تازہ ترین

امین گنڈا پوری کے بیان نے کشمیرپرپاکستان کا موقف اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی دھجیاں اڑادی۔ سید عباس کاظمی

سکردو(پ،ر)پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینیئر رکن اور سابق صوبائی ڈپٹی کنوینر سید محمد عباس کاظمی نے ایک موقر روزنامے میں شایع شدہ وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کا یہ بیان کہ گلگت بلتستان کے پانچ اضلاع کا ریاست کشمیر سے کوئی تعلق نہیں اتنا زبردست ہے کہ اس بیان نے نہ صرف پچھلے 71سالوں سے پاکستان کا موقف اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی دھجیاں اڑادی ہیں ۔ اس بیان پر گلگت بلتستان کے پندرہ لاکھ لوگوں کو بھنگڑا ڈالنا چاہیے ۔جناب علی امین گنڈاپور وفاقی وزیر کا یہ بیان سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان لشکر رئیسانی کے اس زندہٗ جاوید مقولے سے کم نہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ـ ’’ اصلی ہو یا جعلی ڈگری ڈگری ہوتا ہے‘‘۔ جناب گنڈاپور کے اس زبردست بیان کے بعد اب معاہدہ کراچی ‘ اقوام متحدہ کی قراردادیں‘ پچھلے 71 سالوں سے ریاست کشمیر کا مسٗلہ اور اسی مسٗلہ سے منسلک ہوکر گلگت بلتستان والوں کی سیاسی غلامی اور بے انتہا ذہنی کرب ـ اور ریاست پاکستان کا یہاں انتظامی ‘ دفاعی اور ترقیاتی کاموں میں کیا ہوا کھربوں روپے سب پانی میں جاتاہے ۔اس بیان سے پہلے ایک گمنام سیاسی پلیٹ فارم ’’ کنسٹی چیوشنل رائٹس موومنٹ ‘‘ کے سربراہ شرافت خان کی طرف سے گلگت بلتستان کو تقسیم کرنے اور گلگت و دیامر دویژن کو پاکستان سے ملانے اور بلتستان اور استور کو
متنازعہ کشمیر میں رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔اس کے صرف تین دن بعد وفاقی وزیر کشمیر اور گلگت بلتستان امین علی گنڈاپور صاحب کا یہ بیان آیا ہے۔ لگتا ہے یہ دونون بیان ایک ہی پروگرام کی ابتدائی دو کڑیاں ہیں۔ ایک وفاقی وزیر کا بیان در اصل اس ملک اور وزیر اعظم کی پالیسی کا اعلان ہوتا ہے، اس وقت پاکستان اور بھارت حالت جنگ میں ہے اور ایسے موقع پر ایک متعلقہ وفاقی وزیر ایسا بیان دیتا ہے۔ریاست پاکستان یہ کیوں نہیں سوچتی کہ اگر ہمارا دشمن بھارت وفاقی وزیر کے اسی بیان کو لے کر اقوام متحدہ میں اس موقف کے ساتھ جائے گا کہ’’ پاکستان نے سنہ1948/49 میں ریکارڈ کرایا ہوا اپنا واضح موقف کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست کشمیر کا حصہ ہے اور یہ پاکستان کا حصہ نہیں ہم صرف انتظامی سرپرست کی حیثیت سے وہاں ہیں ‘‘ تو پاکستان کے اپنے موقف کی دھجیاں اڑجاتی ہیں ۔اور عین ممکن ہے کہ بھارت کے ساتھ اقوام متحدہ میں امریکہ کے علاوہ پاکستان مخالف قوتیں بھارت کے اس نئے دعویٰ اور پاکستان کے ایک متعلقہ ذمہ دار وزیرکے اس بیانات کی روشنی میں اقوام متحدہ میں تنازعہ کشمیر کا جو مقدمہ پنڈنگ ہے اسے دوبارہ زیرکاروائی لاکراس کا فیصلہ بھارت کے حق میں کرے تو گلگت بلتستان کے بدقسمت پندرہ لاکھ عوام پر کیا قیامت ٹوٹے گی ۔پاکستانی حکومتوں اور سیاستدانوں کا کیا جاتا ہے انہوں نے تو ’’ ادھر تم ادھر ہم ‘‘ کہہ کر پاکستان کے دو ٹکڑے کیا اور دنیاکی عظیم فوج کے 93لاکھ جوانوں اور افسروں کو بھارت کی جیلوں میں دھکیل کر ڈکار بھی نہیں لی اور اس کے چالیس سال بعدبھی بھٹو زندہ ہے۔عباس کاظمی نے اپنے پارٹی لیڈر اور ملک کے وزیر اعظم سے سوال کیا ہے کہ کیا حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو ریاست اور تنازعہ کشمیر سے الگ کرسکتے ہیں اور اسے پاکستان کا حصہ بناسکتے ہیں ۔تو جلد از جلد کرلیجیئے ۔ہم اندھوں کو اور کیا چاہیے ۔ ہماری دو نسلیں پاکستان کا نعرہ لگاتے لگاتے دنیا سے گذر گئے ۔ چلو دیر آید درست آید۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ خدا را آپ اپنے گردکھڑی اس حصار سے باہر آئیں جہاں سے آپ کو اب گلگت بلتستان کے ساتھ کیا ہورہا ہے نظر نہیں آتا۔یہ نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے۔گلگت بلتستان میں چند پڑھے لکھے اور ان معاملات پر اچھی تجویز دینے والے لوگ بھی ہیں ان سے مشورہ کیجیے ۔وہاں کے مسائل اور ان کا حل وہاں کے لوگ جانتے ہیں۔

  •  
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*