تازہ ترین

انسانیت سے برائی جیت رہی ہے۔۔۔

دورقدیم سے عصر حاضر تک بنی نوع انسان جن سختیوں، آزمائشوں اور درد و کرب سے گزرتا رہا ہے،شاید ہی اس کی مثال تاریخ دنیا کے کسی بھی کتاب میں قلم بند کیا گیاہو۔اور ان آزمائشوں اور سختیوں کے طفیل انسانیت نے بہت سے گوہر نایاب ہستیاں پالی ہیں، اس لئے خالق کائنات نے اپنی عظیم کتاب قرآن مجید کا عنوان بھی انسان ہی کو ٹھہرایا، انسان جن میں صبر ابراہیمی ؑ و ایوبؑ ،ایمان نوحؑ و اسماعیل ؑ،علم محمدیﷺو علیؑ ، صبرو بہادری حسینؑ اور گو تم بودھا کی قربانی و حقیقت شناسی اور دوسری طرف نیوٹن کی عقلی کاوشوں،گرمبل ،والٹ کی ایجادات اور دیگر سائنسدانوںکی کا وشیں ،عبدالستارایدھی کی غریب سے ہمدردی اور مادر ٹریسا کی انسانیت سے شفقت ،یہ وہ مثالیں ہیں جو تا قیامت تمام خلق خدا کے مقابلے بنی انسان کو باربار اشرف مخلوقات کی اعزاز کی دفاع میں کامیابی اور تمام مخلوقات خداکے بیچ انسان کی کامیابی کی علم کوہمیشہ اونچا اور آگے رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ان اعلٰی اور عظیم ہستیوں اور ان کے عظیم اوصاف کے بارے میں سوچتا ہوں توانسان اور انسانیت پر فخر و ناز محسوس ہوتا ہے، اور گمان ہوتاہے کہ انسان کو شاید ان ہستیوں کے طفیل روزقیامت مالک کائنات کی عدالت میں نجات اور سرخروئی نصیب ہو سکے۔
لیکن جب آج میں اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں، تو مجھے کہیں بھی صبر ابراہیمی ؑ وایوبؑ و حسینؑ نظر نہیں آتا،دنیا نے خود کوعلم محمدیﷺ و علی ؑ سے عنقریب محردم کردیاہے۔سائنسدان انسانیت کی فلاح وبہود کے لئے کم سوچتا ہے اور انسانوں اور انسانیت کی تباہی کا سامان کی پیداوا ر زیادہ سے زیادہ اور ترسیل میں مصروٖف عمل ہے۔انسان تو انسان،جانور اور قدرتی حسن و جمال بھی انسانی سفاکیت کا نشانہ بنتا جارہا ہے۔بنت حوا کی بے حرمتی تو معمول کا حصّہ بن چکا ہے۔جن میں بنت حوا کی کچھ اپنی کوتاہیاں بھی ہیں۔
ہرملک دوسرے ملک کی تباہ و بربادی کو اپنے لئے باعث نجات اور راہ جنت سمجھتا ہے۔آئے دن قانون کی قتل عام ہواکرتی ہے جس میں قانون کے بنانے والے اور قانون کے محافظوں کا کردار اوّل نمبر پر ہے۔پہلے پیسوں میں سامان بکتے تھے ،اب پیسوں میں انسان بکتا ہے۔پہلے انسان لباس بدلتا تھا اب لباس کے ساتھ انسان چہرے اور نقاب نفسیاتی ضروریات کے حساب سے بد لتا ہے۔ جنگلات کی تباہی کے ذمہ دار بھی انسان ، جنگل کی کٹائی اور نایاب جانوروں کے قتل عام اور ان کو صفئحہ ہستی سے مٹانے میں بھی بدقسمت انسان پیش پیش ہے اور بے زبان جانوروں کی جان کی قیمت بھی بٹورتا ہے۔ انسان کے لئے ایمانداری، پرہیزگاری، انصاف، خوف خدا اور قدرت سے محبت جیسی اقدار صرف کتابی باتیں اور مزاحیہ القابات ہوکر رہ گئی ہیں۔انسان کو نہ اپنے پیغمبروں کے تعلیمات یاد ہیں اور نہ ہی انسانیت کا احترام۔بلکہ خدا کا کلام اور پیغمبروں کی تعلیمات کو انسان انسانیت کے خلاف استعمال کرنے کا ماہر استاد بن گیا ہے۔انسان کو اپنی خوبصورت اور خوشبودار لباس پر اس قدرغروراور فخر ہے کہ قبر کی میلی اور بدبودار کفن سے بے خبر ہوچکا ہے۔انسان اپنی چمکدار سواری پر اتنا خوش ہے کہ دوزخ کی طرف پل بھر کی سفر کو بھول چکا ہے۔غریب اور بے زبان جانوروں کے پیٹ سے بھی نکال کر کھانے والے شاید اس بات سے بے خبر ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انسان کا ماس کھانے والی مخلوق پہلے سے ہی قبر میں تیار کرکے رکھاہے۔
خدمت خلق کے اداروں اور خدمت سے وابسطہ افراد کو ٹائم کا زیاں کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے خدمت کرنے والوں میں ایک منفی احساس جنم لے رہا ہے۔خدمت کو گناہ اور خدمت گار کو مفت کا مزدور سمجھا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے آئے دن رضا کاروں کی تعداد میں کمی رونما ہوتی ہے۔آج دنیا میں خدا ئے کائنات کا شاہکار (انسان) علمی و ذہنی کافربن چکا ہے۔
اللہ تعالٰی جو اپنی مہربانی اور رحم کیلئے اپنی مثال آپ ہیں جو رحیم و رحمان ہیں ،لیکن جب انسان کی سفاکیت اور ظلم کی انتہا کو دیکھتا ہوں تو خدائے کائنات سے بھی رحم کی امید نظر نہیں آتی۔میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا میں اچھے اور نیک انسان باقی نہیں لیکن میرے خیال میں انسانیت سے برائی جیت رہی ہے۔

تحریر : وجاہت عالم

  •  
  • 116
  •  
  •  
  •  
  •  
    116
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*