تازہ ترین

جنگ زدہ معاشرے کے نفسیاتی خدوخال۔۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین موجود تنازعہ نے چودہ فروری کو ایک مرتبہ پھر ایک شدید صورت اختیار کر لی۔
پلوامہ میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس حملے کی ذمہ داری ایک جہادی گروہ جیش محمد نے قبول کی۔ ہندوستان کی حکومت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا۔ پاکستان نے اس حملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کا یقین دلایا۔
26 فروری کو ہندوستانی طیاروں نے پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے میں ایک ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد گرایا اور ڈھائی سو سے زائد دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعوی کیا۔ تاہم پاکستان نے بھارتی دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے ان حملوں میں کسی بھی جانی و مالی نقصان کو غلط قرار دیا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کو ایک سرپرائز کی دھمکی دی۔
27 فروری کو پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کرنے والے دو ہندوستانی طیاروں کو پاکستانی ایئر فورس نے تباہ کر دیا۔ ایک ہندوستانی پائلٹ زندہ گرفتار ہوا جسے ایک دن تحویل میں رکھنے کے بعد ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔پاکستانی وزیراعظم نے ایک مختصر تقریر میں ایک مرتبہ پھر ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دی۔
ہندوستانی حکومت اور میڈیا نے پلوامہ حملے کی تمام تر ذمہ داری پاکستانی حکومت پر عائد کی۔ دو ہندوستانی طیاروں کے گرائے جانے کی بجائے گرفتار پائلٹ کی رہائی کی خبر کو زیادہ نمایاں کر کے شائع کیا گیا اور اس کو ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی فتح قرار دیا گیا۔
پاکستانی میڈیا پر ایک انٹرویو میں ایک معروف بھارتی صحافی نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ جنگ کا یہ ماحول کسی بھی طرح ہندوستان میں ہونے والے انتخابات جیتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ڈھائی سو دہشت گردوں کی مبینہ ہلاکت پر ان کا کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستانی حکومت کا انتظار کریں گے کہ وہ کب ان ہلاکتوں کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔
پاکستانی اور ہندوستانی حکومتوں کے بیانات اپنی جگہ پر مگر اس سارے معاملے پر ایک اہم مضمون رابرٹ فسک نے برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے لئے لکھا۔ اپنی تحریر میں انہوں نے پلوامہ حملے کے بعد ہندوستانی ردعمل کو اسرائیل کا تجویز کردہ قرار دیا۔بعدازاں اس سے ملتے جلتے خیالات کا چرچا سوشل میڈیا پر بھی ہوتا رہا کچھ دنوں کے بعد اسی خبر کی بازگشت مین سٹریم میڈیا پر بھی سنائی دی۔
یعنی مختلف تجزیوں، خبروں اور خیالات کی وہ دھول اڑی کہ حقیقت نظر آنا بند ہوگئی۔
اپنی گزارشات پیش کرنے سے پہلے اس تمہید کا مقصد تکرار عبث اور ضیاع وقت نہیں تھا اس خلاصے کا مقصد آپ کی توجہ تضادات میں لتھڑے ہوئے اس ماحول کی جانب کرانا تھا کہ جو جنگ کی اس صورتحال میں پیدا ہوا۔پاکستانی عوام نے اس سارے معاملے میں پاکستان کو فاتح قرار دیا۔ پاکستانی وزیراعظم کو خارجہ امور کا ماہر اور مدبر ٹھہرایا گیا۔پاکستانی فوج کو دنیا کی بہترین فوج قرار دیا گیا۔ پاکستان کی سڑکوں اور گلیوں میں جہاں فتح اور جشن کا سماں تھا وہیں چند لوگوں نے جنگ کے خلاف مظاہرے بھی کیے۔
ہندوستانی عوام کا ردعمل قدرے مبہم رہا ہندوستانی میڈیا نے اس حملے کو الیکشن جیتنے کی ایک تدبیر قرار دینے والے سیاستدانوں کے بیانات نشر کیے۔ گو میڈیا نے اس حملے کے نتائج کے بارے میں کوئی حتمی بات کرنے سے تاحال گریز کیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ان حملوں کو ہندوستان کے ایک بڑے پلان کا حصہ قرار دیا گیا۔بھارتی وزیراعظم نے اس حملے کو ایک پائلٹ پروجیکٹ قرار دے کر ایسے خیالات کو تقویت فراہم کی۔ یہ تو ہو گیا سیاست، میڈیا، خارجہ پالیسی اور فوجی حکمت عملی کا بیان۔۔۔ ذرا غور فرمائیں کہ عوام پر جنگ کے اس ماحول اور اس پر مستزاد پر تضاد بیانات نے کیا اثرات مرتب کئے ہوں گے۔ جنگ جہاں انسانی جانوں کے نقصان اور املاک کی تباہ کاری کا سبب بنتی ہے وہاں یہ انسانوں کے درمیان کشیدگی، سیاسی اور مذہبی اختلافات میں اضافے، خوف، بے یقینی اور ایک دوسرے کے لئے نفرت کو بھی بڑھاتی ہے۔ وہ لوگ جو جنگ سے پہلے ایک دوسرے کے ساتھ میل جول رکھنے بات چیت کرنے اور ثقافتی مشترکات سے لطف اندوز ہونے پر آمادہ تھے جنگ کی صورتحال میں درمیان کا راستہ چھوڑ کر انتہائی غیر لچکدار نقطہ نظر اختیار کر لیتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اگر ہندوستان میں ایم ایس گول والکر کی کتاب کے مندرجات دہرائے جا رہے ہیں تو پاکستان میں غزوہ ہند کا ذکر از سر نو زندہ ہو گیا ہے۔
یہ بات تو آپ نے سن رکھی ہوں گی کہ جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان سچائی کو ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا تو ایک طرف رہا مین سٹریم میڈیا نے ایک اندازے کے مطابق 64 سے لے کر 57 فیصد تک جعلی خبریں عوام تک پہنچائیں۔بین الاقوامی میڈیا نے ثبوتوں کے ساتھ ان جعلی خبروں کو نمایاں کیا جو پاکستان اور ہندوستان کے میڈیا نے اس صورتحال کے حوالے سے شائع کیں۔ قابل غور بات یہ تھی کہ یہ جعلی اور غلط خبریں کسی ریاستی ادارے نے نہیں بلکہ کارپوریٹ میڈیا نے شائع کیں۔ مقصد صاف ظاہر تھا کہ اپنے ملک کی فوج کی کاروائی اور دشمن کی ہزیمت کو بڑا کر کے دکھایا جائے۔ لیکن اس کا ایک لازمی نتیجہ عوام میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی صورت میں نکلتا ہے۔ جعلی خبروں کی مقبولیت اور ان کو بے سوچے سمجھے بنا آگے بڑھا دینا شدت پسندی Radicalism کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ نے یقینا غور فرمایا ہوگا کہ دونوں طرف سے ایسی باتیں کہی گئی ہیں جو ناقابل اعتبار یا کم ازکم شک و شبہ سے بالا نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود نہ صرف وہ باتیں کہی گئی بلکہ عوام نے ان کو سچا جان کر اور حقیقت مان کر دوستوں میں پھیلایا بھی۔
ایسے میں وہ لوگ جو انتہائی Radical نقطہ نظر کے حامی نہیں تھے وہ سخت مشکل کا شکار ہو گئے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں رہنے والے معروف شاعر جاوید اختر۔۔۔ گو انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو ہندوستانی تاریخ کا جھوٹا ترین وزیراعظم کہا مگر انہیں اپنی اہلیہ شبانہ اعظمی کے والد کیفی اعظمی کی یاد میں منعقد ہونے والی کراچی کی ایک تقریب میں شرکت سے انکار کرنا پڑا۔۔ آپ کو یاد ہوگا چند برس قبل شبانہ اعظمی نے ایک انٹرویو میں ان مشکلات کا ذکر کیا تھا جو انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے ممبئی میں رہائش گاہ کے حصول کے ضمن میں اٹھانا پڑی تھیں۔۔ ایک اور مثال معروف ناول نگار اور مصنفہ ارون دھتی رائے کی ہے۔ ایک تازہ خبر ان پر غداری کا مقدمہ چلا کر گرفتار کرنے کے بارے میں ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے جنگ کے خلاف بیان دے کر گو پاکستان میں جنگ مخالف عناصر کو خاموش کرا دیا ہے تاہم جنگ کے حق میں بولنے والوں کا زور خطابت تاحال جاری ہے۔
اس سوال کی جانب چلیے کہ جنگ کے نقصانات سے کماحقہٗ آگاہی رکھنے کے باوجود لوگ جنگی ذہنیت کو بڑھاوا دینے والے بیانات پر بلاتامل اوربلاتاخیر ایمان کیوں لے آتے ہیں۔ اجازت دیجئے کہ ایک درسی اصطلاح سے مدد لی جائے۔ Metacognition نفسیات میں ایک مستعمل اصطلاح ہے عام فہم زبان میں اس سے مراد اپنے فکری عمل سے آگاہی ہے۔ اس آگاہی کے نتیجے میں انسان خود اپنی سوچ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔عموما انسان اپنی سوچ اور فکر کے دھارے میں بہتا چلا جاتا ہے اسی دھارے کے زیراثر وہ مختلف فیصلے کرتا ہے چیزوں پر صحیح یا غلط کا حکم لگاتا ہے اور انہیں فیصلوں کے نتیجے میں وہ مختلف کام سرانجام دیتاہے۔ سوچ اور فکر کا یہ بہاؤ عموما اس طرح انسان کو اپنی رو میں بہا کر لے جاتا ہے کہ وہ اپنی سوچ کے منبع و ماخذ سے بے خبر مختلف افعال سرانجام دیے چلا جاتا ہے۔ ایسے میں انسان یہ بھی نہیں جان پاتا کہ اس کی سوچ کی بنیاد کس طرح غلط معلومات، غیر منطقی نتائج، اور جذباتی پسند اور ناپسند پر استوار ہوتی ہے۔
دسمبر 2018 میں نفسیات نہیں بلکہ بیالوجی کے ایک سائنسی جریدے نے ایک انتہائی اہم تحقیق کے نتائج شائع کیے۔ تفصیلات میں جائے بغیر اس تحقیق کے نتائج کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ اس تحقیق نے انتہا پسند سوچ رکھنے والوں میں Metacognition کی پیمائش کی اور یہ دیکھا کہ جن لوگوں کی سوچ میں انتہا پسندانہ رجحانات زیادہ تھے ان میں Metacognition اتنی ہی کمزور تھی۔یعنی انتہا پسند لوگوں میں اپنی سوچ کے بارے میں صحیح یا غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت دوسرے لوگوں سے نسبت بہت زیادہ کمزور تھی۔
یہ گزارش کر چکا کہ جنگ انتہاپسندانہ سوچ کو رواج دیتی ہے۔ دو انتہاؤں کے درمیان کھڑے لوگ غدار کہلاتے ہیں انتہاپسندانہ سوچ Metacognition کو کمزور کر کے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے انسان کو محروم کر دیتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کروڑوں افراد کی سوچ اور فکر کو متاثر کرتی ہے۔
صرف فرد نہیں معاشرے۔۔۔ بلکہ دو بڑے ملک اس طرح انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ کے بارے میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت ڈھونڈ نے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تحریروں کا مطالعہ ہی کافی ہے۔
حال ہی میں شائع ہونے والے ایک نفسیاتی تجزیہ میں دو طیاروں کو مار گرانے کو پاکستان کی نفسیاتی برتری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 1971 میں ہتھیار ڈالنے کے نتیجے میں جو احساس شکست پیدا ہوا تھا دو جہازوں کے گرانے کو اس احساس شکست کا علاج قرار دیا گیا۔ اس نفسیاتی تجزیہ کے حسن و قبح پر گفتگو اس طالبعلم شعور و علم سے کہیں ماورا ہے۔
دوسری جانب دیکھیے۔ پاکستان نے جس پائلٹ کو ہندوستان کے حوالے کیا تھا اس کے بارے میں خبر یہ ہے کہ اسے سکول کے نصاب میں ایک ہیرو کے طور پر پیش کئے جانے کی تیاری ہے۔ یہ مثالیں Metacognition کے ضعف کی نہیں بلکہ اس کے ارتحال کی خبر سناتی ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر اختر علی سید

  •  
  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*