تازہ ترین

حقوق نسواں اورآزادی کے نام پرگہری سازش۔۔

عورتوں کے حقوق کا عالمی دن توگزرگیا مگراس دن کی مناسبت سے نکالی جانے والی ریلیوں میں لگائے یا لکھے ہوئے نعروں پرشروع ہونے والی بحث ختم ہونے کے بجائے طولانی ہوتی جارہی ہے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی رائے سوشل میڈیاپربلاخوف دے رہے ہیں دنیاجانتی ہے کہ یہ عالمی دنوں کاسلسلہ تو اہل مغرب نے شروع کیا ہے چارجنوری کو وارلڈبریل ڈے سے شروع اورسال کے آخرمیںبیس دستمبرکو انٹرنیشنل ہیومن سولیڈیرٹی ڈے پرختم ہوتاہے لیکن اسلام ایک جامع دین اورمکمل ضابطہ حیات ہے خواتین کو اسلام نے جو حقوق دیئے وہ کسی نے نہیں دیااسی طرح قرآن پاک میں خداکے سوا کسی اورکی عبادت نہ کرنے کے حکم کے بعد دوسرا حکم والدین کے ساتھ احسان ہے یعنی جس طرح اللہ کی عبادت لازمی ہے اسی طرح والدین کی اطاعت اورفرمانبرداری اوران کے ساتھ احسان بھی عبادت ہے اسی طرح اسلام ماں کا دیدارکرناحج کی عبادت،بہنوںپرخرچ کرنا بہترین صدقہ،بیٹی کی بہترین تربیت اورپرورش کرنے والے کو رسول اکرم کا ہمسایہ قراردیتاہے یعنی اسلام میں کسی کو حقوق دینے یا عزت واحترام کرنے کے لئے کوئی خاص دن مقررنہیں ہے ۔اہل مغرب آج عورتوں کو حقوق کے نام پرسڑکوں پرلانے کی کوشش کررہے ہیں اسلام نے وہ حقوق آج سے چودہ سو سال پہلے عورتوں کے حوالے کرنے کے ساتھ اس پرعملدرآمد بھی کروایا ہے ۔یہ وہی حقوق ہیں جن کی خواتین کو ضرورت ہیں اوراس سے ان کی حقیقی عزت اوروقارمیں اضافہ ہوتاہے مگرآج کل مغرب زدہ ایسی خواتین سڑکوں پرنکل کرحقوق کی بات کررہی ہیںوہ دراصل خواتین کو ان کے حقیقی حقوق سے دورلے جارہی ہیں بلکہ حقوق سے محروم کرنے اورفطرت سے دورکرنے کی سازش اورحقیقی معنون میں خواتینکے استحصال کی کوشش ہے گزشتہ دنوں اسلام آباد سمیت ملک کے دیگرشہروں میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے نکالی جانے والی ریلیوں میں جو نعرے لگائے تھے درحقیقت وہ ایک گہری سازش ہے تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ قابل اعتراض نعروں پرمشتمل پلے کارڈاٹھائے نظرآنے والی خواتین دراصل ان کے جنس سے نہیںتھے مطلب آپ سمجھ گئے ہونگے کہ جس طرح بہت سارے مرد شی میل کے روپ میں مارکیٹ میں نظرآتے ہیں اسی طرح اس دن کے لئے بہت سارے شی میل یا شی میل نما مردوں کو تیارکرکے لائے گئے تھے جو خواتین کے حقوق کے نام پراچھل کود کرنے کے ساتھ مخلوط رقص سے لطف اندوزہورہے تھے اچھل کود کرنے یامخلوط رقص سے خواتین کو حقوق ملیں گے نہ یہ کسی صورت مسئلے کا حل ہے ان ریلیوں میں شامل ہونے والی خواتین حقیقت میں اپنی ذمہ داریوں سے حقیقت سے دورہوتی جارہی ہیںعورت کی تحلیق اورمرد کی تخلیق میں فرق ہے خواتین لاکھ چاہیں گی بھی تو مرد کی برابری نہیں کرسکتیںبرابری اس معنی میں کہ عورت اورمرد کی جسمانی ساخت میں واضح فرق ہے اوریہی فرق ایک دوسرے کی ضرورت ہے اب پانی سے آگ کا کام نہیں لیا جاسکتا پانی سے آگ بجھائی جاتی ہے بھڑکائی نہیں جاتی اس عالم آب گل اورمخلوق خداوندی کی تخلیق مصلحت سے بری یا خالی نہیں اگرکوئی کہتاہے کہ میں نے پانی سے آگ کا کام لینا ہے تو یہ خیال عبث کے سوا اورکچھ نہیں ہے جس نے کائنات کو بنایا اس کا فرماناہے کہ وللرجال علیھن درج،(اورمردوں کو ان پرفضیلت دی ہے)۔کوئی بھی مرد خواتین کی آزادی یا ان کو حقوق دینے کے خلاف نہیں ہے اگرایسا ہے یا مرد ہی عورت کا دشمن ہے تو مرد جوروکا غلام یا رن مرید سے مشہورنہیں ہوتے دراصل مرد خواتین کی بے راہ روی کے خلاف ہیں لیکن یہبالی عمرکیمعصوم مگرخواتین کے استحصالی گروپ کے خوش نمانعروں سے متاثرخواتین سمجھ نہیں پارہی ہیں یہ مضحکہ خیزنعرے دراصل خواتین کو بدنام کرنے اورجنسی بے راہ روی کو فروغ دینے کی ایک گہری سازش ہے ،معروف صحافی اورکالم نگارآمنہ مفتی کا ایک کالم بی بی سی اردونے شائع کیا ہے جس میں انہوں نے ان نعروں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے آئیے اس کا کچھ حصہ آپ بھی پڑھتے ہیں ،اس مارچ میں عورتوں، لڑکیوں اور بچیوں کے ساتھ کچھ مرد فیمنسٹ بھی گتے اٹھائے شریک تھے۔ یہ گتے، عام گتے نہ تھے، ہانکا کرنے کے کنستر تھے۔آپ میں سے جن لوگوں کو شکاریات سے دلچسپی ہے اور انھوں نے جم کاربٹ جیسے شکاریوں کی داستانیں پڑھ رکھی ہیں، انہیں یقینا ‘ ہانکے کی تکنیک کے بارے میں بخوبی علم ہو گا۔گھاگ شکاریوں کا سامنا جب کسی بہت ہی عیار اور موذی جانور سے پڑ جائے جو کسی طرح اپنی کمین گاہ سے نکلنے پہ آمادہ نہ ہو تو اس کے لیے ‘ہانکا کیا جاتا ہے۔اس طریقے میں ہوتا یہ ہے کہ اصل شکاری کہیں مچان یا آڑ میں بیٹھ جاتا ہے اور علاقے کے شریروں کو خالی کنستر، ٹین اور ڈنڈے دے کر مذکورہ علاقے کے گھیرا کو روانہ کیا جاتا ہے۔یہ لوگ شکاری نہیں ہوتے، ان کا مقصد صرف شور مچا کے موذی کو اس کی کمین گاہ سے نکال کے شکاری کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔مخلوط رقص اوردھمال کے بجائے شعوروآگاہی پھیلانے کیلئے تقریبات ،کانفرنسزاورسیمنارزکراتے اوراس میں اپنے حقوق سے نابلد اورمحروم خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خواتین کوحقوق تب سے ملناشروع ہوگئے جب انہوں نے تعلیم حاصل کرناشروع کیایہی وجہ ہے کہ نیپولین نے کہا کہ تم مجھے ایک پڑھی لکھی ماں دے دو میں تمہیں ایک مہذب اورپڑھی لکھی قوم کی پیدائش کا وعدہ کرتاہوں ”میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پرقابل اعتراض اورمضحکہ خیزنعروں پرمشتمل پلے کارڈ اٹھانے یا بینرزلگانے کے بجائے ”تعلیم میرا حق ہے،باعزت روزگارہرعورت کا بنیادی حق ہے ،خواتین کا احترام معاشرے پرفرض ہے اسی طرح مجھے وراثت میں حصہ دو ”جیسے اچھے نعرے تھے جن کو نہ صرف نمایاں کرکے آویزاں کراتے بلکہ اس کے حق میں آوازاٹھاتے ۔اس وقت بہت سارے علاقوںمیں بچیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں اس کی وجہ سے ان کو اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں علم نہیں اسی طرح روزگارکے مسائل بھی ہیں جن کو حل کرنے اورخواتین کو باعزت روزگارکی فراہمی کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ بہت سارے علاقوں میں خواتین کو وارثت سے محروم رکھا جاتاہے حتیٰ وارثت میں حصہ مانگنا معیوب سمجھاجاتاہے معاشرہ اس عورت کی طرف انگلیاں اٹھاتاہے جووارثت میں سے اپنا حق مانگتاہے ان طے شدہ حقوق کے حصول کیلئے آوازاٹھانے کے بجائے میراجسم میری مرضی اوردیگرمضحکہ خیزنعرے لگارہی ہیں جو خواتین کے تمسخرکی وجہ بن رہے ہیں۔خواتین بے شک آزادی کی جنگ لڑیں بہتری کی طرف بڑھیں حقوق کی بات کریں لیکن کسی کا آلہ کارنہ بنیں اوردرآمد شدہ نعرے نہ لگائیں بلکہ عقل سے کام لیتے ہوئے اپنے حقیقی حقوق کے حصول کے لئے آوازاٹھائیں مرد ضرورساتھ دیںگے۔
تحریر۔حبیب اللہ آل ابراہیم

  •  
  • 12
  •  
  •  
  •  
  •  
    12
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*