ ز بھی منظور کرائے جاتے ہیں لیکن اس حوالے سےاحتساب کا عمل نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے افراد کی نذر ہوجاتی ہے جو حکومت کو دکھانے کیلئے غیر ضروری طور پر منظور نظر افراد کے زمینوں کے آگے پتھروں کی لکیر کھینچ کر محکمہ پی ڈبیلو ڈی، ایل بی آرڈی کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو خوب چونا لگاتے ہیں۔ضلع کھرمنگ میں اس سال گزشتہ سالوں سے کہیں ذیادہ دندی نالوں میں طغیانی طوفان کا خدشہ ہے ۔کاشتکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ندیوں کے کنارے زمینوں اور درختوں کی بچاو کیلئے کوشش کرتے نظر آتا ہے لیکن فنڈز کی عدم سہولیات کی وجہ سے کارآمد ہونا ممکن نہیں۔
عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان،چیف سیکرٹیری اور فورس کمانڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کھرمنگ میںقبل از وقت قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیاد پر گلگت بلتستان ڈ یزاسٹرمنجمنٹ اٹھارٹی اور ریکسو 1122کےقیام کو یقینی بنائیں اور ضلع کھرمنگ کے خطرناک ندیوں( جس میں منٹھوکھا نالہ سرفہرست ہے کیونکہ یہ نالہ ضلع کھرمنگ کا سب سے بڑا نالہ ہے)، میں پانی کی ڈائرکیشن کو سیدھا کرنے کیلئے پی ڈبیلو ڈی کے بلڈوزر کے ذریعے ہنگامی بنیاد پر گرمیوں سے پہلے اقدامات اُٹھائیں اورکے اطراف میں حفاظتی بند باندھنے کیلئے اقدامات کریں ۔عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے ممکنہ سیلاب کے نتیجے میں تباہ کاریوں کو پہلے کی طرح نظر انداز کرنے کے بجائےہنگامی بنیادوں پر ریکسوکے انتظامات اور طوفان کی صورت میں زمینوں ، درختوں اور گھروں کا بھی حساب رکھا جارہا ہے تاکہ نقصان کی صورت میں معاوضے فراہمی یقینی بنایا جاسکے۔

  •  
  • 39
  •  
  •  
  •  
  •  
    39
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*