تازہ ترین

گلگت بلتستان سے ہجرت کرنے والوں کے نام۔۔۔

گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر اب سولات اٹھائے جا رہے ہیں،بنیادی انسانی ضروریات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں کے لوگ تیزی سے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں،جہاں ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ہر شعبہ زندگی میں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے،ان کو کوئی شہری حقوق میسر نہیں ہوتے،افغانی مہاجرین کو بھی ان پر فوقیت دی جاتی ہیں،ان کو سرکاری ملازمتوں سے دور رکھا جاتا،چھوٹے چھوٹے پرائیوٹ کمپنیوں میں ملازمت کرتیں ہیں،جہاں انکی نوکری کو کوئی سیکورٹی نہیں ہوتی ،
نقل مکانی کی وجہ سے مقامی آبادی کا گروتھ رک گیا ہے،نقل مکانی سے فائدہ اٹھا کر غیر مقامی لوگوں نے یہاں پر بڑے پیمانے پر زمینیں اور جائیدادیں خریدی ہے۔اور اگر اسی تناسب سے غیر مقامی لوگ یہاں مستقیل طور پر بسنے لگے تو مستقبل قریب میں گلگت بلتستان کا جغرافیہ مکمل طور پر تبدیل ہوتا ہوا نظر ا رہا ہے ،اس کے برعکس ریاست جموں کشمیر کے دوسرے تمام اکائیوں ،جموں،لداخ،کشمیر میں قانون باشندہ ریاست ،،ایس ایس آر،،نافذ العمل ہے،نہ اس کی خلاف ورزی ہو رہی اور نہ ہی کوئی غیر ریاستی باشندہ زمین و جائیداد خرید سکتا ہے،۔گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر و اقصائے تبتہا کا ایک اہم اکائی ہے ،ہماری بدقسمتی اور مقامی نااہل سیاست دانوں کی ملی بھگت ، اور شعور سے عاری ہونے کی وجہ سے نہ ہم متنازعہ خطے کے حقوق حاصل کر پائے، اور نہ ہی ایس ایس آر کو بحال کر سکے۔غیر مقامیوں کی نفوذ کی وجہ سے انے والے وقتوں میں گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورتحال بگڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔حالیہ دنوں گلگت بلتستان میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے،جو اس سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے،جرائم جن میں قتل ،اقدام قتل ،جنسی تشدد وغیرہ کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ذہنیت کو فروغ دینے میں بھی بسا اوقات غیر مقامی لوگ ہی ملوث پائے گئے ہیں،قابل غور پہلو یہ ہے کہ ان غیر مقامی لوگوں کو گلگت بلتستان کا ڈومسائل کن افراد نے فراہم کئے،اور انہوں نے جائیداد کس کے ایما پر خریدیں،اس کی ازسرنو جانچ پڑتال ہونی چائیے اور اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ۔
گلگت بلتستان کے لوگوں سے گزارش ہے کہ اپ غیر ضروری طور پر نقل مکانی سے گریز کریں،جن تشدد پسندانہ معاشروں میں اپ اپنے اولاد کے بہتر مستقبل کے لئے جا رہے ہوتے ہیں،ان معاشروں کی کوکھ میں پلنے والے ہمارے اولاد تشدد پسندانہ سوچ کے سوا کچھ بھی نہیں سیکھ سکتے۔دوسری اہم بات، اپنی جائیداد اور زمین غیر مقامی لوگوں کو فروخت ہر گز نہ کریں،ہم اقوام متحدہ سمت عالمی برادری سے گلگت بلتستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں،اور گلگت بلتستان کے جغرافیہ کو تبدیلی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں ،لوگ نقل مکانی تب کرتے ہیں جب گھر کی دہلیز پر ان کو بنیادی حقوق میسر نہ ہو ،گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کو انکے گھر کی دہلیز پر تمام بنیادی حقوق کی فراہمی کو ریاست پاکستان یقینی بنائیں جس کا وعدہ انہوں نے اقوام متحدہ میں کر چکے ہیں،آج سات دہائیوں کے گزرنے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہیں ہو سکا،گلگت بلتستان کے وہ اضلاع جہاں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں نقل مکانی کی ہے مندرجہ زیل ہیں ،ہنزہ ۔نگر ۔شگر۔سکردو۔غذر ۔استور ۔کھرمنگ اور گانچھے،ان اضلاع کے باشندے زیادہ تر کراچی میں مستقل طور پر قیام پزیر ہیں،کراچی میں پوش علاقوں میں رہنا ان کے لئے قدرے مشکل ہوتا ہے ،اس لئے رہائش کے لئے گارڈن ۔فیڈرل بی ایریا،عباس ٹاؤن ،ابو الاصفہانی روڈ ،کورنگی ،سپر ہائی وے،گلستان جوہر ،سبزی منڈی ،لائنز ایریا،ملیر، لیاقت اباد وغیرہ وہ علاقے ہیں جہاں گگت بلتستان کے مہاجرین بڑی تعداد میں رہائش پزیز ہیں،ان علاقوں میں مقیم گلگت بلتستان کے باسیوں کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا ہیں،گلگت بلتستان کی مقامی حکومت کو انکے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا،نہ سندھ حکومت انکے مسائل سے واقف ہے،ایسے حالات میں قسمت پر لعن طعن کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
تحریر: ظفر اقبال

  •  
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*